شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے ـ ہوا میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی ۔ میں اپنے دوست کے ساتھ کرد جوانوں کی پرجوش سیاسی محفل سے نکل گیا۔ ـ ہم نے بازار سے ٹیکسی پکڑی اور گھر کی جانب چل دیے۔ ـ ٹیکسی ڈرائیور نے میرے چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھا؛ عرب ہو؟ ـ میرے جواب دینے سے قبل میرے دوست نے اسے مسکرا کر کہا ؛ نہیں یہ بلوچ ہے کراچی سے آیا ہے ـ ڈرائیور نے فوراً مجھ سے پوچھا "اردو جانتا ہے؟"۔ ـ میں یہ جملہ سن کر حیران رہ گیا۔ ـ میرے لئے ایک کرد کا اردو بولنا حیرت انگیز تھا۔ ـ استفسار پر پتہ چلا موصوف اردو میں صرف یہی ایک جملہ بولنے پر قادر ہیں اور یہ جملہ سیکھنے کا پسِ منظر بھی خاصا دلچسپ ہے ـ
ڈرائیور کے مطابق وہ چند سال قبل سراوان اور پنجگور بارڈر پر مقامی بلوچوں سے مل کر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ کرتے تھے۔ ـ اس کے مطابق وہ پانچ کرد تھے جنہیں زیادہ پیسے کمانے کے لالچ نے بلوچستان پہنچایا۔ ـ مقامی بلوچوں نے بھی ان کی آمد کو خوش آمدید کہا ۔ـ
اس نے بتایا کہ ایک دن انہیں پنجگور میں ایک افغان (غالباً پشتون ہوگا جسے وہ افغان سمجھ رہا تھا) ملا جس نے انہیں بتایا اگر تیل کو پنجگور کی بجائے سیدھا کوئٹہ پہنچایا جائے تو منافع زیادہ ملے گا۔ ـ وہ اس افغان کے ساتھ کوئٹہ چلے گئے جس سے انہیں خاصا فائدہ ہوا۔ ـ دوسرے ٹرپ پر اسی افغان کے مشورے پر مزید امکانات کا جائزہ لینے وہ ژوب پہنچ گئے ـ۔
میں ژوب کے ذکر پر تقریباً اچھل پڑا ـ۔ میں نے کہا بھائی وہاں تو بلوچ بھی شاید ہی جاتے ہوں گے، آپ کیسے چلے گئے؟ ـ اس نے سرد آہ بھر کر خوش دلی سے جواب دیا "کرد ایک دربدر قوم ہے"۔ ـ
ژوب میں ان کے ساتھ ایک ایسا واقعہ ہوگیا جس نے ان کی زندگی بدل دی۔ ـ اس کے مطابق رات کا وقت تھا جب پولیس کی ایک گشتی ٹیم نے ان کو دھر لیا۔ ـ افغان ساتھی نے پولیس کے سامنے ان کو پہچاننے سے انکار کردیا اور پولیس سے مقامی زبان میں معاملہ طے کرکے سگریٹ سلگا کر نکل گیا۔ ـ وہ پہنچ گئے تھانے ـ اب پولیس کردی اور فارسی سے نابلد اور وہ اردو سے ناآشنا۔ ـ بس ایک جملہ ان کی یادداشت میں چپک گیا "اردو جانتا ہے؟" ـ ۔
ڈرائیور کے مطابق ایک پولیس اہلکار نے پوچھا "تم لوگ دشت گرد (دہشت گرد) ہو؟" ـ۔ ایک کم عمر سیانے کرد نے ڈیڑھ ہوشیاری کا مظاہرہ کرکے اثبات میں جواب دیا۔ ـ بس پھر وہ تھے اور پاکستانی پولیس کا تشدد تھا۔ ـ
میں نے پوچھا آپ لوگوں نے کیوں مانا کہ ہم لوگ دہشت گرد ہیں؟ ـ اس نے دوبارہ "دشت گرد" کا تلفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری زبان میں "دشت گردی" کا مطلب کوہ و بیابان میں گھومنا پھرنا ہے اس لئے ہم نے جلدی جلدی جان چھڑانے کے لئے مان لیا مگر اس غلط فہمی نے ہماری جان عذاب میں ڈال دی۔ ـ
پولیس نے پاکستانی خفیہ اداروں سے رابطہ کرکے ہمیں ان کے حوالے کردیا۔ ـ وہ ہمیں کوئٹہ لے آئے ـ۔ خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے جب پوچھا "کہاں کہاں بم پھاڑنے کا منصوبہ بنایا ہے؟"۔ تب بم کے ذکر پر ہمارا ماتھا ٹھنکا ، ہم سمجھ گئے معاملہ گڑبڑ ہے۔ ـ ان کو ہماری زبان نہیں آتی تھی اور جو وہ پوچھ رہے تھے ہمیں وہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ ـ نتیجہ بھیانک تشدد کی صورت میں نکل رہا تھا۔ ـ ہم بس کچھ نام ہی سمجھ پا رہے تھے جیسے "انڈیا" ، "بلوچ" ، "سرمچار" اور "اللہ نذر"۔ ـ
پھر ان کو خدا نے عقل دی، انہوں نے ایک فارسی سمجھنے والے چینی (غالباً ہزارہ) کو بلایا۔ ـ اس چینی کو اللہ سلامت رکھے اس نے ہماری داستان سنی اور ان کو بتایا کہ یہ ایرانی کرد ہیں جو ڈیزل کی اسمگلنگ کے چکر میں آئے ہیں، ان کا دشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ـ ـ خفیہ والوں نے اس کے بعد خود بھی شاید کوئی تحقیق کی ہوگی ـ۔ انہوں نے ہمیں دوبارہ پولیس کے حوالے کردیا۔ ـ عدالت نے غیر قانونی طور پر پاکستان آنے کے جرم میں ہمیں پانچ مہینے کے لئے ہدہ جیل (کوئٹہ) بھیج دیا ـ۔
اس کی داستان بظاہر الم ناک تھی مگر میں اسے مزاحیہ کہانی سمجھ کر مسلسل ہنس رہا تھا۔ ـ میرے لئے کہانی کا مزاحیہ پہلو مگر ابھی بھی باقی تھا ۔
اس نے بتایا جیل میں پہلے دن ہمیں سوکھی روٹی اور ایک عجیب قسم کا بدمزہ سالن دیا گیا۔ ـ پوچھنے پر بتایا گیا یہ دال ہے۔ ـ دوسرے دن پھر دال، تیسرے دن دوبارہ دال، چوتھے دن پھر دال ....... دال دال دال ـ کرد ڈرائیور نے دال کی گردان کچھ اس طرح کی کہ ہنس ہنس کر میرے پیٹ میں بل پڑ گئے ۔ـ
اس نے بتایا کہ ہم نے التجا کی کہ بھائی ہمیں چار لاتیں اور مار دو مگر خدا کے لئے ہمارا کھانا بدل دو مگر پاکستان میں شاید دال زیادہ ہے اس لئے کم بختوں نے ہماری ایک نہ سنی۔ ـ اس کے مطابق بھیڑ کا گوشت ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے ان پانچ مہینوں میں دال کھا کھا کر ہم گوشت کا ذائقہ ہی بھول گئے ـ۔ جسم لاغر ہوگئے، ـ چہرہ مرجھا گیا۔ ـ ہماری حالت پر انہیں کوئی رحم نہ آیا بس دال کھلاتے رہے۔ ـ
پانچ مہینے بعد ہمیں تفتان بارڈر پر ایرانی سرحدی پولیس کے حوالے کیا گیا ـ وہاں سے ہمیں زاہدان پہنچایا گیا پھر زاہدان سے ہم سنندج لائے گئے۔ ـ ہمارا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ ـ سنندج کی عدالت نے غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے کے جرم میں ہمیں تین مہینے کے لئے کردستان کی جیل میں بھیج دیا۔ ـ کردستان کی جیل بہرحال ہدہ سے بہتر ثابت ہوئی، کم از کم اس قابل نفرت سالن جسے دال کہا جاتا ہے سے ہماری جان چھوٹ گئی۔ ـ
ہماری ایک مہینے کی سزا معاف کرکے دو مہینے بعد ہمیں چھوڑ دیا گیا۔ ـ اس کے بعد نہ صرف ہم نے پاکستان جانے سے توبہ کیا بلکہ ہم دوسرے کردوں سے بھی کہتے ہیں کہ "دشت گرد" اور "دال" سے بچنا ہے تو مشرقی بارڈر پر کبھی مت جاؤ ـ۔
اس کہانی میں یقیناً درد کا پہلو ہوگا مگر میں اسے محسوس نہ کرسکا ـ سیامک (میرا دوست) کو بھی اس میں مزاح محسوس ہوا ـ گھر پہنچ کر وہ مسلسل طاہرہ کو "دشت گرد" کہہ کر چھیڑتا رہا ـ۔