img

جاپان آنا ہے تو جاپانی سیکھو

 

اس وقت پاکستان کی جانب سے صرف 20اداروں کو پاکستانی ورک فورس جاپان بھجوانے کے لیے مختص کیا گیا ہے جبکہ ان پر ایسی کوئی پابندی بھی عائد نہیں کی گئی کہ وہ جاپان آنے کے خواہشمند امیدواروں کو جاپانی زبان بھی سکھائیں۔ اتنی کم تعداد میں اداروں کو مختص کرنے سے جاپان آنے کے خواہشمند افراد کی تعداد میں اضافہ ممکن ہی نہیں ہے لہٰذا اگر حکومت پاکستان جاپان بھجوانے کے خواہشمند اداروں کی تعداد 20 سے بڑھا کر ایک ہزار کردے اور ہر ادارے پر یہ پابندی عائد کردے کہ وہ جاپانی زبان سکھانے کا ایک اسکول قائم کرے گا تو جاپان جانے والے افراد کی تعداد میں بہت بڑا اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔ نہ جانے کیوں ہم پاکستانی بھارت، بنگلادیش اور نیپال جیسے ممالک جو ہمارے پڑوسی بھی ہیں اور ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوئے بلکہ بنگلا دیش تو ہم سے ہی آزاد ہوا تھا، ان ممالک کی تیزرفتار ترقی دیکھ کر کچھ پریشان سے ہوجاتے ہیں۔ اس وقت بھی میں کافی پریشان بیٹھا تھا کیونکہ میرے سامنے وہ رپورٹس موجود تھیں جن میں جاپان کو ورک فورس بھجوانے کے لیے وہ تیاریاں شامل تھیں جو یہ ممالک کررہے تھے۔ میرے لیے صرف یہ پریشان کن نہیں تھا کہ یہ ممالک کس قدر تیزی سے اپنی ورک فورس کو جاپان بھجوانے کے لیے تیار کررہے ہیں بلکہ زیادہ پریشانی، رپورٹ کا وہ حصہ دیکھ کر تھی جس میں پاکستان کے حوالے سے معلومات تھیں کہ پاکستان کو جاپان بھجوانے کے لیے 7لاکھ ورک فورس میں سے صرف آٹے میں نمک جتنا حصہ ہی مل سکے گا جس کی وجہ ہماری انتہائی سست رفتار تیاریاں ہیں۔
افسوس اس بات کا بھی تھا کہ ورک فورس جاپان بھجوانے کے لیے جن کمپنیوں نے لائسنس حاصل کیے ہیں وہ تمام کمپنیاں ان ارب پتی کاروباری افراد کی ہیں جو پاکستان میں بہت معرو ف ہیں اور جاپان بھجوانے کے لیے پاکستان کے غریب افراد سے لاکھوں روپے بطور فیس بھی وصول کریں گے لیکن ان نفع خوروں نے اپنے تعلقات کی بنا پر ورک فورس جاپان بھجوانے کا لائسنس لینے کے بعد اس منصوبے پر کوئی سرمایہ کاری نہیں کی ہے جس کے سبب پاکستان اس منصوبے میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جاپان بھجوانے کے لیے کسی بھی لیبر کو کم از کم جاپان کی بنیادی زبان کا ٹیسٹ این فائیو پاس کرنا لازمی ہوتا ہے۔ یہ ٹیسٹ جے ایل پی ٹی بورڈ سے کیا جانا ضروری ہے جس کے امتحان پاکستان میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں منعقد ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ان 25سے زائد لائسنس یافتہ اداروں میں سے شاید چند ایک ہی ادارے ایسے ہوں جو جاپان جانے کے خواہشمند افراد کو جاپانی زبان کی تعلیم فراہم کررہے ہوں۔
اس وقت جاپان کے جن شعبوں میں کام کرنے کے لیے ملازمت کے مواقع موجود ہیں ان میں ا سکلڈ ورکرز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں جاپانی زبانی کی بنیادی تربیت یعنی این 5 اور بعض اہم ملازمتوں کے لیے این 4 امتحان کا پاس کرنا ضروری ہے۔ تو آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں ہمارے پڑوسی ممالک کس تیزی سے جاپانی زبان سیکھ کر عنقریب جاپان میں اپنے قدم جما لیں گے اور ہمارے پاکستانی بھاری رقم دے کر غیرقانونی طریقے سے ہی جاپان آنے کو ترجیح دیتے رہیں گے۔

 ایک رپورٹ کے مطابق 2018سے 2023ء تک کے عرصے کے دوران بھارت میں جے ایل پی ٹی بورڈ سے 33568افراد نے N4کا امتحان پاس کیا ہے۔ اب یہ افراد باآسانی ملازمت کے ویزے کے ساتھ جاپان آنا شروع ہوجائیں گے۔ انڈونیشیا کے 27586افراد نے JLPTبورڈ سے N4 لیول کا جاپانی زبان کا امتحان پاس کرلیا ہے۔ سری لنکا سے گزشتہ برس 19463افراد نے N4 کا امتحان پاس کرلیا ہے، اب یہ تمام افراد جاپان میں ملازمت کے حصول کے اہل ہوچکے ہیں۔
سری لنکا کے بعد نیپال میں بھی جاپانی زبان سیکھنے کا سلسلہ تیزی سے شروع ہوچکاہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس نیپال میں 7646افراد نے N4کا امتحان پاس کرلیا ہے جبکہ بنگلادیش میں 7423کارکنوں نے جاپانی زبان کا N4 امتحان پاس کرلیا ہے۔ اب بات کریں پاکستان کی، تو پاکستان میں گزشتہ برس صرف 835افراد ہی N4لیول کا امتحان پاس کرسکے ہیں۔ اس بات سے قارئین اندازہ لگا لیں کہ پاکستان کس قدر پیچھے رہ گیا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ پاکستانی جاپان ملازمت کے لیے آنا نہیں چاہتے۔ ہر رو ز درجنوں افراد جاپان میں ورکنگ ویزوں کی معلومات کے لیے نہ صرف مجھ سے بلکہ جاپان میں مقیم ہر پاکستانی سے رابطہ کرتے ہوں گے لیکن جیسے ہی جاپانی زبان سیکھنے کی بات بیان کی جاتی ہے، سب غائب ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے جاپان میں پاکستانی سفارتخانے کی کارکردگی بہتر ہے جس میں سفیر پاکستان رضا بشیر تارڑ کی ذاتی کوششوں اور ان کی ہدایات پر کمیونٹی ویلفیئر اتاشی عاشج لقمان بھی پوری محنت کررہے ہیں لیکن پاکستان میں جاپانی زبان کے ادارے قائم کرنا اور ان میں جاپانی سیکھنا، یہ دونوں ذمہ داریاں سرمایہ کاروں اور عوام کی ہیں جن کی اس شعبے میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس وقت پاکستان میں SIFCجیسا ادارہ بھی ورک فورس جاپان بھجوانے کے لیے کوشاں ہے لیکن جب تک پاکستان کے ہر شہر میں بڑی تعداد میں جاپانی زبان سکھانے کے ادارے نہیں کھلیں گے، پاکستانیوں کی بڑی تعداد کا ورک ویزے پر جاپان آنا مشکل ہی رہےگا۔ لہٰذا جاپان آنے کے خواہشمند افراد کو ایک ہی مشورہ ہے۔ ’جاپان آنا ہے تو جاپانی سیکھو۔‘

 

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA