img

الیکشن کیسے بکا؟ دھاندلی کے ہوش رُبا انکشافات

 

وقت کے ساتھ ساتھ آٹھ فروری 2024 کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں اور خرید و فروخت کے بارے میں معلومات اور حقائق بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ حقائق حقیقی طور پر پاکستان جیسے مملکت اسلامیہ جمہوریہ کے  صرف نام نہیں بلکہ اس کے ماضی حال اور مستقبل پر ایسے کالے داغ ثابت ہو رہے ہیں جن کو مٹانا دنیا بھر کے سمندروں اور جدید طرز کی بنائی گئی واشنگ مشینوں اور واشنگ پاوڈر سے بھی ممکن نہیں ۔

ویسے تو مملکت خداداد پاکستان میں انتخابات  ہمیشہ سے متنازعہ رہے ہیں مگر اس بار جو کچھ ہوا تو اس کی نظیر ماضی میں نہیں مل سکتی۔ اگر خیبر پختونخوا  کے حوالے سے   دیکھا جائے تو یہاں سب سے پہلے دھاندلی کا آغاز  1946 کے متنازعہ ریفرینڈم سے ہوا تھا جس میں انگریزوں کے کہنے پر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے سرداروں۔ خان بہادروں۔ نوابوں۔ خوانین ۔ زکوڑیوں۔ مانگی والوں۔ سئیدو ں اور انگریز سرکار کے تنخوادار ملاؤں نے جی بھر کر ایک کے بجائے دو تین نہیں بلکہ درجنوں ووٹ ڈالے تھے۔

 اس وقت  کےایک پیر محترم نہایت فخریہ انداز میں از خود پانچ سو ووٹ ڈالنے کا اقرار کرکے جنت الفردوس میں جانے کا دعویٰ بھی کرتے رہے تھے ۔ اسی طرح 64۔63 19کے صدارتی انتخابات میں ڈکٹیٹر ایوب خان نے نہ صرف سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ بلکہ برطانوی حکمرانوں کے وفاداروں کے ذریعے محترمہ فاطمہ جناح کو منظم دھاندلی سے ہرانے کا اعزاز حاصل کرلیا تھا۔ تاہم آج بھی دنیا بھر میں محترمہ فاطمہ جناح کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے اور ایوب خان کے علاوہ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے  نام حقارت سے پکارے جاتے ہیں۔

بہر حال بات ہو رہی تھی آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کے بارے میں۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے انتخابات میں جیت اس طرح حاصل کی ہے جس طرح 2002 کے عام انتخابات میں داخلی اور خارجی قوتوں نے مل کر متحدہ مجلس عمل کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت برتری دلوائی تھی۔ اس بار  تو بلکہ خیبر پختونخوا میں 2002 سے بھی چار قدم آگے  بڑھ کر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی دلجوئی کر دی گئی ہے ۔  بعض حلقوں میں تو پی ٹی آئی سے منسلک امیدواروں کو  متحدہ عرب امارات  یعنی دبئی کے ٹیلی فون نمبر کے ذریعے پشاور کے نامی گرامی صرافوں ( کرنسی کے تاجروں ) کو متعلقہ رقم پہنچانے کا کہا جاتا تھا ۔ اب اس انتخابی ڈیل یا سودے کا صحیح اندازہ زیر قلم لانا بہت مشکل ہے مگر اس خفیہ سودے کے مکمل اعداد وشمار بہت جلد منظر عام پر آنے والے ہیں ۔

پشاور میں اس انتخابی یا کالی رات کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کی لیں دین ہوئی ہے ۔ ایک معتبر گھرانے سے لگ بھگ ایک ارب روپے کی وصولی کے باوجود دھوکہ کیا گیا ہے ۔ ایک امیدوار جو نتائج کے مطابق چھٹے یا ساتویں نمبر پر تھا کے گھر سے دو بوریوں میں بند نوٹوں کی گٹھڑیاں ایک لینڈ کروزر میں نامعلوم فرد یا افراد کیلئے روانہ کر دی گئی تھیں ۔ اسی امیدوار نے مبینہ طور پر فارم 47 ملنے کے بعد متعلقہ افسران کو نوٹوں سے بھری دو بوریوں  کے علاوہ کروڑوں روپے کی مزیدادائیگی کی ہے ۔

پشاور کے نام نہاد پوش علاقے میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے امریکی ڈالرز کے کھرب پتی تاجر کے ایک وفادار کو بھی کروڑوں روپے کی ادائیگی کے عوض نہ صرف چھٹے نمبر سے پہلے نمبر پر لایا گیا بلکہ جیتنے والے کے ووٹ اس کے اور اس کے ووٹ جیتنے والے کے حصے میں ڈال دیے گئے ۔

پشاور سے ملحقہ قبائلی علاقے میں ایک مالدار گھرانے کو بھاری رقوم کی ادائیگی کے باوجود شکست خوردوں کے کھاتے میں ڈالا گیا ہے ۔ وجہ یہ بتائی جاتی  ہے کہ مالدار شخصیت کی ادائیگی حکام بالا تک نہیں پہنچی تھی اور وہ رقم بروکر کھا گیاتھا۔ پشاور ہی سے ایک امیدوار کو اب دس کروڑ کی واپسی نہیں کی جا رہی  ۔ ایک امیدوار نے کسی اور کے بجائے متعلقہ ٹیلیفون کرنے والے کو ادائیگی پر اصرار کیا تو اسے وقت سے قبل شکست خوردہ قرار  دےدیا گیا ۔ پشاور کی سطح پر  ایک مذہبی سیاسی جماعت سمیت چار۔ پانچ دیگر جماعتوں کے کھرب پتیوں نے اس بہتی گنگا میں بھر پور نہانے کا شرف  حاصل کیا ہے ۔

 یہ تو صرف پشاور کہ سطح تک انتخابی سودوں کی تفصیلات ہیں تاہم بتایا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں اس بار انتخابات دیدہ اور نادیدہ حکام بالا کیلئے یورپی اور امریکی لاٹریوں سے کم نہ تھے۔ نہ صرف الیکشن کمیشن آف پاکستان بلکہ عدالت عظمٰی کو بھی ان انتخابی سودوں کے بارے میں خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیئے اور اگر یہ اہم ریاستی ادارے خاموشی پر اکتفا کرتے ہیں تو پھر اس قسم کے انتخابی ڈرامے رچانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

 

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA