img

دیر آید درست نا آید

 

فارسی کی ضرب المثل دیر آید درست آید کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تقریباً غلط ثابت کر دیا ہے۔  انتخابات کے نتائج میں تاخیر نے سیاسی پارٹیوں میں جو تشویش اور بے چینی پیدا کی ہے اس کے نتائج آنے والے دنوں میں زیادہ اچھے دکھائی نہیں دے رہے۔

 الیکشن سے قبل ملک میں غیریقینی صورتحال تھی، انتخابات کسی بھی وقت موخر ہونے کا خدشہ تھا۔ سیکورٹی کی صورتحال پورے ملک میں عمومی اور خصوصی طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کافی سنگین تھی۔ باجوڑ، ڈیرہ اسماعیل خان، پشین اور ملک کے دوسرے علاقوں میں جو واقعات پیش آئے اس کے بعد پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد یقیناً حکومت کا بڑا فیصلہ تھا۔

پولنگ کے موقع پر پورے ملک میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی تھی، جس پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کافی تنقید کی گئی۔ اس اقدام کے نتیجے میں انتخابات کافی حد تک پرامن رہے۔ مگر الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابی نتائج میں تاخیر کو تمام سیاسی، صحافتی اور سماجی حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی  وجہ سے انتخابی عمل پر شکوک و شبہات قدرتی امر ہے۔

اس سے قبل عام انتخابات کو ‘‘خاص انتخابات’’ بنانے کا تجزیہ ہو رہا تھا۔ اب چونکہ انتخابات ہو چکے ہیں، زیادہ تر نتائج سیاسی اور صحافتی پنڈتوں کے تجزیوں کے برعکس آئے ہیں۔ تاثر تھا کہ فیصلے پہلے سے ہو چکے ہیں، الیکشن کی بجائے سلیکشن سے کام لیا جائے گا، پنجاب کو مسلم لیگ ن، سندھ پیپلز پارٹی اور خیبر پختونخوا کو جے یو ائی اور اے این پی وغیرہ کے حوالے کیا جائے گا جبکہ بلوچستان میں باپ اور دوسری چھوٹی پارٹیوں سے بات ہو چکی ہے۔ مگر انتخابی نتائج نے عوام کے ساتھ ساتھ خواص کو بھی حیران کر کے رکھ دیا۔ آٹھ فروری کی رات بارہ بجے، پھر دو بجے اور آخر نو فروری کی صبح دس بجے الیکشن کمیشن کی طرف سے نتائج کے موصول ہونے کی توقع تھی لیکن ای سی پی کی طرف سے کوئی باقاعدہ اور حتمی نتیجہ وقت پر نہ آسکا۔

 سرکاری اورحتمی نتائج کے نتیجے میں چند دنوں میں حکومت بن جائے گی، جس جماعت نے انتخابات  میں زیادہ سیٹیں جیتی ہیں ان کی طرف سے جمہوری استحکام کے دعوے کئے جائیں گے، جو ہارے  ہیں وہ دھاندلی کا رونا روئیں گے۔  ‘‘آزادوں’’ کو ‘‘خصوصی مہمانوں’’ کا درجہ حاصل ہوگا۔ کوئی مل کر حکومت بنانے کی بات کرے گا تو کوئی اہم وزارتوں کے حصول میں مصروف ہو گا،۔باقی رہ جانے والے مجبورا ًاپوزیشن بنچوں پر بیٹھ کر اپنی جمہوریت پسندی کا مظاہرہ کریں گے۔  

یہی سب ماضی میں ہوا ہے، حال میں یہی دیکھا جا رہا ہے اور مستقبل بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہونے والا۔ ایک مرتبہ پھر پرانے سکرپٹ، ڈائریکشن اور اداکاروں کے ساتھ ساتھ کچھ نئے چہروں کو سٹیج پر لایا گیا ہے۔ لیکن دنیا بدل چکی ہے، ہم گلوبل ویلج میں رہ رہے ہیں، سارے الیکشن پراسس کے بعد نتائج میں تاخیر اور امن و امان کی صورتحال پر بین الاقوامی اداروں خصوصا ًامریکہ طرف سے تشویش قابل غور ہے۔ اب کی بار صرف نعروں سے کام نہیں چلے گا۔ ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر مستقبل کے فیصلے کرکے ہی پاکستان کی تقدیر کو بدلا جا سکتا ہے۔ جمہوری عمل کے تسلسل کا فروغ ہی ملک کی تقدیر کو بدلنے کا واحد راستہ ہے جو بدقسمتی سے آج تک اپنایا نہیں گیا۔  

الیکشن کمیشن کی طرف سے کی گئی کوتاہی کی مذمت تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہونی چاہیے اور مل کر ایسے غیرجمہوری اقدامات کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند کرنا ہوگا۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA