img

خیبر پختونخوا بجٹ، سازش اور عمران خان

خیبر پختونخوا ایک عجیب و غریب صوبہ ہے ۔ اب سے نہیں عرصہ دراز سے یہ خطہ بیرونی جارح قوتوں کی جارحیت کا مرکز بنا رہا ہے مگر ان بیرونی جارح قوتوں کو کامیابی تب ملی ہے جب پختونخواہی سے ان کو میر جعفر اور میر صادق جیسے غداروں کی خدمات حاصل ہوئیں ۔ مگر ان جارح قوتوں کو اس خطے میں کبھی بھی چھین کی نیند نصیب نہیں ہوئی ۔ اگر خوشحال خان خٹک نے مغل حکمرانوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا کردار ادا کیا تھا تو 1857 کی جنگ آزادی سے لیکر اگست 1947 تک انگریز حکمرانوں کو بھی پشتون حریت پسندوں نے دن میں آسمان پر تارے دیکھنے پر مجبور کیا تھا ۔ بالکل اسی طرح برطانوی حکمرانوں کے جانے کے بعد ان کے ورثاء ابھی تک پختونخوا کے کونے کونے میں شکست کے بعد شکست سے دوچار ہوتے رہے ہیں تاہم نام نہاد مذہبی سیاسی جماعتوں اور گروہوں کو جب امریکی اتحادیوں نے سابقہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں نہ صرف مالا مال بلکہ جنگی اور دہشت گردی کی صلاحیتوں سے دوچار کیا تو اس سے ایک طرف پشتونوں کی حقیقی سیاسی اور سماجی حیثیت متاثر ہوئی تو دوسری طرف پچھلی چار دہائیوں کے دوران بولنے اور قیادت کرنے والے سیاسی سماجی مذہبی اور جارحیت کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دینے والے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں رہنماؤں اور زعماء کو چن چن کر گولیاں مار کر اور بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا ۔

سن 2010 میں تاریخی آئینی ترمیم کے بعد جب پختونخوا کے پرامن محب وطن اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے پختونوں نے مملکت عزیز کو مکمل طور پر ایک جمہوری خودمختار اکائیوں پر مشتمل ملک بنانے کا تہیہ کیا تو پراسرار قوتوں نے سیاسی میدان میں مکمل طور پر ناکام عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کی سرپرستی شروع کر دی۔ برطانوی نوآبادیاتی دور کے وفادار خاندانوں اور 1947 کے بعد مقتدر اداروں کے پروردہ تابعداروں کو راتوں رات پاکستان تحریک انصاف میں شامل کروایا گیا۔ فوج کے مقتدر جاسوسی اداروں بالخصوص جنرل باجوہ ،جنرل ظہیر الاسلام، جنرل شجاع پاشا، جنرل فیض حمید اور دیگر کی سرپرستی کے باعث اس جماعت کو خیبر پختونخوا پر مسلط کرنے میں تو کامیابی ملی  مگر پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں یہ سازش ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔

سن 2013 سے لے کر اب تک ایک منظم سازش کی تحت پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا اسمبلی کے اکثریتی ممبران کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ گنتی کے چند ایک کا تعلق حزب اختلاف کی دیگر سیاسی جماعتوں سے ہے ۔ یہ بھی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ تمام ممبران اسمبلی فارم 45 کے بجائے فارم 47 کے نتیجے میں اس ایوان میں پہنچے ہیں اور یہ فارم 47 ان ممبران اسمبلی کو مفت میں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کی ادائیگی کے عوض ملے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انتخابات سے قبل سردار علی امین خان گنڈاپور کو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی بننے کا فیصلہ عمران خان اور کسی اور کے مابین غیر اعلانیہ سمجھوتے کا حصہ ہے۔ اگر ایسا نہیں تھا تو پاکستان تحریک انصاف کے دیگر اہم رہنماؤں اسد قیصر، عاطف خان اور شہرام ترکی سمیت کو قومی اسمبلی کیوں بجھوادیا گیا جبکہ تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش اور شوکت یوسفزئی کو ہروایا دیا گیا ۔

بہر حال بات ہو رہی تھی بجٹ کی منظوری کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں جاری لفظی جنگ کی ۔ وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ انہوں نے بجٹ کو وقت سے پہلے منظور کرکے ان کی حکومت کے خلاف سازش کو ناکام بنا دیا جبکہ عمران خان کی بہن کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے عمران خان  کو مائنس کر دیا ہے. کسی بھی دوسری سیاسی جماعت ، سیاسی رہنما،دانشور یا کسی لکھاری ٹیکنوکریٹ نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور یا سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کو مشورہ نہیں دیا تھا کہ  بجٹ کی منظوری کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات یا مشاورت سے مشروط کیا جائے بلکہ ان دونوں حضرات نے از خود یہ شرط عائد کی تھی جو پوری نہ ہوسکی۔

ویسے تو علی امین گنڈہ پور سابق وزرائے اعلیٰ پرویز خٹک اور محمود خان کی کارکردگی سے اپنے آپ کو مستثنی قرار دے رہے ہیں مگر قائد حزب اختلاف نے ان دونوں وزرائے اعلیٰ کو عمران خان کا وژن قرار دیا ۔ عمران کے اس وژن جس پر عمل درآمد کرنے پر علی امین گنڈاپور فخر کر رہے ہیں کے تحت سونامی ٹری ، پشاور بس منصوبے سمیت کوئی ایسا منصوبہ نہیں جس میں کرپشن اربوں روپوں میں نہ ہوئی ہو۔ اس وژن کے تحت صرف کوہستان جیسے ایک پسماندہ ضلع  میں کرپشن چالیس ارب روپے سے زیادہ ہے ۔

خیبر پختونخوا میں 2013 سے اب تک پاکستان تحریک انصاف سے منسلک کوئی ایسا ممبر پارلیمان نہیں ہوگا جو مالی بدعنوانی۔اختیارات کے ناجائز استعمال اور اقرباء پروری میں ملوث نہیں۔ 2013 کے انتخابات کے خرچے کے لئے ادھار لینے والے اب اربوں روپے املاک کے مالکان بن چکے ہیں۔ 2013 کے انتخابات سے قبل پشاور میں کرایہ کے مکان میں رہنے والے اب پوش سوسائٹی کے مکانات اور کمپنیوں کے مالکان بن چکے ہیں۔ سوات ہی سے ایک غریب قصائی اب والی سوات اور مرحوم سیٹھ عزیز الرحمان کی املاک کو اربوں روپے میں خرید رہا ہے ۔ سوات ہی کے ایک حکیم جو اپنے آپ کو اب ڈاکٹر لکھتا اور کہتا ہے سوات پشاور کیا بیرون ملک جائیداد اور املاک کا مالک بن چکا ہے ۔ بہت سے اور بھی ہیں جو تحریک انصاف میں آنے کے بعد اب مالدار ترین افراد کی فہرست میں جگہ بنا چکے ہیں۔

 اب چونکہ بات بجٹ کی ہو رہی ہے تو سردار علی امین خان گنڈاپور کو ایک سال کے لئے ایک اور موقع میسر ہوا ہے کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ محاذ آرائی کے ڈراموں کو پروان چڑھا دے ۔ ملک پر برائے نام حکمرانی کرنے والے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کسی بھی طور پر عمران خان کے ساتھ رچائے جانے والے ڈرامے میں فریق نہیں۔ یہ ڈرامہ مکمل طور پر ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا رچایا ہوا ہے اور اس ڈرامے کامقصد خیبر پختونخوا کی حقیقی جمہوری نمائندہ سیاسی جماعتوں کو قیادت اور اقتدار سے دور رکھنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ عمران خان اور سردار علی امین گنڈاپور اس کئی سو اقساط پر مبنی ڈرامے میں بیک وقت ہیرو اور ولن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

نوٹ: گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر  کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA