img

صدارتی انتخابات۔ سہ فریقی اتحاد بحالی کے راہ پر

 

اس بار کے صدارتی انتخابات میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سنی  اتحاد کونسل کے نامزد امیدوار محمود خان اچکزئی ایک دوسرے کے مد مقابل  ہیں۔ توقع ہے کہ آصف علی زرداری با آسانی یہ معرکہ سر کرلیں گے اور دوسری بار صدارتی عہدے ہر براجمان ہوں گے ۔

ملک بھر کے بہت سے سیاسی حلقوں اور تجزیہ کاروں نے محمود خان اچکزئ کے صدارتی امیدوار اور وہ بھی پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار بننے پر حیرت کا اظہار کیا ہے مگر اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کیونکہ ماضی قریب میں بھی محمود خان اچکزئی اور عمران خان اس سہ فریقی اتحاد  میں شامل تھے جس کا تیسرا فریق مرحوم قاضی حسین احمد کی جماعت اسلامی تھی ۔ ابھی تک جماعت اسلامی نے محمود خان اچکزئی کے حمایت کا اعلان تو نہیں کیا مگر توقع ہے کہ بہت جلد محترم سراج الحق صاحب مرحوم قاضی حسین احمد صاحب کی کمی پوری کردیں گے ۔

سن2008 کے عام انتخابات سے قبل کس کے کہنے یا مشورے پر سہ فریقی اتحاد صرف اور صرف انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کیلئے معرض وجود میں آیا تھا ؟جس وقت سہ فریقی اتحاد نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا  تو اس وقت محترمہ شہید بے نظیر بھٹو بقید حیات تھیں ۔ نادیدہ قوتوں کی بالواسطہ یا بلاواسطہ ہدایات  پر میاں نواز شریف بھی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا سوچ رہے تھے مگر شہید بے نظیر بھٹو نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا تھا ۔ بہر حال اب جبکہ محمود خان اچکزئی  اور عمران خان کے رفقاء کار ایک بار پھر 2008 کی طرح آصف علی زرداری کے خلاف متحد ہوگئے ہیں تو یہ اتحاد کسی بھی طور پر جمہوریت کے بہتر مستقبل کے حق میں نہیں ہوسکتا۔

کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ اپریل 2010 کی تاریخی اٹھارویں آئینی ترمیم بہت سے عاصیوں اور جمہوریت دشمن قوتوں کی آنکھوں کا کانٹا یا گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔ وہ کسی بھی طور پر نہیں چاہتے کہ ملک کے غیر پیداواری بالخصوص دفاعی اخراجات کم اور پیداواری اخراجات زیادہ ہو جائیں ۔ہر فرد کو معلوم ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کی سزا نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی، سابق صدر آصف علی زرداری ، سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور انکے رفقاء کار کی دی گئی تھی بلکہ سزاواروں میں عوامی نیشنل پارٹی اور اس کے کارکن اور رہنما بھی سر فہرست رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پختون قوم پرست سیاسی جماعتوں کے تقسیم رہنے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیاسی بحران میں محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان برابر کے شریک رہے ہیں ۔ اس بار 2024 کے انتخابات میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف انتخابی اتحاد میں سب سے بڑی رکاوٹ کوئی اور نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمان ہی بتائے جاتے ہیں۔ آصف علی زرداری کے خلاف محمود خان اچکزئی کے امیدوار بننے پر بلاول بھٹو زرداری نے رد عمل میں کہا کہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار بننے کے بعد اب محمود خان اچکزئی قوم پرست سیاسی رہنما نہیں رہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن محمود خان اچکزئی کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور صدارتی انتخابات میں حصہ لینا ان کا جمہوری حق سمجھتے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک کے مقتدر اور پر اسرار حلقے کسی بھی طور پر آصف علی زرداری سمیت قوم پرست ، ترقی اور جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو ملکی مسائل اور مشکلات کے حل پر متحد و متفق نہیں دیکھ سکتے ۔اسی بنیاد پر  2011 میں ایک منظم طریقے سے عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کی سرپرستی کرکےاسے پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادی عوامی نیشنل پارٹی کے خلاف لاکھڑا کر دیا گیا تھا ۔ جس طرح 2008 کے انتخابات سے قبل پر اسرار قوتوں نے جمہوری نظام کے خلاف پارلیمان سے باہر پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی پر مشتمل ایک سہ فریقی اتحاد تشکیل دیا  تھا اسی طرح ایک اور حزب اختلاف کی تشکیل پر کام جاری ہے مگر اس بار یہ سہ فریقی کے بجائے چار جماعتی اتحاد بھی بن سکتا ہے کیونکہ محمود خان اچکزئی کے بعد مولانا فضل الرحمان بھی عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے آنکھوں کا تارا بن ر ہے ہیں ۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA