عجیب اتفاق ہے کہ اسلام آباد کی بیکار ،بے اختیار اور محکوم اقتدار کی کرسی کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ 2011 سے سیاسی محاذ آرائی میں الجھنے کے باوجود پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے قائدین موثر مقتدر اداروں کی خوشنودی اور وفاداری میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کے درپے ہیں۔ اس وقت بلوچستان میں بے بس بلوچ عوام بالخصوص نہتی خواتین اور پاکستان کو روسی یلغار سے بچانے والے افغان باشندوں کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک روا رکھے جانے کے علاوہ معدنیات کے بارے میں ایک نئے قانون پر بحث و مباحثہ زور و شور سے جاری ہے ۔
اس سے پہلے کہ اس مجوزہ قانون کے بارے میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کردہ ایک تحریک کو زیر قلم لایا جائے، کہا جاتا کہ اس قانون کی منظوری سے افواج پاکستان بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر ملک بھر کے معدنی وسائل کے مالک بن جائیں گے اور وہ ان معدنی وسائل کو استعمال یا بروئے کار لانے کے لئے کسی بھی بیرونی سرمایہ کار، ملک یا بین الاقوامی ادارے کے ساتھ معاہدے کرنے میں آزاد ہوں گے ۔
ویسے تو برطانوی نوآبادیاتی دور کی ابتدا ہی سے آرمی آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت افواج کسی بھی وقت کہیں پر تعمیرات اور کیمپس قائم کرنے میں آزاد ہیں مگر اگست 1947 کے بعد اس قانون میں وضع کردہ اختیارات میں کچھ زیادہ اضافہ ہوگیا جبکہ دہشت گردی سے بھی بہت زیادہ استفادہ حاصل کیا گیا ۔ ملک کے بیشتر علاقوں جہاں پر برطانوی نوآبادیاتی دور میں کنٹونمنٹ نہیں تھے وہاں پر مختلف وجوہات کی بنیاد پر سیکیورٹی اداروں کو وسعت دی گئی۔ کئی ایک آزاد اور خودمختار ریاستوں بالخصوص ملاکنڈ ڈویژن میں شامل دیر سوات چترال وغیرہ اب مکمل طور پر کنٹونمنٹ ایریاز میں تبدیل ہوچکے ہیں۔کنٹونمنٹس کے علاوہ دیگر معاشی تجارتی اور زرعی مقاصد بھی حاصل کئے گئے ۔
سیاحت کا شعبہ بھی گرین ٹورز کے نام پر اور زرعی اراضی بھی تقریباً اب مقتدر اداروں کے زیر تسلط ہی ہے ۔ چلغوزے، کوئلے ، کرومائیٹ وغیرہ بھی اب عام کان کنوں اور تاجروں کی پہنچ سے دور ہیں ۔ ذرائع ابلاغ کی رہی سہی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے درجنوں کنٹرولڈ ادارے قائم گئے ہیں اور ان اداروں پر کروڑوں روپے ماہانہ خرچ کرنے کے باوجود ابھی تک عوام کو قائل کرنے کے لئے کوئی موثر بیانیہ سامنے نہیں لایا جا سکا ہے ۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا کے ماربل لیز ہولڈرز کی تنظیم فرنٹیئر مائنراونر ایسوسی ایشن نے وفاق کی جانب سے بنائی گئی ایس ائی ایف سی کو صوبے کی معاشی خود مختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایکٹ کے نفاذ سے صوبے کے مائن منرلز کااربوں روپے کا ریونیو ختم ہو جائے گا، ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے ۔ جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں باجوڑ سے رکن نثار باز نے بھی اس مجوزہ قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اسمبلی میں ایک تحریک پیش کی ۔
فرنٹیئر مائنرز ایسوسی ایشن 1986 سے رجسٹر تنظیم ہے مگر وزیراعلیٰ نے اس تنظیم کے بجائے ایک نام نہاد منرل ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مائن ہولڈرز کو اس مجوذہ قانون پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ فرنٹیئر مائن اونر ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا کے عہدیداروں نے پشاور پریس کلب میں میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فرنٹیئر مائنر ایسوسی ایشن نے بار بار ایس ائی ایف سی کے حوالے سے وزیراعلیٰ کو خطوط لکھ کر اور پریس کانفرنس کر کے ملاقات کے لیے وقت مانگا تاکہ صوبے کے اربوں روپے کے ریوینیو کو بچایا جا سکے تاہم گزشتہ روز اسی تنظیم کی دی گئی سفارشات کو یکسر نظر انداز کر کے فائنل ڈرافٹ تیار کیا گیا جو صوبائی اسمبلی سے منظور کروانے کے لیے چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ کو بھیجا گیا انہوں نے کہا کہ نام نہاد منرل ایسوسی ایشن نمائندوں سے ملاقات کر وائی گئی جو صوبہ خیبر پختون خوا کے مائنڈ اینڈ منرل ایسوسی ایشن کی نمائندگی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سمال سکیل کے ہزاروں لوگوں ملازمین اسٹاف ٹیکنیکل سٹاف مالکان کو بے روزگار کرنے کے اس ایکٹ کو اگر ہم سے مشاورت کے بغیر منظور کر لیا گیا تو یہ صوبے کے معاشی مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک قدم ہوگا جو صوبائی خود مختاری کے خلاف ہے ۔
اسی طرح ممبر صوبائی اسمبلی نثار باز نے پیش کردہ تحریک میں کہا ہے کہ عید کے پانچویں دن، یعنی 4 اپریل کو صوبائی اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں "مائننگ اینڈ منرل" کے عنوان سے 139 صفحات پر مشتمل ایک متنازع بل پیش کیا گیا، جس کے اثرات نہ صرف صوبائی خودمختاری بلکہ وفاقی ڈھانچے کی اساس پر بھی گہرے اور خطرناک مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس بل کی پیشکش بظاہر تو معدنی وسائل کے بہتر نظم و نسق کے نام پر کی گئی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک منظم سیاسی منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جو اٹھارویں آئینی ترمیم میں دی گئی صوبائی خودمختاری کو غیر مؤثر بنانے اور قدرتی وسائل پر مرکز کے اختیار کو دوبارہ مسلط کرنے کی کوشش ہے۔
اٹھارویں ترمیم، جو 2010 میں ایک تاریخی سیاسی اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی تھی، نے پہلی بار پاکستان کی محکوم قوموں کو ان کے وسائل پر حقِ ملکیت دیا۔ اس ترمیم کے تحت معدنیات، تیل، گیس، اور دیگر قدرتی ذخائر پر صوبوں کو اختیار دیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے قدرتی وسائل کو اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لا سکیں۔ لیکن حالیہ قانون سازی کا مقصد ان ہی وسائل پر مرکز کا کنٹرول دوبارہ قائم کرنا ہے، جسے کسی طور بھی آئینی، اخلاقی یا سیاسی جواز حاصل نہیں۔ نثار باز کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نافذ ہونے کی صورت میں، تمام معدنیات، خواہ وہ زمین کی سطح پر ہوں یا زیر زمین، وفاق کے اختیار میں چلی جائیں گی۔ نتیجتاً، وہ قرضے، جو وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لیے، اور جن کا استعمال عموماً اسٹیبلشمنٹ کی اسلحہ خریداری یا دیگر غیر پیداواری سرگرمیوں میں ہوا، ان کا بوجھ اب صوبوں پر ڈالا جائے گا۔ گویا، محکوم قوموں کے وسائل کو گروی رکھ کر، ان پر زبردستی مالیاتی غلامی مسلط کی جائے گی۔ باز کے بقول یہ محض ایک بل نہیں، بلکہ ایک گہری نوآبادیاتی سازش ہے، جو کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ، مسلم لیگ کی وفاقی حکومت، بالخصوص پنجاب کی حکمران اشرافیہ، اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ سے عملی شکل اختیار کر رہی ہے۔ اس عمل سے نہ صرف اٹھارویں ترمیم کی روح پامال ہو رہی ہے بلکہ پاکستان کی وفاقی وحدت بھی خطرے میں ڈال دی گئی ہے۔ نثار باز نے مجوزہ قانون کے منفی اثرات کی پیش بینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ ہمیں قیام پاکستان کے بعد کی اُس پالیسی کی یاد دلاتا ہے، جس میں مغربی پاکستان کی اشرافیہ نے مشرقی پاکستان کے قدرتی وسائل کو استحصال کا نشانہ بنایا تھا۔ آج وہی تاریخ دہرائی جا رہی ہے ، صرف کردار بدلے ہیں، سازش کی نوعیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ صوبے، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان، اس غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام کے خلاف متحد ہو جائیں۔ علمی حلقے، وکلاء، طلباء، اور سیاسی کارکنان کو اس بل کی مزاحمت کرنی چاہیے تاکہ قدرتی وسائل کے تحفظ، آئینی بالادستی، اور صوبائی خودمختاری کا دفاع کیا جا سکے۔ اگر اس بل کو روکا نہ گیا تو آنے والی نسلیں صرف استحصال شدہ زمینیں ہی نہیں، بلکہ ایک غلامانہ معیشت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی خودی کے ساتھ زندہ رہیں گی۔
عین اسی روز اسلام آباد میں معدنیات کو بروئے کار لانے کے لئے بین الاقوامی کانفرنس کے بارے میں ممبر صوبائی اسمبلی نے تحریک کے آخر میں لکھا ہے کہ آج استعمار آباد میں ایک سمٹ کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں 300 سے زیادہ عالمی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، اور ہمارے ہی وسائل پر وہاں سرمایہ کاروں کے ساتھ ڈیل ہورہی ہیں، جبکہ اس مظلوم اور محکوم صوبے کا وہاں کوئی والی وراث موجود نہیں تھا جو اپنے قومی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو جواب دیتے۔انہوں نے واضح الفاظ میں اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سازش کو بے نقاب کرینگے ۔