لگ بھگ چھ دہائیوں تک خیبر پختونخوا اور پاکستان نہیں بلکہ خطے کی سیاست میں منفرد مقام رکھنے والا مرکز بلور ہاؤس اب خالی ہوگیا ہے اور اس اہم سیاسی، سماجی اور فلاحی مرکز کے بانی حاجی غلام احمد بلور اپنے اکلوتے پوتے عظیم شبیر بلور اور بیوہ بہو سمیت اسلام آباد منتقل ہوگئے ہیں ۔
اسلام آباد روانگی سے قبل ضعیف العمر حاجی غلام احمد بلور نے باچا خان مرکز جا کر اپنے مرحوم قائدین فخر افغان باچا خان اور خان عبدالولی خان کے ارواح سے بھی اجازت مانگی اور یوں وہ نہایت دل شکستگی کے ساتھ اس شہر سے روانہ ہوگئے جہاں وہ کسی زمانے اس شہر کے لاکھوں لوگوں کے دلوں کے دھڑکن ہوا کرتےتھے ۔ وہ اس شہر سے اس ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ رخصت ہوگئے جہاں عرصہ دراز سے وہ اس شہر کے لاکھوں باسیوں کی غمی و خوشی میں ہمہ تن شریک رہے تھے ۔
حاجی غلام احمد بلور نے اس شہر کو خیر باد کہا جس کی ہر گلی کوچے سے وہ واقف حال رہے۔ انہوں نے اس شہر کو چھوڑ دیا جس کے بطن میں نہ صرف ان کا چہیتا بیٹا شبیر احمد بلور ۔ چہیتے بھائی شہید بشیر احمد بلور اور مرحوم الیاس احمد بلور سمیت کئی ایک رشتے دار اور بلور خاندان پر مر مٹنے والےشہید حاجی حمد اللہ ۔ شہید نور محمد خان۔ حاجی باجوڑی سمیت سینکڑوں مدفون ہیں ۔ بلور نے اس آبائی شہر کو چھوڑ دیا جس کے ہزاروں غریب اور نادار ان کی سخاوت سے فیضیاب ہو رہے تھے ۔ انسانی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہے مگر جس طرح کے نشیب و فراز حاجی غلام احمد بلور کے زندگی میں آئے ہیں اور انہوں نے برداشت کیے ہیں یہ بہت کم لوگوں کے زندگیوں میں آئے ہیں۔
حاجی صاحب نے جس طرح اکلوتے بیٹے شبیر احمد بلور کی جدائی برداشت کی تھی بلکل اسی طرح انہوں نے شہید بھائی بشیر احمد بلور اور بھتیجے بیرسٹر ہارون بلور کی شہادتوں کے دوران صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا تھا ۔ حاجی صاحب نے اس شہر کو چھوڑ دیا جس شہر کی نمائندگی وہ اور انکے بھائی ستر کی دہائی کے اوائل سے نہ صرف پارلیمان بلکہ صنعت و حرفت و تجارت کے ایوانوں میں بھی کر رہے تھے ۔ پشاور اور بلور خاندان کے بارے میں لکھنا یا یاد دلانا کاغذ کے ایک یا دو صفحات پر محیط نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لئے کاغذوں کے انبار درکار ہیں ۔ بہرحال یہ بلور ہاؤس صرف پشاوریوں کا مرکز نہیں رہا ہے بلکہ اس بلور ہاؤس میں نہ صرف پختونخوا اور پشتونوں کے بلکہ ملک بھر کے اہم اہم سیاسی فیصلے بھی ہوئے ہیں۔ نواب خیر بخش مری ، میر غوث بخش بزنجو، سردار عطاء اللہ خان مینگل، شہزادہ عبدالکریم ،نواب شہید اکبر بگتی ، عبدالحمید جتوئی، غلام مصطفی جتوئ،سردار شیر باز خان مزاری، میر جلال شاہ ،مرحوم حاکم علی زرداری ، فاضل راہو، مرحوم رسول بخش پلیجو، سردار شوکت علی خان ، چوہدری شجاعت حسین اور باچاخان اور ولی خان کے سیاسی تحاریک سے منسلک ملک بھر نہیں بلکہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے نامور سیاسی رہنماؤں کو بھی بلور ہاوس نےمیزبانی کا شرف بخشا ہے ۔
شہید بے نظیر بھٹو اور مرحومہ نصرت بھٹو کے علاوہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور شہباز شریف بھی 90 کے دہائی کے دوران اس مکان نہیں بلکہ حویلی میں تشریف لا چکے ہیں۔ سابق صدور حامد کرزئی اور ڈاکٹر اشرف غنی کے علاوہ افغانستان کے بہت سے سیاسی اور مذہبی رہنما بھی بلور ہاؤس آئے تھے ۔ مرحوم محمد افضل خان المعروف خان لالا کے انتقال کے بعد افغانستان سے ایک خصوصی وفد نے بلور ہاؤس آکر ان کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی تھی ۔ بعد میں اسی وفد میں شامل حاجی دین محمد نے درشخیلہ سوات جاکر خان لالا کے قبر پر بھی فاتحہ خوانی کی تھی ۔ شہید ڈاکٹر نجیب اللہ کی کابینہ میں شامل سلیمان لائق، اسلم وطن جار ، محمد ہاشم خان پکتیانی اور رشید وزیری سمیت بہت سے وزراء اور عہدیدار کئی کئی ہفتوں تک بلور ہاؤس کے مہمان رہے تھے۔
بلور ہاؤس کیوں خالی ہوا، اس کا جواب تو حاجی صاحب خود دے سکتے ہیں تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حاجی صاحب اگر ایک طرف بھائیوں شہید بشیر احمد بلور اور مرحوم الیاس بلور اور بھتیجے بیرسٹر ہارون بلور کے بعد سیاسی میدان میں تنہائی محسوس کررہے تھے تو دوسری طرف وہ 2018 اور بالخصوص 2024 کے انتخابات کے بعد پشاور کے شہریوں سے بھی نالاں تھے ۔ حاجی صاحب کا چوتھا بھائ عزیز احمد بلور پہلے ہی سے پنجاب منتقل ہو چکا ہے ۔ ماضی میں اگر ان کا مقابلہ پشاور کے سید یا سیٹھی خاندانوں سے ہوتا تھا تو وہ بھی بلور خاندان کے طرح پشاور کے سیاسی ،سماجی اور کاروباری حلقوں سے تعلق اور مقبولیت رکھتے تھے مگر موجودہ ممبر قومی اسمبلی آصف خان اور شوکت علی تو بہت نو وارد اور غیر مقبول تھے ۔ ان دونوں کو ووٹ دینے والوں کو ان کے نام اور گھر بھی معلوم نہیں ہوں گے مگر پھر بھی ان کو ووٹ دیئے گئے اور اپنی نمائندگی کے لئے ایوان بجھوایا گیا ۔
شوکت علی جو 2018 کے عام انتخابات میں ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو وہ ماضی میں تحصیل ناظم رہ چکے تھے اور ان کی کچھ جان پہچان تھی تاہم آصف خان تو 2018 کے انتخابات میں ممبر صوبائی اسمبلی بننے کے باوجود پشاور کے اکثریتی شہریوں کے لئے اجنبی تھے کیونکہ وہ صوبائی اسمبلی کے نہایت خاموش ترین ممبران میں سرفہرست تھے ۔ اب قومی اسمبلی میں بھی آصف خان کی وہی صوبائی اسمبلی والی خاموش حیثیت یا کردار ہے۔
دوسری طرف وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشی معاملات نے بھی بلور خاندان کو کسی نہ کسی حد تک متاثر کیا ہوا ہے ۔ ماضی قریب میں بہت سے صنعتی، تجارتی اور کاروباری اداروں کے مالکان بلور خاندان والے اب ایک دو گیس پمپس تک محدود ہوگئے ہیں۔ ماضی میں پشاور کے مختلف پوش علاقوں کے چار بلور ہاوسز اور لندن میں چار فلیٹوں کے مالکان اب دو گھروں کے مکین بن کر رہ گئے ہیں۔
پشاور کے باسیوں سے مایوسی کے علاوہ حاجی غلام احمد بلور پارٹی کے قائدین اور ساتھیوں سے بھی کچھ زیادہ خوش نہیں تھے ۔ کئی ایک مرکزی اور صوبائی عہدیداروں سے فون پر بروقت رابطہ یا جواب نہ ملنے پر کئی بار ناراضگی کا اظہار کر چکے تھے ۔ در اصل حاجی صاحب اس عزت و احترام یا توجہ کے خواہاں تھے جو ان کو کسی زمانے میں مرحوم خان عبدالولی خان دیا کرتے تھے ۔ 1990 کے عام انتخابات کے بعد جب حاجی غلام احمد بلور مرکزی اور بشیر احمد بلور صوبائی وزیر بنے تو پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ولی خان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب دیتے وقت یاد دلایا کہ ستر کے دہائی کے دوران بلور خاندان کے چار افراد حاجی غلام احمد بلور، بشیر احمد بلور،الیاس احمد بلور اور عزیز احمد بلور جیل میں تھے لہٰذا اب حق بنتا ہے کہ چاروں کو عہدے دیے جائیں ۔ اس کے فوراً بعد مرحوم الیاس احمد بلور کو سینیٹ کے لئے نامزد اور منتخب کر دیا گیا ۔
کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بلور خاندان نے حقیقی معنوں میں پشاور کے نمائندگی کا حق ادا کیا ہے ۔ اب پشاور کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو بلور خاندان سیاست میں آنے سے قبل مالی اور معاشی طور پر کافی مستحکم تھا مگر اب نہیں، جبکہ 2013 سے نہ صرف پشاور بلکہ خیبر پختونخوا کے طول و عرض سے پاکستان تحریک انصاف کے منتخب ممبران اسمبلی لکھ پتیوں کے بجائے اب ارب پتی نہیں بلکہ کھرب پتی بن گئے ہیں اور مزید بن رہے ہیں۔
حاجی بلور نے بلور ہاؤس نہیں بلکہ پشاور کو خالی کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس خالی پشاور کے باسی مستقبل کے لئے کسی راہ گزر کو نمائندگی کے لئے منتخب کریں گے یا حاجی غلام احمد بلور کے طرح کسی مخلص خواہاں اور خیرخواہ کو ۔