آئے دن خبریں میڈیا کی زینت بنتی ہیں کہ کشتی ڈوبنے سے ۔۔۔ تارکین وطن جاں بحق ہوگئے اور کئی کو بچا لیا گیا ۔
یہ سلسلہ پہلے مشرق وسطیٰ سے شروع ہوا کہ جب روزگار کے متلاشی دبئی وغیرہ کے لئے لانچوں کے ذریعے پہنچتے تھے ، کبھی کامیابی ہوتی اور کبھی کوسٹ گارڈ کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتے تھے، ایسا بھی سننے میں آتا کہ دبئی جاتے ہوئے لانچ سمندر میں ڈوب گئی ، پھر ایسا بھی ہونے لگا کہ وطن سے باہر جانے والوں کو کراچی کے قریب ہی کسی جزیرے یا پاکستان ہی کے کسی ساحل پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا تھا ۔
اس دور میں یورپ جانے کا رجحان بہت کم تھا ، ویسے بھی یورپ کے اکثریتی ممالک کے لئے ویزا کی پابندی نہ تھی بلکہ انٹری ہوا کرتی تھی ، میں خود ترکیہ، یونان اور جرمنی انٹری پر ہی گیا تھا ۔
پھر ایجنٹ حضرات نے لوگوں کو ملازمت کے بہانے ان ملکوں میں یوں پہنچانا شروع کیا کہ وہ ممالک پریشان ہوگئے اور انہوں نے ویزا کی پابندی عائد کردی ، سب سے پہلے ایجنٹ حضرات نے یونان اور پھر اٹلی کی جانب لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے لے جانا شروع کردیا ۔
ایجنٹ حضرات ان لوگوں کو پہلے غیر قانونی طور پر ایران لے جاتے پھر وہاں سے ترکیہ ۔ یہ سفر خشکی کا تھا اس سفر کے دوران کبھی کبھی سرحد عبور کرتے ہوئے بعض گرفتار ہو جاتے اور کچھ فرار ہوتے ہوئے سرحدی محافظوں کی گولیوں کا شکار بھی ہوجاتے تھے ۔
ترکیہ سے ان لوگوں کو بذریعہ لانچ یونان کے کسی جزیرے میں پہنچایا جاتا اور بعد ازاں انہیں یونان کے مختلف شہروں میں پہنچایا جاتا تھا ۔ اسی طرح اٹلی جانے والوں کے ساتھ بھی ہوتا تھا ۔ جب کبھی سرحدی محافظوں کی نظر میں ایران ، ترکیہ ، یونان اور اٹلی وغیرہ جانے والے آجاتے تو ایجنٹ کسی طریقے سے اپنی جان بچا لیا کرتے تھے ۔
طریقہ یہ بھی تھا کہ پاکستان سے ابتداء میں مقامی ایجنٹ ان لوگوں سے پیسہ وصول کرتا اور پھر آگے دوسرے ایجنٹ کو فروخت کردیتا تھا ۔ مقامی ایجنٹ یہیں رہتا تھا ۔
صرف پاکستان ہی سے نہیں بلکہ بنگلہ دیش ، سری لنکا اور بھارت سے بھی ایجنٹ اسی طرح کرتے تھے ۔بنگلہ دیش اور سری لنکا سے آنے والے پہلے بھارت اور پھر پاکستان سے ہوتے ہوئے جاتے تھے ۔
ان تمام ایجنٹوں کے ایک دوسرے سے رابطے ہوتے تھے اور وہ سب ایک دوسرے کے مفادات کا خیال بھی کرتے تھے ۔
اسی کی آڑ میں بعض ایجنٹ منشیات کی سمگلنگ بھی کرتے تھے ۔
ان ایجنٹوں کے اور بھی بہت سے طریقے تھے اور مختلف ممالک کے جانے کے کئی طریقے تھے ۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر یہی لوگ باہر جانے کے لئے قانونی طریقے اپنائیں تو اس طرح ان کا پیسہ بھی کم خرچ ہوگا اور سفر بھی محفوظ رہے گا ۔ متعلقہ سفارت خانے سے مکمل آگاہی حاصل کرکے ہی اگلی منزل کا تعین کیا جائے تو بہتر رہے گا ۔ عام طور پر لوگ سفارت خانے کا رخ نہیں کرتے اور وہاں جانے سے خوفزدہ رہتے ہیں ۔
ہمارے ایک مرحوم شاعر دوست کی ایک نظم ہے کہ
بھاگ نہ پاکستان سے باہر
سب کچھ پاکستان میں ہے۔