img

الیکشن کمیشن کی نئی پابندیاں ۔ نتائج خوفناک ہو سکتے ہیں

 

وطن عزیز میں گذشتہ 75 برس سے جو کچھ ہورہا ہے اس پر نہ ہی کوئی غور کرنے کی زحمت کرنے میں سنجیدہ نظر آتا ہے اور ظاہر ہے کہ غور وفکر نہ کرنے کی وجہ سے کوئی سبق بھی نہیں سیکھا گیا حالانکہ ہم ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل حصہ بھی گنوا بیٹھے ہیں۔

گذشتہ روز ہی پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد والے اپنی مرضی کرنا چاہتے ہیں مگر انہوں نے جو سیاسی پارٹیاں ماضی میں بنائیں یا اب بنا رہے ہیں ان کے پاس عوامی مسائل کا حل نہیں،اور اگر اب بھی اسلام آباد والے خود مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو کوشش کرکے دیکھ لیں۔

ملک میں سیاسی انجینئرنگ کی تاریخ تقسیم ہند کے بعد سے ہی جاری ہے اور لاڈلوں کی فہرست بہت طویل ہیں،آخری سند یافتہ لاڈلے عمران خان کے دور میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے ،اب شور اٹھ رہا ہے کہ نواز شریف نئے لاڈلے ہیں ۔

وطن عزیز میں لاڈلہ کلچر کے باعث انتخابات کی ساکھ پر ہمیشہ سوالات اٹھتے رہے ہیں یہاں تک کہ نتائج تسلیم کرنے سے انکار کا خمیازہ آج بنگلہ دیش کی صورت میں ہمارے لاڈلوں اور لاڈلہ سازوں کے سامنے ہے مگر کیا کیجئے کہ پنجابی کہاوت کے مصداق نہ کسی کو عقل ہے نہ ہی موت۔

اس سب صورتحال سے صرف ملک اور عوام ہی متاثر ہورہے ہیں کیونکہ لاڈلے اور لاڈلہ ساز اس طبقے سے تعلق نہیں رکھتے جن کے گلے میں عوام کے نام کا طوق ہے۔

حساس اداروں کے پاس ایسی رپورٹس موجود ہیں کہ پی ٹی آئی انتخابات کو مشکوک و متنازعہ بنانے کا منصوبہ تیار کرچکی ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں عالمی میڈیا میں متنازعہ مواد کی اشاعت کی جارہی ہے اور 8 فروری کو اگر انتخابی نتائج ان کی مرضی کے مطابق نہ آئے تو ایک دفعہ پھر ملک میں عدم استحکام کے لئے بھرپور زور لگانے کا مرحلہ شروع ہوجائے گا۔

اب الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک پریس ریلیز سامنے آیاہے جس میں اس امر کا اظہار کیا گیا ہے کہ 8 فروری کے انتخابات کے نتائج 9 فروری کو رات 1 بجے جاری کئے جائیں گے مگر یہ جاری شدہ نتائج بھی غیر حتمی ہونگے،جبکہ کمیشن کی جانب سے نتائج کے اجراء سے قبل الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو بھی اپنے ذرائع سے نتائج جاری کرنے سے روکنے کا حکم بھی اسی پریس ریلیز میں موجود ہے-

حساس ادارے کی رپورٹ اور الیکشن کمیشن کے اس پریس ریلیز کا تجزیہ کیا جائے تو جو صورتحال سامنے آتی ہے وہ کسی بھی طور ملک اور عوام کے مفاد سے میل نہیں رکھتی اور ملک میں انتخابات پر جو سوالات ماضی میں اٹھتے رہے ہیں وہ اپنی جگہ مگر اس بار کے انتخابات جس قدر حساس نوعیت کے ہیں اس سے قبل کبھی نہیں تھے۔

یہ عین ممکن ہے کہ انتخابات کے نتائج کے اجراء سے متعلق کمیشن کے اس فیصلے کو عدلیہ میں چیلنج کر دیا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو انتخابات کے بعد کی جو ممکنہ صورتحال اس احقر کو نظر آرہی ہے وہ نہ صرف خطرناک ہوگی بلکہ اس میں خوفناکی کا عنصر بھی غالب ہوگا۔

خدا کرے کہ فیصلہ سازوں کو مخصوص مفادات کے بجائے ملک اور عوام کے مفاد میں فیصلے سازی کی توفیق ملے ،کیونکہ گذشتہ 75 برس کے تجربات کے بعد بھی ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو پھر مستقبل کا مورخ جو لکھے گا اس کو پڑھنے کے لئے شاید ہی کوئی حوصلہ کرسکے۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA