کیا یہ ممکن ہے کہ غزہ اور ویسٹ بینک کو ہمیشہ کے لیے بنجا من نتن یاہو کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ چھبیس ہزار انسانوں کے سفاکانہ قتل کے بعد بھی معاملات کو پرانی ڈگر پر چلنے دیا جائے؟
اسرائیلی عوام اور انکے حکمران تو ایسا ہی چاہتے ہیں۔ پونے پانچ ملین بے بس فلسطینی نہ صرف ان کے خبط عظمت کو تقویت پہنچاتے ہیں بلکہ وہ ان کے ایک علاقائی طاقت ہونے کے تصور کو بھی جواز مہیا کرتے ہیں۔ اسرائیلی اس شاہانہ منصب کو چھوڑنے پر کیوں راضی ہوں گے۔ اس اوج ثریا سے نیچے اترنے پرانہیں صرف امریکہ ہی راضی کر سکتا ہے۔ کیا امریکہ ایسا کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ آجکل واشنگٹن اور لندن دونوں دارالخلافوں سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے؟
اسرائیل اگر ریاست فلسطین کو تسلیم نہ کرے تو امریکہ اور برطانیہ کے ارادوں اور اعلانات سے کیا فرق پڑ ے گا؟ ابھی تو جنگ جاری ہے ۔ اسرائیل اپنے گلے میں ایک نسل کش ریاست کا طوق ڈالنے کے بعد بھی ہر روز سینکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک کر رہا ہے۔ وہ کسی ایسی ریاست کو کیوں تسلیم کرے گا جسکی جغرافیائی سرحدیں ہی طے نہ ہوئی ہوں۔ کیا وہ یروشلم کی تقسیم پر آمادہ ہو جائیگا۔ کیا فلسطینی اپنے آباؤ اجداد کی دھرتی کو ہمیشہ کے لیے یہودیوں کے حوالے کر کے صرف مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر اکتفا کر لیں گے۔ جو مسائل پون صدی سے لاینحل چلے آ رہے ہیں وہ چند ماہ میں کیسے حل ہو سکتے ہیں ؟
ان تمام سوالوں کا یہ جواب دیا جا رہا ہے کہ اگر اس تنازعے کا کوئی دیر پا حل نہ ڈھونڈا گیا تو غزہ کا المیہ دوبارہ بھی رو نما ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہوجاتاہے تو پھر یہ سوال پیدا ہو گا کہ امریکہ کے مسلط کیے ہوے ورلڈ آرڈر کی کیا ضرورت ہے۔ کیا اس نام کا کوئی نظام موجود بھی ہے یا نہیں۔
آج اگرمغربی دارالخلافوں میں ایک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی بات ہو رہی ہے تو یہ فلسطینیوں کے دکھوں کے مداوے کے لیے نہیں ہو رہی بلکہ یہ امریکی ورلڈ آرڈر کو بچانے کے لیے ہو رہی ہے۔ یورپی ممالک پوچھ رہے ہیں کہ اگر انکے جہاز انکی مصنوعات دنیا کی نصف آبادی والے بر اعظم ایشیا تک نہیں پہنچا سکتے تو انکی معیشتوں کا کیا بنے گا۔ یورپی یونین کے انتیس ممالک کی معیشتیں پہلے ہی سے کورونا وائرس اور یوکرین جنگ کے بوجھ تلے کراہ رہی تھیں‘ اب بحیرۂ احمر اور سویز کنال کے راستے بھی ان پرحوثی جنگجوؤں نے بند کر دیے ہیں۔آج کل ایشیا سے یورپ‘ تیل اودیگر مصنوعات لیجانے والے بحری جہاز بحیرۂ روم کو چھوڑ کر افریقی ممالک سے ہوتے ہوئے یورپ پہنچتے ہیں۔ جہاز رانی کی کمپنیوں نے طویل فاصلوں کی وجہ سے کرایے اتنے بڑھا دیے ہیں کہ تاجروں کے لیے ان کی ادائیگی ممکن نہیں رہی۔
امریکی قیادت جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کو ملتوی کر سکتی تھی کرتی رہی۔ اب صرف یورپ ہی سے نہیں امریکہ کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ اسرائیل کو پورے عالمی نظام کو ہائی جیک کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ آوازیں اگر چہ کہ اتنی توانا نہیں جتنا کہ امریکی سیاست پر یہودیوں کا غلبہ ہے مگر امریکہ میں یہودیوں کی نئی نسل اسرائیل پر اس طرح جان نچھاور نہیں کرتی جس طرح انکے آباؤ اجداد کرتے تھے۔ امریکی نوجوان‘ خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہو ‘ غزہ میں اسرائیلی بربریت کے حق میں نہیں ہیں۔اس طبقے نے صدر بائیڈن کی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ اسی لیے کئی سرویز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت صدر بائیڈن سے زیادہ ہے۔ ڈیمو کریٹک پارٹی جانتی ہے کہ اسنے 2020 کا الیکشن کالج کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ووٹوں کی مدد سے جیتا تھا ۔ اب اگر انہیں راضی نہیں کیا جاتا تو رواں سال نومبر کے صدارتی انتخاب میں فتح ممکن نہ ہو گی۔ اسی لیے آجکل ڈیمو کریٹک پارٹی کے حامی تجزیہ نگار صدر بائیڈن کوایک نئی مڈل ایسٹ ڈاکٹرائن پر غورو فکر کی دعوت دے رہے ہیں۔
ممتاز کالم نگار ٹام فریڈ مین کی پیش کردہ اس ڈاکٹرائن کے پہلے مرحلے میں ویسٹ بینک پر اسرائیل کیساتھ مل کر حکومت کرنے والی فلسطینی اتھارٹی کو فعال کیا جائیگا: اسکے اداروں کو اتنا مضبوط بنایا جائیگا کہ وہ ایک آزاد حیثیت میں مغربی کنارے کی پونے تین ملین آبادی کے علاوہ غزہ کے دوملین لوگوں کو بھی ایک متحرک قیادت مہیا کر سکے۔ مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر صحافی ٹام فریڈ مین نے دو فروری کو دی نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونیوالے کالم میں لکھا ہے کہ اگر صدر بائیڈن نے فلسطین کے مسئلے کو اہمیت نہ دی تو وہ اپنی صدارت کے علاوہ امریکی ورلڈ آرڈڑ کو بھی داؤ پر لگا دیں گے۔ ٹام فریڈ مین نے لکھا ہے کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے کئی ماہرین سے بات چیت کے بعد بائیڈن ڈاکٹرائن کے خدو خال مرتب کیے ہیں۔اسکے مطابق سعودی عرب کواگر فلسطینی ریاست کے قیام کا یقین دلا دیا جائے تو وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے میں پس و پیش نہیں کرے گا۔کالم نگار کی رائے میں اسرائیلی عوام بھی بلآخر کسی ایسی فلسطینی ریاست کو قبول کر لیں گے جو عسکری طاقت نہ رکھتی ہو۔ صدر بائیڈن کو ان کے دوستوں نے ایک ڈاکٹرائن تو مہیا کر دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں یا نہیں۔