نیا جال لائے پرانے شکاری

img

بلوچستان کے"انقلابی" سردار گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ماہر ہیں ،عمران خان بلاوجہ بدنام ہیں

ذوالفقار علی زلفی سیاسی تجزیہ نگار

سردار اختر جان مینگل نے ایک ٹویٹ میں بلوچی وعدہ کیا کہ وہ خواتین کی بے توقیری کو کبھی بھی معاف نہیں کریں گے ۔اس کے بعد انہوں نے بلوچ خواتین کی توہین آمیز گرفتاری کے خلاف وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ (پتہ نہیں وڈھ تا کوئٹہ فاصلہ لانگ کہلاتا بھی ہے یا نہیں) کا اعلان کیا ۔سردار کے اس وعدے و اعلان پر میرا فوری تبصرہ تھا "سردار قابلِ اعتبار نہیں ہیں" ۔

میرے تبصرے پر متعدد ردعمل آئے مگر دو ردعمل دلچسپ لگے ۔ایک صاحب نے کہا؛ تم خود قابلِ اعتبار نہیں ہو ، پتہ نہیں برازیلی ہو یا افریقی ۔دوسرے صاحب نے فرمایا؛ ہمیں جذباتی نہیں ہونا چاہیے، اتحاد وقت کی ضرورت ہے ۔

پہلے صاحب کا تبصرہ مزاحیہ ہے اس لئے جانے دیں ۔دوسرے کے ردعمل پر بحث ہوسکتی ہے ۔

نواب اکبر بگٹی نے زندگی کے آخری وقت میں سنگل بلوچ پارٹی کی تجویز دی جس پر نواب خیر بخش مری نے جواب دیتے کہا؛ سنگل پارٹی نہیں سنگل فکر کی ضرورت ہے ۔نواب مری کی بات اس وقت درست ثابت ہوئی جب مختلف دھڑوں میں بٹے متضاد تفکر کے حامل طلبا نے سنگل اسٹوڈنٹس تنظیم بنائی پھر یہ تنظیم چند مہینوں بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر بکھر گئی ۔ثابت ہوا اگر فکر و نظریہ مختلف ہو تو اتحاد عملیت پسند سیاست میں کسی وقتی مفاد کے حصول کے لئے درست ہوسکتی ہے لیکن انقلاب و آزادی کی تحریک میں یہ توانائی کا ضیاع ہے ۔

سردار اختر جان مینگل اور ان کے ساتھی پاکستان کے پارلیمانی نظام کے اندر اقتدار میں حصہ داری کی سیاست کرتے ہیں ۔اس حصہ داری کے حصول کے لئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اور جاتے رہے ہیں ۔

یاد ہوگا، سردار اختر مینگل ڈیرہ بگٹی گئے اور جلسے میں سخت تقریر کرتے فرمایا "ڈیرہ بگٹی میں ایک گولی بھی چلی تو جواب وڈھ سے دیا جائے گا" ۔ڈیرہ بگٹی کو پاکستانی جیٹ طیاروں نے بمباری کر کرکے تباہ کردیا مگر وڈھ میں پٹاخہ بھی نہ پھوٹا ۔

نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد سردار صاحب پھر گرجے اور دبنگ لہجے میں فرمایا "پاکستان سے ہمارا کچے دھاگے کا رشتہ ہمیشہ کے لئے ٹوٹ گیا" ۔اس اعلان کے چند سالوں بعد سردار پاکستان کی قومی اسمبلی میں پاکستان سے وفاداری کا حلف لیتے نظر آئے ۔

غلام محمد بلوچ و ساتھیوں کی شہادت کے بعد بھی سردار مینگل کا لہجہ حتمی نظر آیا ۔وہ بار بار کہتے تھے ہم پاکستانی حکمرانوں سے تب بات کریں گے جب اقوام متحدہ ضمانت لے ۔اقوام متحدہ نے تو ضمانت نہ لی مگر سردار اختر مینگل۔۔۔۔۔۔۔ 

نوے کی دہائی میں تو سردار اختر مینگل کسی اور ترنگ میں نظر آتے تھے ۔جیسے نواز شریف کی گاڑی ڈرائیو کرنا اور چاغی میں ایٹمی دھماکے کروانے میں معاونت کرنا ۔یہاں تک موصوف تو اس حد تک چلے گئے فرمایا "اگر خدا نخواستہ پاکستان کو کچھ ہوگیا تو ہم بلوچستان کا نام پاکستان رکھ دیں گے" ۔

ہمارے یہ "انقلابی" سردار گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں ماہر ہیں ۔عمران خان بلاوجہ بدنام ہیں یوٹرن لینے میں سردار مینگل آج بھی پہلے نمبر پر ہیں ۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کی نظریاتی سہیلیوں نے صاف شفاف موقف، عوام سے جڑت، بے باک انداز اور انقلابی لہجے کے ساتھ بلوچستان کی عوامی سیاست کو پلٹ کر رکھ دیا ۔انہوں نے ریاستی خوف کی چادر کو تار تار کرکے عوام کو لڑنے کا جذبہ دیا ۔عورت کو مزاحمت کے میدان کا راستہ دکھا کر بلوچ سماج کو پہلی دفعہ نسائی مزاحمت کا روشن مینار بنا دیا ۔ان لڑکیوں نے پارلیمانی قوم پرستوں بالخصوص سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک بلوچ کی دوکانوں پر تالے لگا دیے ۔

ڈاکٹر مالک بلوچ نے نوآبادیاتی فوجی بوٹوں کو مزید مضبوطی سے تھام لیا اور پروپیگنڈہ کرنے لگے میری وزارت اعلی کے دوران بلوچ مسئلہ تقریباً حل ہونے والا تھا ۔ان کے اس پروپیگنڈے کو پاکستانی میڈیا نے بھی آگے بڑھایا اور ڈاکٹر کو ایک آپشن کی صورت پیش کیا ۔چاپلوسی و خوشامد کی ہر حد پار کرنے، پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نمائندہ بھیجنے کے باوجود وہ سیاسی یتیم ہی رہے ۔

اختر مینگل نے دوسرا راستہ اختیار کیا ۔پہلے انہوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی سے نمائشی استعفی دیا جو آج تک منظور نہ ہوا ۔ان کی پارٹی کے اراکین بھی اسمبلیوں میں پوری قوت سے موجود ہیں ۔اس نمائشی استعفی کا بلوچستان میں کوئی اثر نہ ہوا ۔ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی موجودگی میں ان کی ایک نہ چلی ۔دوسرا داؤ کھیلا؛ فرمایا "میں ماہ رنگ کی قیادت میں سیاست کروں گا" ۔یہ تیر بھی خالی گیا ۔ثنا اللہ بلوچ بھی اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کے ذریعے مارکیٹنگ کرتے رہے مگر بے سود ۔

اب جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی صف اول کی قیادت ماسوائے ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے گرفتار ہے تو اس موقع کو غنیمت جان کر پرانا شکاری نیا جال لے آیا ۔اب وہ مارچ کریں گے ۔دلوں کو گرمانے والی تقریریں کریں گے ۔تاں کہ ایک دفعہ پھر بلوچ سیاست میں خود کو متعلقہ بنا سکیں ۔

آج کی تاریخ میں وہ شاید ہی کامیاب ہوسکیں ۔بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت جیلوں میں رہ کر بھی عوام کی رہنمائی کر رہی ہے ۔لوگ آج بھی انہی کو اپنا رہنما سمجھ رہے ہیں ۔کمیٹی کی قیادت جوان ہے، نا تجربے کار ہے مگر وہ دیانت دار اور شفاف ہے ۔وہ تلخیوں اور جبر سے نکلی قیادت ہے اور تلخیوں و جبر میں ہی ان کی سیاسی تربیت ہو رہی ہے ۔سردار اختر مینگل کے ڈرامے اب نہیں چلنے والے ۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔

News Alert

Latest Blog

ShowBiz

Diksha Singh

Diksha Singh

GREEN CITIZEN MEDIA