نصف صدی پہلے تک جو لوگ بھی پاکستان سے ہجرت کرکے یورپ کے کسی ملک یا برطانیہ میں آ کر آباد ہوئے، اُن میں سے اکثریت کا خیال یہی تھا کہ وہ معاشی خوشحالی کے بعد وطن واپس جائیں گے اور باقی زندگی چین اور سکون سے اپنے پیاروں کے ساتھ گزاریں گے لیکن انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے حالات اس قدر ابتر اور خراب ہوتے چلے جائیں گے کہ تارکینِ وطن کے لئے اپنے ملک میں واپس آکر پُرسکون زندگی گزارنے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ نوبت اس نہج تک پہنچ جائے گی کہ اسلامی جمہوریۂ پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت معاشی اور اقتصادی حالات سے تنگ آ کر اپنا وطن چھوڑنے کے لیے ہر طرح کے جتن کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ حتیٰ کہ غیرقانونی طریقے سے یورپ اور برطانیہ پہنچنے کے لیے اپنی جان کی بازی لگانے سے بھی گریز نہیں کرے گی جبکہ پاکستان کا مراعات یافتہ طبقہ (جج، جرنیل، سیاستدان اور بیوروکریٹ) کرپشن کے ذریعے مال جمع کر کے بیرونی دنیا میں اپنے اور اپنی اولادوں کے لئے محفوظ پناہ گاہیں بنا لے گا۔ اِن حالات میں خوشحال اوورسیز پاکستان کیونکر واپس وطن عزیز میں آ کر آباد ہونے یا سرمایہ کاری کرنے کا رسک لیں گے۔
پاکستان کے حالات کی ابتری اپنی جگہ مگر اب پسماندہ ممالک کے مہاجرین کے لئے برطانیہ اور یورپ کے حالات بھی بہت زیادہ سازگار نہیں رہے کیونکہ گزشتہ بیس، پچیس سال کے دوران تارکین وطن کا جو سیلاب یونائیٹڈ کنگڈم اور دیگر یورپی ممالک میں آیا ہے، اس نے مقامی لوگوں کی تشویش میں بہت زیادہ اضافہ کردیا ہے۔ خاص طور پر برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس، تعلیم اور سوشل ویلفیئر کے شعبے پر جو اضافی بوجھ پڑا ہے، اس کے نتیجے میں طرح طرح کے مسائل نے جنم لیا ہے۔ بالخصوص لندن میں رہائش کے مسائل سنگین ہوگئے ہیں۔ مہنگائی اور جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے۔ اینٹی سوشل بی ہیوئیر کی شکایتیں بہت زیادہ ہوگئی ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک کے غیرمعمولی رش نے لندن میں رہنے والوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ برطانوی دارالحکومت میں بسنے والے انگریز اب مضافاتی شہروں کی طرف منتقل ہوگئے ہیں اور لندن کی آبادی میں امیگرنٹس کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے جن کی رہائشی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہر علاقے میں درجنوں منزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ معلوم نہیں یہ لندن شہر کی کشش ہے یا کوئی معاشی ضرورت کہ تارکین وطن کی اکثریت اسی دارالحکومت میں آباد ہونے کو ترجیح دیتی ہے۔ یورپی یونین کا رکن ہونے کی وجہ سے برطانیہ میں یورپ اور خاص طور پر مشرقی یورپ کے ممالک (پولینڈ، رومانیہ اور بلغاریہ) کے امیگرنٹس کا جو سیلاب آیا تھا، وہ برطانوی حکومت کی توقعات سے کہیں زیادہ تھا۔ بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں ورک پرمٹ اور اسٹوڈنٹ ویزے پر جو تارکین وطن اس ملک میں آئے اُن کی تعداد بھی غیرمتوقع تھی جس کی وجہ سے حکومت کو اپنی ویزا پالیسی پر نظر ثانی کرنا پڑی ہے کیونکہ غیرملکی طالب علموں اور ورکرز کو رہائش اور روزگار کے حصول کے سلسلے میں کئی طرح کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 20برس کے دوران تقریباً ایک کروڑ امیگرنٹس برطانیہ میں آکر آباد ہوئے جن میں سے ساڑھے 35لاکھ کا تعلق یورپ اور باقی کا تعلق دنیا کے دیگر ممالک سے ہے۔ یعنی برطانیہ کی آبادی میں پچھلی دو دہائیوں کے دوان امیگرنٹس کی وجہ سے تقریباً 15فیصد اضافہ ہوا جبکہ 2004ء سے پہلے تارکین وطن کی آمد کا تناسب تقریباً 9فیصد تھا۔ اس سال کے آخر تک برطانیہ کی کل آبادی 7کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ تارکین وطن کی وجہ سے یونائیٹڈ کنگڈم میں شرح پیدائش میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یو کے کی کل آبادی میں تقریباً 75فیصد گورے (انگریز)، ساڑھے چھ فیصد ایشیائی اور تین فیصد سیاہ فام افراد شامل ہیں۔ ایشیا اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایسے ہزاروں تارکین وطن جو یورپی یونین کے مختلف ممالک میں آباد تھے اور وہاں کی شہریت رکھتے تھے، وہ بھی بریگزٹ سے پہلے برطانیہ آ کر آباد ہو چکے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں یونائیٹڈ کنگڈم آج بھی تارکین وطن کے لئے سب سے زیادہ پُرکشش ملک ہے۔ بہت سے ایسے پاکستانی تارکین وطن جو اسپین، ہالینڈ، جرمنی اور فرانس جیسے ملکوں کی شہریت رکھنے کے باوجود برطانیہ میں آ کر آباد ہوچکے ہیں، میں نے اُن سے وجہ پوچھی تو انہوں نے سب سے پہلے انگریزی زبان کو اس کی وجہ بتایا جس کے بعد یو کے میں تعلیم، صحت اور سوشل ویلفیئر سسٹم کی سہولتوں کو اس ہجرت کی وجوہات میں شمار کیا۔ جو لوگ قانونی طور پر برطانیہ آکر آباد ہوتے ہیں یعنی ورک پرمٹ یا اسٹوڈنٹس ویزے پر اس ملک میں آتے ہیں، اُن کے لئے یہاں کے حالات بہت زیادہ دشوار ہوتے جا رہے ہیں جبکہ غیرقانونی طور پر یہاں آنے والوں کے لئے یہاں کوئی گنجائش نہیں رہی۔ پسماندہ ممالک کے ایسے غیرقانونی تارکین وطن جو اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر ایجنٹوں کے ذریعے زندہ برطانیہ تک پہنچ بھی جائیں تو انہیں فوری طور پر ملک بدری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر وہ خوش قسمتی سے قانون نافذ کرنے والوں کے ہتھے چڑھنے سے محفوظ رہیں اور روپوش ہو جائیں تو انہیں گزربسر کے لئے کسی قسم کا کام ملنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ کوئی بھی کاروباری ادارہ اب غیرقانونی تارکین وطن کو کام پر رکھنے کا رسک نہیں لیتا۔ وگرنہ اُسے بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ بہت سے پاکستانی جو کسی بھی طریقے اور کسی بھی ذریعے سے برطانیہ آنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، جب انہیں کوئی پاکستان نژاد برطانوی شہری حقیقتِ حال سے آگاہ کرتا ہے یا یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ یونائیٹڈ کنگڈم کے حالات اب تارکین وطن اور خاص طور پر غیرقانونی تارکین وطن کے لئے بالکل بھی سازگار نہیں رہے، اس لئے پاکستان میں انسانی اسمگلروں (ایجنٹوں) کے بہکاوے میں نہ آئیں اور اپنی جمع پونجی کو ضائع ہونے سے بچائیں تو سننے والا یہ سمجھتا ہے کہ مشورہ دینے والا خود تو برطانوی شہریت حاصل کرکے موج کر رہا ہے اور مجھے برطانیہ آنے سے باز رکھنا چاہتا ہے کہ کہیں میں بھی اس کی طرح ترقی کرکے اس کی طرح خوشحال نہ ہو جاؤں۔
کئی برس پہلے میرے ایک قریبی دوست کا بھانجا جو کہ پاکستان کی ایک پرائیویٹ فرم میں ملازم تھا اور آرام دہ زندگی گزارنے کا عادی تھا، ایک ریستوران کے ورک پرمٹ پر ویزا حاصل کرکے برطانیہ آیا لیکن چند ہفتے بعد ہی کچن میں پیاز کاٹنے اور کھانا بنانے کی تربیت سے اس کی طبیعت بیزار ہوگئی اور اُسے گھر والوں کی یاد اس شدت کے ساتھ ستانے لگی کہ وہ کچھ ہی مہینے بعد واپس پاکستان چلا گیا اور پھر پلٹ کر لندن کا رُخ نہ کیا۔ جس شخص کو محنت کرنے یا مشکلات کا سامنا کرنے کی عادت نہ ہو، اُسے چاہیے کہ وہ اپنے وطن میں ہی رہے۔ بہت سے ایسے نوجوان جن کی کفالت اُن کے والدین کرتے ہیں اور اُن کو آرام دہ زندگی کی عادت ڈال دیتے ہیں، ایسے لوگوں کو اگر کسی اجنبی ملک میں جا کر آباد ہونا اور محنت کرنی پڑے تو اُن کا حوصلہ جلد ہی جواب دے جاتا ہے اور اُن کے خواب ذرا سی ٹھیس لگنے سے چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ ایسے پاکستانی تارکین وطن جنہوں نے پرائے دیسوں میں ہر طرح کی مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود ہمت نہ ہاری اور دِن رات کی محنت اور موسم کی سختیوں کا مقابلہ کر کے ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل کی، ایسے لوگ ستائش اور شاباش کے مستحق ہیں۔ ہم لوگ ایسے کامیاب لوگوں کے مقام اور مرتبے کو تو ضرور دیکھتے ہیں لیکن بہت کم اس حقیقت پر غور کرتے ہیں کہ اس مقام تک پہنچنے والے شخص نے مسلسل محنت اور جستجو کا کتنا لمبا سفر طے کیا ہے۔ دنیا کے کسی بھی حصے اور کسی بھی زمانے میں ترقی کا راستہ کبھی بند نہیں ہوتا لیکن منزل تک صرف وہی لوگ پہنچتے ہیں جو مستقل مزاجی سے اپنی محنت اور ذہانت کو استعمال کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سو بار جب عقیق کٹا، تب نگیں ہوا
(اقبال)