img

سیاسی کشمکش کے اثرات

 

بعض سیاسی لیڈر اپوزیشن میں ہوتے ہوے بھی حکومتی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انکی مزاحمتی سیاست کی وجہ سے حکومتیں اپنے ایجنڈے پر عملدر آمد نہیں کر سکتیں اور یوں پورا نظام مفلوج ہو کے رہ جاتا ہے۔ بیشتر ممالک میں سیاسی جماعتوں کی کشمکش کے اثرات داخلی سیاست تک محدود رہتے ہیں مگر طاقتور ممالک کے داخلی انتشار کبھی کبھار عالمی سیاست پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخالفین سے انتقام لینے کی بات اتنی مرتبہ کر چکے ہیں کہ اب اسے قابل توجہ نہیں سمجھا جاتا۔ سابقہ صدر کی طاقت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انکے کہنے پر ایوان زیریں میں انکے مخالفین کے خلاف کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں جو تحقیقات شروع کر کے ایک طرف میڈیا کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں اور دوسری طرف اپنے حامیوں کی تسلی و تشفی کا سامان بھی مہیا کردیتی ہیں۔

امریکہ میں تکرارو تصادم کی یہ سیاست اب کوئی نئی بات نہیں رہی، مگر چند روز پہلے سابقہ صدر نے ایک ایسا بیان دیا جس نے امریکہ کے علاوہ یورپ میں بھی ہیجان برپا کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ روس نے اگر نیٹو ممالک پر حملہ کیا تو وہ اسکی حوصلہ افزائی کریں گے ۔ ان کی رائے میں ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ نیٹو ممالک نے اپنے دفاع کا سارا بوجھ امریکہ پر ڈال رکھا ہے اور ان میں سے کوئی بھی اپنا قرض ادا نہیں کر رہا۔

 ان کے اس بیان پر یورپی ممالک نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ جرمنی کے چانسلر  Olaf Scholz    اور فرانس کے صدر Emmanuel   Macron نے امریکہ پر انحصار کم کرنے کے اعلانات کئے ہیں۔

ڈیمو کریٹک پارٹی کیونکہ نیٹو ممالک کو روس اور چین کے خلاف ایک مضبوط دفاعی حصار سمجھتی ہے اس لیے اس نے ہمیشہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایسے بیانات کی شدید مخالفت کی ہے۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کا حامی میڈیا کہہ رہا ہے کہ نیٹو اتحاد کے خاتمے کے بعد امریکہ تنہا ہو کر ایک علاقائی طاقت بن جائے گا۔ اس کا دنیا بھر میں رعب اور دبدبہ نیٹو اتحاد ہی کی وجہ سے ہے۔

یورپی ممالک اس سال نومبر میں ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات کے پیش نظر خاصی تشویش میں مبتلا ہیں۔ صدر بائیڈن کی کم ہوتی ہوئی مقبولیت ان کے اضطراب میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ امریکی سیاست پر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرفت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صدر بائیڈن کوشش کے باوجود یوکرین کے لیے عسکری امداد کا بل کانگرس سے منظور کرانے میں کامیاب نہیں ہو رہے۔ ہفتے کے دن روسی افواج کا یوکرین کے شہر   Avdiivka   پر ایک طویل جنگ کے بعد قبضہ ظاہر کرتا ہے کہ یوکرین زیادہ دیر تک روس کا مقابلہ نہ کر سکے گا۔ یوکرین کے ملٹری کمانڈر General   Oleksandr   Syrsky   نے کہا ہے کہ انکی فوج کو اسلحے کی کمی او ر رو س کی بے پناہ فضائی طاقت کی وجہ سے پسپا ہونا پڑا ہے۔

امریکہ کے دفاعی ماہرین کے مطابق صدر بائیڈن اگر یوکرین کے لیے اربوں ڈالر کی عسکری امداد جاری رکھ سکتے تو اسے تزویراتی نوعیت کے اس اہم شہر سے پسپائی اختیار نہ کرنا پڑتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی دوسری مدت صدارت کے پہلے دن ہی یوکرین جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیں گے۔ ریپبلیکن پارٹی ایوان نمائندگان میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر یوکرین کو امداد مہیا کرنے کی قرارداد کو منظور نہیں ہونے دے رہی۔ یہ سب کچھ ڈونلڈ ٹڑمپ کے احکامات کے عین مطابق ہو رہا ہے۔

 ممتاز کالم نگار ڈیوڈ بروکس نے سولہ فروری کے کالم میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست کو  Narcissistic Authoritarianism  یعنی خود پرست مطلق العنانیت قرار دیتے ہوے کہا ہے کہ اس طرز سیاست نے امریکی جمہوریت کو مفلوج کر رکھا ہے۔ کالم نگار نے لکھا ہے

“Conflict   is   an   eternal   part   of   public   life,   but   it   is   conflict   of   a   limited   sort,   a   debate   among   patriots,   not   a   death   match   between   the   children   of   light   and   the   children   of   darkness.”

ڈیوڈ بروکس ٹرمپ جیسے آتش مزاج پاپولسٹ کے ساتھ افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں مگر بعض دانشور وں کی رائے میں ڈونلڈ ٹڑمپ کو سیاسی مکالمے کے مدد سے قائل نہیں کیا جا سکتا‘ وہ امریکی ریاست ہی کو نہیں بلکہ پورے ورلڈ آرڈر کونقصان پہنچا رہاہے۔ دی نیویارک ٹائمز کے کالم نگار Charles  Blow  نے 15فروری کے کالم میں لکھا ہے کہـ’’ ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے ملک کے لیے جو خظرات پیدا کر رہا ہے ان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے‘‘ ۔ کالم نگار نے اس رائے کا اظہار کیا ہے ـ ’’ ملک کو ببچائے بغیر بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔

“You  can’t   make   the   country   better   without   saving   it.”

 

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA