img

بونیر - جہاں کوئی حملہ آور قدم نہیں جما سکا

 

کچھ لوگوں کا خیال ہے  کہ بونیر ایک  سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے  جنگل۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے  کہ بونیر جنگلات سے بھرپورعلاقہ  تھا۔ تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ  سکندر اعظم بھی بونیر اور اس کے اردگرد کے علاقوں جن میں چارسدہ ، مردان ،سوات، شامل ہیں سے گزرا ہے لیکن اس نے یہ علاقے اپنے گورنر کے حوالے کیے اور خود پنجاب کی طرف چلاگیا    ۔

جس طرح سوات اور چارسد ہ کے متعلق کہا جاتاہے ، کہ ان  علاقوں میں چودہ سو سال قبل مسیح میں بھی لوگ آباد تھے اسی طرح بونیر بھی  جوچاروں طرف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا ایک قدیم علاقہ ہے۔ یہاں بہت ہی خوبصورت وادیاں اور بے شمار چشمے ہیں ، زمین بھی ہموار ہے اور کاشتکاری کےلیے بھی بے حدمفید  ہے  ۔

 پندرہویں صدی تک بونیر میں  پٹھانوں کی کوئی آبادی نہیں تھی  بلکہ مقامی ہندوستانی لوگ جن میں گجر قابل ذکر ہیں وہی اس علاقے میں  رہتے تھے ۔وہ خود ہی اپنےعلاقے کے حکمران بھی تھے ۔ان کا زیادہ تر گزارہ کھیتی باڑی اور مال مویشیوں پر تھا   پھر وہ وقت آتاہے جب پختون ، جن میں یوسف زئی قبیلہ سب سے اہم ہے، پندرہویں صدی  کے نصف میں قندہار سے ہندوستان کی طرف آگئے۔ اس وقت پشاور کے علاقے میں سواتی اور دیگر قبائل آباد تھے۔ شروع میں یوسف زئی اور مقامی لوگوں کے درمیان  اچھی دوستی رہی جو بعد میں لڑائیوں میں بدل گئی ۔ یوسف زئی طاقتورلوگ تھے  اس طرح انہوں نے سوات کے مقامی لوگوں کو یہاں سے نکال دیا اور  خود سوات اور بونیر کے علاقوں پر قابض ہوگئے۔ سواتی لوگ ہجرت کرکے شانگلہ کی طرف چلے گے ۔مورخین لکھتے ہیں کہ انہی یوسف زئی قبائل کی وجہ سے اسلام کو عروج ملا۔یہ وہی زمانہ  ہے جب بابر  نےہندوستان پر حملہ کیا تھا۔  بابر نے سب سے پہلے اسی خوبصورت علاقےکوفتح کیا تھا ۔اس نے ملک شاہ منصور (یوسف زئی  قبیلوں کے سربراہ) کی بیٹی کے ساتھ شادی بھی کی اور طاقت کا استعمال بھی کیا۔یوں باجوڑ (سوائے جندول ) ،وادی پنجکوڑہ سمیت تمام علاقوں میں اپنی حکومت قائم کرلی اور اس طرح مغل مقامی پختونوں پر غالب آگئے ۔تاہم یہ قبضہ  زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا ۔

بابر کے بیٹے ، مغل شہنشاہ ہمایون کے دور میں مقامی لوگوں نے ایک بار  پھر خود مختاری  کا اعلان کر دیا مگر ناکام ہوئے ،لیکن یہ سلسلہ رکانہیں ۔ جب شہنشاہ اکبر نے اپنی فوج ایک انتہائی اہم جرنیل  بیر بل کی قیادت میں یہاں بھیجی  تو اس نے کراکر ،تورورسک ،اور ڈگر وغیرہ پر حملہ کیا اور بالا آخر مالندرائی میں اسے ذلت آمیز شکست ہوئی۔ اس جنگ میں اکبر کی تمام فوج ماری گئی ، جس میں اس کا جرنیل بیربل بھی شامل تھا ۔   یوں ایک مرتبہ پھر بونیر نے  اپنی آزادی و خود مختاری کو محفوظ بنایا  ۔

جب سکھوں نے1818 ء سے لے کر 1849ءتک  اس وقت کے شمال مغربی سرحدی علاقے جو موجودہ خیبر پختونخوا کے اکثر علاقوں پر مشتمل تھا ، پر حکومت کی  اس دور میں بھی سکھ بونیر کے علاقے میں داخل نہیں ہوسکے تھے ۔اس کی وجہ یہاں کے غیور عوام کا سکھوں کے آگے ڈٹ جانا تھا ۔ ایک اور اہم بات یہ بھی ہے ، کہ بونیر سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک پناہ گاہ بھی تھا ۔ سکھوں  کی طاقت کو انگریزوں نے ختم کیا اور یوں 1849ء میں خیبر پختونخوا اورپنجاب کےبیشتر علاقے  انگریزوں کے قبضے میں چلے گئے ۔انگریزوں نے بھی اس علاقے پر قبضہ کر نے کے خاطر 1863ء میں بریگیڈئیر جنرل نیول باؤلز چمیبر لین کی قیادت میں پشاور سے بونیر کی طرف مارچ کیا تھا ۔ انگریزوں نے امبیلا پاس کے راستے وادی میں داخل ہونے کا منصوبہ بنایا اسی لئے اسے امبیلا مہم کے نام سے جانا جاتاہے ۔ دووسری طرف بونیر کے مجاہدین  بھی تیار  تھے ۔انہوں نے برطانوی فوجیوں پر وادی کی جانب سے غیر متوقع حملہ کیا جس کا انگریزوں کو کوئی اندازہ  نہیں تھا ۔یہ جنگ کوئی ایک ماہ تک جاری رہی ۔اس عرصے میں برطانوی فوج کو  پشاورسے کمک بھی ملتی رہی اور دوسری طرف  مجاہدین بھی ڈٹے رہے۔ آخرکار  انگریزوں نے مجبور ہو کر اپنی عزت بچانے کی خاطر  مقامی لوگوں سے ایک معاہد کر لیا ۔ اس معاہدے کے مطابق انگریزوں کا اصرار  کہ سوات ان سے الحاق کرے نہیں  ماناگیا اور اس کے بدلے مقامی لوگوں کو اس بات کا پابند کیا گیا  کہ وہ برطانوی علاقے میں چھاپے مارنے سے بازر رہیں گے ۔

 بونیر کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مالاکنڈکی جنگوں میں جو 1897ء میں ہوئیں ، سعداللہ خان کی قیادت میں اہل بونیر نے مالاکنڈ میں انگریزوں کو شکست دی ۔ اس وقت ایک بڑی تعداد میں سکھ فوجی انگریزوں کی فوج میں شامل تھے ۔ اس جنگ کے نتیجے میں کئی انگریزاور سکھ فوجی  مارے اور پکڑے گئے اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ضبط کیا گیا ۔ سعد اللہ خان بھی اپنے 19 مجاہدین سمیت شہید ہوگئے ان کا مقبرہ مالاکنڈ میں واقع ہے۔ 

ایک پرانی کہاوت ہے کہ انگریز اپنی شکست نہیں بھولتے  اور یہ ایک حقیقت بھی ہے  ، اس لئے انگریزوں نے 1897ء میں سربند بلڈ کی کمان میں بونیر پر تین اطراف سے حملہ کیاامیلا  پاس ، پیرسائی پاس اورتنگی کی سمتوں سے اس جنگ میں انگریزوں کو جزوی کامیابی تو ضرور ہوئی لیکن پھر بھی انگریزاس علاقے میں برطانوی حکومت کی رٹ قائم کرنے میں ناکام رہے لیکن اس وقت  ریاست کا کوئی باقاعدہ سربراہ نہیں تھا  ۔  جب 1878ء میں سوات کے اخوند سید وبابا کی وفات ہوئی تو اس کے بعد 1915ء تک ریاست کا وجودنہیں ملتا ۔ پھر ایک وقت آتاہے جب سید عبد الجبار شاہ اس کے سربراہ بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پھر 1917ء میں میاں گل عبد الودود باقاعدہ طور پر علاقے کے پہلے والی بنتے ہیں ۔اس کے ساتھ بونیر ان پانچ سو کے قریب ریاستوں میں شامل ہوگیا جو  انگریزوں کی وفادار ریاستیں تھیں۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA