افغان مہاجرین کے انخلا کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان نے اس معاملے کو ٹی ٹی پی کی قیادت کی افغانستان میں موجودگی سے جوڑا ہوا ہے۔ لیکن یہ اور کچھ دیگر معاملات کی وجہ پاکستان اور افغانستان کے کشیدہ تعلقات دشمنی کی حد کو چھونے لگے ہیں۔ اس حوالے سے راقم نے کچھ سرسری تجاویز مرتب کی ہیں جو پوائنٹس کی صورت میں آپ بھی ملاحظہ کریں۔
فوری طور پر پاکستان اور افغانستان کے اہم عہدیداروں اور شخصیات پر مشتمل کمیشن بنایا جائے، یہ کمیشن افغان مہاجرین کی آبرومندانہ واپسی کا مکینزم تیار کرے۔ مہاجرین کے انخلا کا فیصلہ اتفاق رائے سے یہی مشترکہ کمیشن کرے، کمیشن افغان مہاجرین کی کٹیگریز بنائے تاکہ ان کو مرحلہ وار واپس بھیجا جاسکے۔ افغانوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا جائے اور اچھی انویسٹمنٹ کرنے والے افغانوں کو ورک پرمٹ دیا جائے، کمیشن کی مشاورت سے مختلف کٹیگریز کے افغانوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا طریق کار اپنایا جائے، پاکستانی مردوں اور خواتین سے شادی کرنے والے افغانوں کی شہریت کے لئے یونیفارم پالیسی کا اعلان کیا جائے، یو این ایچ سی آر کی وساطت سے عالمی برادری کو آگاہ کیا جائے کہ افغان مہاجرین پاکستان کی معیشت اور محدود وسائل کے حامل انفراسٹرکچر پر کس قدر "بوجھ" ہیں۔ سرکاری سطح پر پاک افغان دوستی بس سروس کا اجرا غلط فہمیوں کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے اشتراک سے پاکستانی اداروں میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو سکالرشپ دی جاسکتی ہے، ایکسچینج پروگرام کے تحت مختلف شعبوں کی شخصیات کو دونوں ممالک کے باہمی دورے کرائے جاسکتے ہیں، افغان عوام کے دل جیتنا پاکستان کے مفاد میں ہے، مغربی سائڈ پر اعتماد سازی کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے، افغان مہاجرین کے انخلا کا معاملہ بعض تنظیموں کی جانب سے ایکسپلائٹ کیا جارہا ہے، افغان مہاجرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا تاثر بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں عمومی طور پر بدگمانیاں پیدا کررہا ہے، افغانوں کے ساتھ سلوک کو پشتونوں کے ساتھ بدسلوکی کے طور پر عام پشتونوں کو "سمجھایا" جاتا ہے، یہ ایک حساس معاملہ ہے، سیاسی اور عسکری قیادت خیر سگالی کے بیانات کے ذریعے نفرت کی آگ کو بجھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، ہندوستان کی پراکسیز کو شکست دینے کے لئے افغانستان کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، افغانستان کے سیلاب یا بارش متاثرین کے لئے امدادی کھیپ بھیجی جائے، پشاور اور جلال آباد کو جڑواں شہر قرار دیکر ہندوستان کی تمام سازشوں کو خاک میں ملایا جاسکتا ہے۔
افغان مریضوں کی سہولت کے لئے طورخم پار جلال آباد میں پاکستان کے نجی یا سرکاری ہسپتالوں کی شاخیں کھولی جاسکتی ہیں، پاک افغان تجارت پر فوکس کرتے ہوئے افغان مہاجرین کا معاملہ دیکھا جائے، ٹی ٹی پی کے معاملے کے ساتھ افغان مہاجرین کا مسئلہ نہ جوڑا جائے، پاکستان اپنی مغربی سرحد پر مسائل کم سے کم کرنے کی جانب توجہ دے، افغان طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان آکر کسی تیسرے ملک منتقل ہونے کی خواہش رکھنے والے مہاجرین کو سہولت فراہم کی جائے، پاک افغان یونیورسٹیز کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے ایم او یوز دستخط کئے جائیں، ان سارے مثبت اقدامات کا نکتہ آغاز افغان مہاجرین کے معاملے میں ڈھونڈا جائے۔
یقین جانیں ہماری اسٹیبلشمنٹ نے تھوڑی سی عقل استعمال کی تو ہم افغانستان میں موجود مواقع سے بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں۔ معاملہ سیاسی حکومت کے ہاتھ میں ہے ہی نہیں اسی لئے پاک افغان کشیدگی سے فائدہ اٹھانے والے عناصر پوری طرح سرگرم ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے چالیس پینتالیس سال کی مہمان نوازی کا "احسان" یوں چند افراد کی محدود سوچ کی نذر نہ کیا جائے بلکہ افغانستان کے اندر سفیر پیدا کئے جائیں۔ ہوش اور عقل کا یہی تقاضا ہے کہ دونوں ممالک آس پاس نظر رکھیں اور دیکھیں کے ہمارے آس پڑوس کے ممالک کس قدر آگے بڑھے ہیں اور پاکستان اور افغانستان ابھی تک اندھیروں میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں، کیوں؟
اسلام آباد اور کابل کو قریب لانے کے لئے زور زبردستی کے بجائے تدبر اور تدبیر سے کام لینا ہوگا ورنہ کبھی اکھنڈ بھارت کا نقشہ بھارتی پارلیمنٹ میں آویزاں کیا جائے گا تو کبھی کوئی اور مشترکہ دشمن اپنے مفادات کی آبیاری کرتا رہے گا اور ہم بلیم گیم کھیلتے کھیلتے مارے جائیں گے۔