صدر ٹرمپ نے اپنے پرستاروں سے پوچھا کہ کیا کسی شخص نے دو ہفتے میں اتنی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جمعرات کے دن امریکی ریاست آئیووا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دو ہفتے نہایت شاندار تھے۔اس ریلی سے دو گھنٹے پہلے ایوان نمائندگان نے کھربوں ڈالرز کا ایک ایسا بل پاس کیا جو صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے نہایت ضروری تھا۔ اس کے حق میں 218 اور مخالفت میں 214 ووٹ پڑے۔اس بل کی مخالفت کیونکہ ریپبلیکن پارٹی کے اندربھی ہو رہی تھی اس لیے اس کی کامیابی مشکوک تھی۔ مگر صدر ٹرمپ نے چھڑی اور گاجر کی پالیسی اختیار کر کے مخالفین کو راضی کر لیا۔اس کے باوجود دو ریپبلیکن قانون سازوں نے 212ڈیموکریٹس کے ساتھ ملکر اس بل کے خلاف ووٹ دئے۔
صدر ٹرمپ نے اسے بگ بیوٹی فل بل کا نام دیا ہے۔ انہیں اس کے پاس ہونے کا یقین تھا اس لیے انہوں نے پہلے ہی سے آئیووا کے شہر Des Moines میں ایک ریلی کا بندوبست کر رکھا تھا۔ اس ریلی سے نوے منٹ کے خطاب میں انہوں نے اپنی کامیابیوں کا ذکر خاصی تفصیل سے کیا۔ گذشتہ دو ہفتوں میں ان کی ایک بڑی کامیابی بائیس جون کو ایران کی تین جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ تھا جس کے بعد صدر امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا پر گردش کرنے والی بعض رپورٹوں کے مطابق اصفہان‘ نطنز اور فوردو کی نیوکلئیر تنصیبات کو نقصان ضرور پہنچا ہے مگر اس کا ازالہ چند ماہ میں کیا جا سکتا ہے۔
مغربی میڈیا پر اس کامیابی کے ذکر کے دوران ہی صدر امریکہ ہالینڈ کے دارلحکومت ہیگ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے گئے۔ اس اجلاس میں بھی ایک کامیابی انکی منتظر تھی۔ صدر ٹرمپ ہمیشہ سے یورپی ممالک سے دفاعی اخراجات میں اضافے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ اس اجلاس میں یورپی ممالک کی اکثریت نے اپنے دفاعی بجٹ میں پانچ فیصد اضافے کا اعلان کیا۔
انہی دو ہفتوں کے دوران امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹیو آرڈرز کو نہ صرف آئین کے مطابق قرار دیا بلکہ وفاقی عدالتوں کے صدارتی احکامات کو غیر قانونی قرار دینے کی روش کی حوصلہ شکنی بھی کی۔ یوں صدر امریکہ ریپبلیکن پارٹی اور کانگرس سے اپنی مرضی کی قانون سازی کروانے کے بعد سپریم کورٹ سے بھی اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ لینے میں کامیاب ہو گئے۔
دوسری مدت صدارت کے آغاز ہی سے صدر ٹرمپ کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ دنیا بھر کے ممالک کی برآمدات پر بھاری ٹیرف لگانے سے امریکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ملک بھر میں ٹیرف پر ہونے والی بحث میں وہ یہ کہہ چکے تھے کہ کچھ حاصل کرنے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ وہ یہ نقصان اٹھانے کے لئے تیار تھے مگر اس محاذ پر بھی انہیں ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ امریکی معیشت ٹیرف کے ممکنہ نقصانات کی خبروں کے باوجود تنزل کا شکار نہ ہوئی۔ گذشتہ ہفتے امریکی سٹاک مارکٹ میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ گذشتہ چھ پاہ میں ملک بھر میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اب تک کئی لاکھ مہاجرین کو واپس بھیجاجا چکا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے لبرل میڈیا کے خلاف جس غیض و غضب کا مظاہرہ کیا ہے اس کے نتیجے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں خاصا خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ کئی معروف صحافی‘ کالم نگار اور اینکرز ملازمتیں چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ان سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے CBS جیسے بڑے میڈیا ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی طرف سے دائر کردہ ایک مقدمے کوسولہ ملین ڈالر دے کر ختم کیا ہے۔ صدر امریکہ نے یہ مقدمہ 2024 کے صدارتی انتخاب میں اپنی ڈیموکریٹک مد مقابل کاملہ ہیرس کے ایک انٹرویو کوغیر پیشہ ورانہ ایڈیٹنگ کا الزام لگاکر دائر کیا تھا۔ ماہرین کی رائے میں یہ ایک بے سرو پا مقدمہ تھا مگر CBS نے صدر امریکہ کے عتاب سے بچنے کے لیے اسے بھاری جرمانہ دے کر ختم کر دیا۔
گذشتہ دو ہفتوں میں ملنے والی ان کامیابیوں کی آخری کڑی جمعرات کو کانگرس سے پاس ہونے والا ملٹی ٹریلین ڈالرز کا وہ بل ہے جسے ڈیموکریٹک پارٹی صدر ٹرمپ کے زوال کا آغاز قرار دے رہی ہے۔ اس بل میں ایک طرف طبقہ امرا اور کارپوریشنوں کے ٹیکس میں بڑی کٹوتی کی گئی ہے تو دوسری طرف غریبوں کو میڈی کیڈ ‘ فوڈ سٹیمپس اور کم قیمت پر دی جانے والی اشیائے خوردو نوش میں ایک کھرب ڈالرز کی تخفیف کر دی گئی ہے۔ ڈیمو کریٹک پارٹی اس بل کو غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین کر امیروں کو مراعات دینے کا بل کہہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس قانون سازی کے نتیجے میں امریکہ کے قرض میں تین کھرب ڈالرز کا اضافہ ہو جائے گا۔ ریپبلیکن پارٹی جب اقتدار میں نہ ہو تو وہ حکومتی اخراجات میں کمی اور بجٹ کو بیلنس کرنے کا مطالبہ کرتی رہتی ہے مگر اس بل میں اس نے ان دونوں اصولوں کو پس پشت ڈا ل کر اخراجات اور قرض میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر حکیم جیفری نے کہا ہے کہ وہ ایک ملک گیر مہم چلا کر لوگوں کو اس بل کے نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ معاشی ماہرین کے مطابق صرف ہیلتھ کیئر اور میڈی کیڈمیں کٹوتی سے گیارہ ملین سے زیادہ افراد متاثر ہوں گے۔ اس بل کے خلاف عوامی رد عمل کا صحیح اندازہ اگلے سال نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں سامنے آئے گا۔ آج سے ڈیڑھ سال بعد اگر ریپبلیکن پارٹی ہاؤس اور سینٹ دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو دیتی ہے تو صدر ٹرمپ کی گذشتہ دو ہفتوں کی کامیابیاں دریا برد ہو جائیں گی۔ اگر چہ کہ غریبوں کے منہ سے نوالہ کھینچنے والے پروگرام کا آغاز وسط مدتی انتخابات کے بعد شروع ہو گا مگر لوگوں نے ابھی سے اپنے تحفظات کا اظہار شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بل بہت جلد صدر ٹرمپ کی کامیابیوں کو بہا لے جائے گا