img
جڑ سے خاتمہ ہی آخری آپشن ہے

جالاوان مومند

جڑ سے خاتمہ ہی آخری آپشن ہے

وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ سے فوج کا کردار رہا ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں،مختلف سیاسی حکومتوں کے فیصلوں کی پشت پر یہی طاقت کافرما رہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے ،مگر اب کے صورتحال قدرے مختلف ہے اور یوں لگتا ہے کہ موجودہ فوجی قیادت وہ کرنے جارہی ہے جو کسی بھی سابق فوجی قیادت نے نہیں کیا۔

خبروں کے حوالے سے گزشتہ کچھ عرصہ نہایت اہم رہا بنوں چھاؤنی پردہشت گردوں کا حملہ اور آرمی چیف کاردعمل،داعش رہنما کی گرفتاری اور افغانوں کو پاکستان سے نکالنے جیسے فیصلے اہم مضمرات اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ افغانستان کی صورتحال کئی عشروں سے خطے پر اپنے اثرات مختلف زاویوں سے ڈالتی چلی آرہی ہے اور اس سے سب سے زیادہ پاکستان ہی متاثر ہوا ہے چاہے وہ جنرل ضیاء دور کی افغان جنگ ہو یا جنرل مشرف دور کی انسداد دہشت گردی کی امریکی مہم،ان کے اثرات پاکستان میں پوری شدت سے محسوس کئے گئے بلکہ ابھی تک سامنے دکھائی دیتے ہیں۔

سابق سٹیبلشمنٹ کے پراجیکٹ عمران نے وطن عزیز کو ایک ایسے دوراہے پر لاکھڑا کیا کہ موجودہ قیادت کو اس کی صفائی کے لئے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو گرفتار کرنا ہی پڑااور اب ان کا کورٹ مارشل تقریباً آخری مراحل میں ہے جبکہ عمران خان اپنی جاں خلاصی کے لئے ہر طرف ہاتھ پاؤں مارتے دکھائی دے رہے ہیں مگر حسب سابق جنرل باجوہ اب بھی ان تمام ہنگامہ آرائیوں سے دور ہی ہیں جس سے متعدد سوالات جنم لیتے ہیں۔

اب کے فوجی قیادت ملک کو سیاسی ومعاشی عدم استحکام سے نکالنے اور ادارے پر لگے داغ دھونے میں اگرچہ قدرے سنجیدہ ہے مگر طریق کار وہی پرانا ہے  جس سے معاملات جلد سدھرنے کی امید نقش برآب کی مانند محسوس ہوتی ہے۔

ہفتہ کے روز چیئر مین سینیٹ کے پروڈکشن آرڈرز پر عون عباس بپی کو ایوان بالا میں لایا گیا مذکورہ سینیٹر کی ایوان میں تقریر اپنی جگہ پر مگر وہ 9 مئی کی مذمت کرچکے ہیں جبکہ اعجاز چوہدری کے ایوان میں لانے کے حکم پر تاحال عدم عملدرآمد سٹیبلشمنٹ کے اس حوالے سے موقف کا عکاس ہے۔

دوسری طرف بنوں چھاؤنی پر حملے کے بعد آرمی چیف کا دہشت گردوں کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس کا اشارہ اس امر کا اظہار ہے کہ اب دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ ریاست کے پاس آخری آپشن ہے اور گذشتہ روز محکمہ داخلہ کی غیر ملکیوں خاص کر افغانوں کی پاکستان سے بیدخلی کی ڈیڈ لائن سے یہ مترشح ہے کہ 31 مارچ کے بعد کچھ بڑا ہونے لگا ہے۔

یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سابق فوجی قیادت ٹی ٹی پی کو واپس لائی اور اس عمل میں عمران خان بھی شریک رہے اس لئے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سابق آرمی چیف قمرجاوید باجوہ سے بھی اس معاملے پر سوالات کئے جائیں یا بقول وزیر دفاع خواجہ آصف قمر جاوید باجوہ کے خلاف بھی انکوائری کی جائے۔

ادھر امریکی معلومات پر داعش کے سہولت کار شریف اللہ عرف جعفر کی گرفتاری اور امریکہ کو سپردگی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ موجودہ پاکستانی فوجی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا متمنی ہے۔

اگرچہ معاملات اتنے سادہ نہیں مگر موجودہ عسکری قیادت کی یکسوئی کی غمازی کرتے دکھائی دیتے ہیں،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام مسائل کا حل ڈنڈے کے زور پر ممکن نہیں موجودہ مسائل کے حل کے لئے طویل المدتی پالیسی وضع کرنا ناگزیر ہے جس میں اہم کردار تعلیم کا شعبہ اور میڈیا ادا کرسکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ انتہا پسندی،عدم برداشت کے خاتمے اور ترقی کےہدف کے حصول کے لئے تعلیمی نصاب میں خاطر خواہ تبدیلی کرکے ذہن سازی پر توجہ دی جائے اگرچہ یہ احقر پیکا ترامیم کے ساتھ کھڑا ہے ےتاہم یہ ترامیم بھی مستقل حل نہیں اور جلد یابدیر عدالت اس کے مستقبل کافیصلہ کردےگی مگر وطن عزیز کو مسائل کے گرداب سے نکالنے میں شعبہ تعلیم میں اصلاحات پر توجہ مرکوز کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔

امید ہے کہ فیصلہ ساز ملکی تاریخ کے اس اہم اور نازک موڑ پر ماضی کی غلطیوں کا اعادہ نہیں کریں گے کیونکہ داعش اور طالبان کے خلاف پاکستان اعلان جنگ کرچکا ہے اور اگر وقتی پالیسیوں کا سہارا لیا گیا تو خاکم بہ دہن 2008ء اور 2010ء کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے بڑی وارداتیں ہماری منتظر دکھائی دیتی ہیں۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA