img

بزنجو صاحب کے ہیرے یا نگینے

مرحوم و مغفور ترقی پسند اور قوم پرست سیاسی رہنما محترم میر غوث بخش بزنجو نے لگ بھگ 1986 میں ان کی اس وقت کی جماعت پاکستان نیشنل پارٹی سے علیحدہ ہونے والے ان ساتھیوں کیلئے ہیرے کا لقب دیا جنہوں نے دیگر تین سیاسی جماعتوں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی۔ سندھ عوامی تحریک اور پاکستان مزدور کسان پارٹی کے ساتھ مل کر عوامی نیشنل پارٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا ۔

 بزنجو صاحب کے یہ ہیرو اب لگ بھگ ایک درجن سے زائد سیاسی جماعتوں میں بکھرے ہوئے ہیں مگر ان میں چند ایک خصوصیات ہیں جن میں  ہر ایک فورم پر  عوامی نیشنل پارٹی کی مخالفت کرنا اور ایک دوسرے کے ساتھ رابطے رکھنا سر فہرست ہے ۔ اُس زمانے میں  پی این پی کے جس گروپ یا دھڑے نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اسکی سربراہی مرحوم لطیف آفریدی ایڈوکیٹ کر رہے تھے اسی بنیاد پر یہ تمام ہیرے مرحوم لطیف آفریدی کے عزت و  احترام میں بھی متحد اور متفق تھے ۔ لطیف آفریدی صاحب کی وفات کے بعد اب ان کے دوستوں اور بہی خواہوں نے ایک تنظیم قائم کر دی ہے اور لطیف آفریدی صاحب کی وفات کے ایک سال پوری ہونے کے بعد اسی تنظیم نے کئی ایک تقاریب کا اہتمام کرکے مرحوم لطیف آفریدی کو ان کی سیاسی ، سماجی ،قومی اور عدالتوں میں سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگوں کو مفت خدمات فراہم کرنے پر زبردست انداز میں خراج عقیدت پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔

ان پروگراموں میں پشاور پریس کلب میں سولہ جنوری اور چارسدہ میں دو مارچ کو ایسے پروگراموں کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے ان کے دوستوں،ساتھیوں اور شاگردوں نے شرکت کی ۔ اس کاوش کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے ۔ لطیف آفریدی صاحب کے ساتھ ملنے جلنے اور کبھی کبھار بحث و مباحثے میں الجھنے کی گستاخی کرنے سے یہ اخذ کیا گیا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں ترقی پسند ہونے سے زیادہ پختون قوم پرست ، انسان دوست اور جمہوری اقدار کے لئے کوشاں فرد تھے ۔ بعض اوقات ان کے ارد گرد جمع ہونے والوں کی باتوں میں آکر انہوں نے سیاسی میدان میں کچھ ایسے فیصلے کیے جن کی وجہ سے ملکی سیاست میں وہ مقام حاصل نہ کرسکے جس کے وہ حقدار تھے ۔ بہر حال اب لطیف آفریدی صاحب اس دنیا میں نہیں رہے  لہٰذا ان کو یاد رکھنا نہ صرف ان کے دوستوں اور رشتہ داروں بلکہ تمام پختونوں کا فرض بنتا ہے ۔

پشاور اور چارسدہ میں منعقد کی جانے والی تقاریب کے موقع پر دیکھا گیا کہ لطیف آفریدی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں اکثریت مرحوم غوث بخش بزنجو صاحب کی پاکستان نیشنل پارٹی کی تھی جنہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کے تشکیل سے بہت سے امیدیں وابستہ کی گئی تھیں مگر بدقسمتی یہ ہوئی کہ تشکیل کے چند ہی مہینوں کے بعد سب سے پہلے کامل بنگش کے سربراہی میں مزدور کسان پارٹی نے اس سے علیحدگی اختیار کی جبکہ 1988 کے انتخابات کے بعد سندھ عوامی تحریک  نےبھی علیحدہ ہوکر بحال ہونے کا اعلان کر دیا۔  پی این پی کے ساتھیوں نے افغانستان سے افراسیاب خٹک کے واپسی پر اپریل 1989 مرغزار سوات میں کانگریس کا انعقاد کرکے اسی سال مئی کے اواخر میں قومی انقلابی پارٹی کے نام سے ایک ایسی سیاسی جماعت تشکیل دی جس نے عوامی نیشنل پارٹی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ در اصل اس قومی انقلابی پارٹی کی تشکیل کی پہلی تجویز دسمبر 1987 کے اوائل میں اس غیر رسمی اجلاس میں دی گئی تھی جو کابل کے کانٹینیٹل ہوٹل میں ہوا تھا۔ اس غیر رسمی اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کی پالیسیوں پر بحث و مباحثے  کے بعد عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اس دوران کئی ایک شرکاء کا موقف تھا کہ چونکہ اے این پی صرف پختونوں کی بات کرتی ہے  لہٰذا ایک ایسی جماعت کی ضرورت ہے جو پاکستان بھر کے محکوم طبقات کے حقوق کی حصول اور ان کے تحفظ کی بات کرے ۔ اور پھر اس جماعت کی تشکیل انہی مقاصد کے لئے کی گئی ۔ قومی انقلابی پارٹی کا جو حشر ہوا وہ کسی بھی طور پر افراسیاب خٹک کی پہلی کاوش نیشنل پروگریسو پارٹی سے مختلف نہیں  تھا۔دو سال سے کم عرصے میں اسے پختونخوا قومی پارٹی کا حصہ بنا دیا گیا تھا اور وہی پختونخوا قومی پارٹی پھر تین دھڑوں میں منقسم ہوکر بغیر تجہیز و تدفین کے اوراق گمشدہ کی نظر ہوگئی ۔

 ان پے در پے ناکامیوں اور دھڑے بندیوں سے بھی کوئی سبق سیکھے بغیر اب بھی مرحوم بزنجو صاحب کے یہ ہیرے و جواہرات ایک درجن سے زیادہ سیاسی جماعتوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ چارسدہ میں جس ہیرے کے حجرے میں لطیف آفریدی صاحب کی یاد میں تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا انہوں نے قومی انقلابی پارٹی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی۔ پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور جماعت اسلامی سے ہوتے ہوئے اب آزاد حیثیت میں سیاست شروع کی ہے ۔ کئی ایک اپنے ذاتی مفادات کے لئے پاکستان تحریک انصاف, کوئی اس وقت ورکرز پارٹی تو کوئی پاکستان ورکرز پارٹی میں ہے ۔ کوئی بھی اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا کہ بزنجو صاحب کے یہ تمام ہیرے اور جواہرات نہایت قابل اور زیرک ہیں۔ یہ اگر کسی ایک جگہ ٹکے اور چند سال ایک دوسرے پر اعتماد کرکے متحرک  ہوئےتو یہ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ اس وقت ملک کی سیاسی فضا میں بہت بڑا خلاء ہے اور اس خلاء کو حقیقی معنوں میں مترقی قوم پرست اور جمہوریت پسند اس وقت پُر کرسکتے ہیں جب وہ ذاتی مفادات کے بجائے ایک دوسرے پر دل سے اعتماد کریں ۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA