نامعلوم شاعر کی تلاش
کی محبت تو سیاست کا چلن چھوڑ دیا۔
یہ شعر کچھ ویب سائٹس پر ایک آدھ نام کے ساتھ تو ضرور منسوب ہے لیکن درحقیقت اس خوبصورت شعر اور غزل کا خالق کون ہے اس بارے کوئی مستند حوالہ کم از کم ہماری نظر سے نہیں گزرا۔
اردو ادب اور شاعری کی مستند ویب سائٹ 'ریختہ' پر اس شعر کے ساتھ شاعر 'نامعلوم' لکھا گیا ہے جبکہ چند ایک ویب سائٹ پر اس شعر کی پوری غزل شائع ہو چکی ہے۔ شاعر کا نام علی ظہیر منہاس درج ہےتاہم جب آپ علی ظہیر منہاس کی شاعری تلاش کریں تو کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
یوٹیوب پر انڈیا کے ایک مقامی مشاعرے میں ایک نوجوان اس غزل کے دو اشعار اپنے نام سے پڑھ کر داد وصول کرتے بھی نظر آتے ہیں۔
ہم ذیل میں انٹرنیٹ پر موجود پوری غزل بیان کیے دیتے ہیں۔ اس غزل میں لفظ عشق کی بجائے پیار استعمال ہوا ہے یعنی
کی محبت تو سیاست کا چلن چھوڑ دیا
ہم اگر پیار نا کرتے تو حکومت کرتے
پوری غزل پیش خدمت ہے۔
نہ سہی اور پر اتنی تو عنایت کرتے
اپنے مہمان کو ہنستے ہوئے رخصت کرتے
مبہم الفاظ میں ہم نے تجھے کیا لکھا ہے
تو کبھی روبرو آتا تو وضاحت کرتے
ھم نے غم کو بھی محبت کا تسلسل جانا
ہم کوئی تم تھے کہ دنیا سے شکایت کرتے
ہم نے سوکھی ہوئی شاخوں پہ لہو چھڑکا تھا
پھول اگر اب بھی نہ کھلتے تو قیامت کرتے
کی محبت تو سیاست کا چلن چھوڑ دیا
ہم اگر پیار نہ کرتے تو حکومت کرتے
کتنے دن ہو گئے خاموش ہو تم خیر تو ہے
وقت ملتا تو ذرا فون پہ زحمت کرتے
تجھ کو کھونے کا سرے سے کبھی سوچا ہی نہ تھا
ہم اگر تجھ کو نہ پاتے تو بغاوت کرتے
گونجتا آتا ہے ناراض ہوائوں کا جلوس
گھر میں ہوتے تو چراغوں کی حفاظت کرتے
رتجگے ایسے کہ پتھرا گئیں آنکھیں منہاس
آنکھ لگتی تو کسی خواب کی حسرت کرتے
اردو ادب اور شاعری سے محبت رکھنے والے احباب سے گزارش ہے کہ اس غزل یا شعر کے خالق کا مستند حوالہ تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں