یوں تو اس پلیٹ فارم پر اپنی ناچیز اور حقیر رائے حسب توفیق وقتاً فوقتاً قارئین کے سامنے رکھتا رہا ہوں اور مجھ جیسے بے ادب اور بے علم کو جو فیڈ بیک ملتا رہا ہے اس پر صرف اللہ کا شکر ادا کرنے اور ہمت بڑھانے والوں کو دعا دینے کے سوا کوئی آپشن اس احقر اور بے بصیرت کے پلے نہیں۔
ذوالفقار بھٹی صاحب سے میرا تعلق اس وقت سے ہے جب سے طوہاً وکرہاً اس الزام کو گلے لگایا جسے صحافت کا نام دیا جاتا ہے،بھٹی صاحب ایک معصوم انسان ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ میری اس رائے سے متفق نہ ہوں اور شاید بھٹی صاحب کو بھی اس سے اختلاف ہو مگر حقیقت یہی ہے کہ ادارے کالکھنے والے کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔
بعض ناقابل بیان وجوہ کی بناءپر کچھ عرصہ سے قارئین کی بصارت پر بوجھ ڈالنے سے قاصر رہا ہوں مگر بھٹی صاحب نے حکم فرمایا یا فرمائش کی کہ میں کچھ تازہ خرافات لکھ ماروں ۔یوں تو ہر تخلیق اس کے خالق کے لئے باعث مسرت ہوتی ہے مگر یہ بات ان معاشروں میں بسنے والوں سے تعلق رکھتی ہے جہاں خالق اور تخلیق کی پہچان رکھنے والے قابل ذکر تعداد میں ہوں۔
اب اس معاشرے کو میں کیا نام دوں جہاں میں نے آنکھ کھولی اور تادم تحریر اس کا حصہ ہوں کیونکہ اس کی تعریف یا تشریح مجھ جیسے بے علم اور احقر کے بس سے باہر کی بات ہے-
یہاں جو کچھ کتابوں میں ہے وہ کتابوں سے باہر نظر نہیں آتا اور جو باہر نظر آتا ہے اسے ضبط تحریر میں لانے کے لئے اس معاشرے سے باہر ہونا ایک ایسی لازمی شرط ہے جو کسی کتاب میں درج نہیں۔
قارئین کو مزید کسی مخمصے اور الجھن میں ڈالے بغیر اب اس بات کی جانب آنا چاہوں گا جسے میں خرافات سمجھتا ہوں مگر ہمارے ہاں اسے کرنٹ افئیرز سے موسوم کیا جاتا ہے۔
یوں تو اس ملک کو اسلامی جمہوریہ کہا اور لکھا جاتا ہے مگر زمینی حقائق اس سے مطابقت نہیں رکھتے ۔یہاں مذہب اور جمہوریت کا معیار بھی وہی مقرر کرتے ہیں جن کا خود ان سے کوئی علاقہ نہیں۔ اس بات کی وضاحت اس مثال سے شاید بہتر طور ہوسکے کہ مختلف اشیائے ضروریہ کی ریٹ لسٹ جاری کرنے والے کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ جن اشیاء کی وہ ریٹ لسٹ جاری کررہے ہیں وہ اشیاء عوام کو ان نرخوں کے مطابق مل بھی رہی ہیں یا نہیں۔
مرزا غالب کے دور میں وہ ذرائع موجود نہ تھے جن کو استعمال کرکے دنیا کو بازیچہ اطفال قرار دیا جاتا مگر بادہ خوار ہونے کے باوجود انہوں نے تصوف کے جو مسائل بیان کئے ہیں اس سے کم ازکم مجھ جیسے احقر کو یہ اعتراف کرنا ہی پڑے گا کہ اگر وہ ولی نہیں بھی تھے تو خالی بھی نہیں تھے۔
آج کل انتخابات کا پیریڈ چل رہا ہے جس میں حصہ لینے والی ہر پارٹی عوام کی خدمت کا دم بھر رہی ہے مگر خدمت کی تعریف ہر کسی کے نزدیک مختلف ہے ایک پارٹی جس کو خدمت سمجھتی ہے دوسری پارٹی اس کو ملک کی تباہی قرار دیتی نظر آتی ہے ۔باقی رہی عوام تو وہ بچہ جمورا کا کردار بخوبی ادا کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ 75 سال سے ان کے حصے میں یہی کردار اس ڈرامے میں لکھ دیا گیا ہے۔
اول تو زیادہ تر سیاسی پارٹیاں اس فارمولے کے تحت معرض وجود میں لائی گئی ہیں جن کو عرف عام میں پنیریوں سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس سیاسی فارمولے کے اطلاق کی جڑیں تقسیم ہند سے قبل کی ہیں جس کے تحت سرمایہ دار طبقے اور اس حاشیہ برداروں کو اس طرح پیش کیا گیا جیسے وہ ہی عوام کے دکھوں کا مداوا کرسکتی ہیں جس سے لاڈلہ ازم کو پروان چڑھایا گیا اور وہ سیاسی قوتیں جو حقیقی عوامی نمائندہ تھیں ان کی ایسی درگت بنائی گئی کہ یا تو وہ غدار قرار پائیں اور یا ان کے کردار کو اس ڈرامے سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔
جس صوبے کے ووٹوں سے اقتدار کی مسند تک بآسانی رسائی ہوتی ہے وہاں کے عوام خاص کر موجودہ حالات کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ان میں صحیح اور غلط میں تفریق کی کوئی اہلیت نہیں۔ اس صوبے کی تاریخ گواہ ہے کہ سینکڑوں سال سے اس نے ہر حملہ آور کو دل وجان سے خوش آمدید کہا اور ان میں مزاحمت کرنے والوں کو باغی کے نام سے موسوم کیا گیا۔
باقی جن صوبوں میں قیادت ،سیاست اور مزاحمت کی اہلیت تھی ان کو مختلف ہتھکنڈوں سے نہ صرف دبایا گیا بلکہ کچلنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا ان صوبوں میں بعد میں آنے والی نسلوں کو بھی مسخ کرنے کی روش اختیار کی گئی اور نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے ۔
تقسیم سے قبل جن قوتوں نے اس کی بنیاد رکھی وہ تو اب نہیں رہیں مگر ان کے راستے پر چلنے والوں نے آج ہر چیز پر تصرف حاصل کرلیا ہے مگر مسائل اب بھی وہی ہیں بلکہ مصنوعی قیادت کی وجہ سے ان کی گھمبیرتا اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ کسی کو کوئی حل نہیں سوجھ رہا۔
گذشتہ روز ہی صدر مملکت کے عہدے کو بے توقیری کے اوج کمال تک پہنچانے والے عارف علوی فرما رہے تھے کہ ہر مسئلے کا حل ڈنڈا نہیں ان کو یہ عقل تب آئی جب ڈنڈا ان کے سر پڑا جب تک ڈنڈا ان کا ہمنوا تھا تب وہ مطمئن تھے اور اس ڈنڈے سے ہر طرف من پسند نتائج حاصل کررہے تھے۔
اب بھی سب ٹھیک ہوسکتا ہے بشرطیکہ سیاست کو خدمت سمجھا جائے بجائے اسے اقتدار کا کھیل بنانے کے،ورنہ یہ حالات ایسی نہج پر پہنچ سکتے ہیں کہ پھر کف افسوس ملنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔