دنیا کے کئی ممالک کے امریکا کے ساتھ اختلافات ہیں لیکن افغانستان کے معاملے پر پوری دنیا امریکا کی حامی نظر آتی ہے۔ اقوام متحدہ کے تو کیا ہی کہنے۔ امریکا کے اشارہ ابرو کا ہمیشہ منتظر رہنے والا یہ ادارہ موجودہ حالات کے تناظر میں اپنی وقعت کھوتا نظر آرہا ہے۔ مظلوم دنیا اقوام متحدہ سے کردار ادا کرنے کی توقع کرتی ہے مگر اقوام متحدہ بے چارا خود پریشان ہے کہ اپنا دکھڑا کس فورم پر لیجا کر روئے؟
غزہ کی صورتحال میں اقوام متحدہ جیسے ادارے کی بے بسی دیکھتے ہوئے بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کو اب نئے سرے سے سوچنا ہوگا کہ اقوام متحدہ جیسے ادارے کی اب کوئی ضرورت رہی بھی ہے یا نہیں؟ اور اگر ضرورت یا کوئی افادیت ہے تو اس ادارے کو امریکی چنگل سے کیسے آزادی دلائی جائے۔ امریکا 20 سال افغانستان پر قابض رہا مگر ایک بھی دن افغانستان کو فتح نہیں کرسکا۔ بیس سال بعد افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑ کر طالبان کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ امریکا خود بھی افغان عوام کو وہ ماحول نہیں دے سکا جس کی آج وہ طالبان سے امید لگائے بیٹھا ہے۔ افغانستان کی فضاؤں پر آج بھی امریکا کا کنٹرول ہے جس کا ثبوت مختلف افغان صوبوں میں امریکی ڈرون طیاروں کی پروازیں ہیں۔ چین نے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا تو امریکا کو بھی یاد آیا کہ شاید اس کو انخلا کے بعد افغانستان کی جانب مڑ کر دیکھنا چاہئے تھا۔ اب اقوام متحدہ ہو یا امریکی ادارے، سب کی رپورٹس میں یہ بتایا جاتا ہے افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، وہاں خواتین کو ملازمت کا حق نہیں ہے، لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے اور افغانستان ان دنوں خواتین اور لڑکیوں کی امیدوں کا قبرستان بن چکا ہے۔ افغان طالبان حکومت ایسی تمام رپورٹس کو مسترد کرتی آئی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ افغانستان کے اہم ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط تو ہیں لیکن دنیا کے کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔
امریکا نے حال ہی میں افغانستان میں طالبان ریاست کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے خواتین کے کام، تعلیم کے حوالے سے اپنے احکامات کو تبدیل نہیں کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں رونما ہونے والی مبینہ تباہ کاریوں کا تجزیہ بھی کیا گیا ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری اینٹونی بلنکن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اسلامی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، انہوں نے کہا کہ قیدیوں کی 90 فیصد شرح سیاسی لیڈران پر مشتمل ہے،2021 میں افغانستان پر قبضے کے بعد طالبان نے ملک میں انتشار اور بد امنی کی صورتحال برپا کر دی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ طالبان نے خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ملک میں دہشتگردی کا ماحول قائم کر دیا ہے۔ بیان کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغان میڈیا کو پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، صحافت افغان سرزمین پر ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مندرجات تقریباً وہی ہیں جو اس سے قبل اقوام متحدہ، یورپی یونین یا انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کی رپورٹس میں سامنے آتے رہے ہیں۔
افغانستان اس وقت عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ طالبان گو کہ یہ کہتے ہیں کہ باقاعدہ طور پر ان کی حکومت کو تسلیم نہ کئے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو ایسا کہنا خود فریبی ہے۔ دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات ہر ملک کی ضرورت ہیں۔ افغانستان کے عوام اس وقت مختلف مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔ حتیٰ کہ بیرون ملک مقیم افغان شہریوں کو بھی مسائل کا سامنا ہے۔ افغان مہاجرین کو کچھ زیادہ ہی سنگین مسائل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ پڑوسی ممالک کے حوالے سے زیادہ امکانات ظاہر کئے جاتے رہے کہ وہ جلد افغان حکومت کو تسلیم کرلیں گے۔ پاکستان کو ان ممالک میں سر فہرست سمجھا جاتا تھا لیکن اب پاک افغان کشیدگی کی وجہ سے یہ امکان معدوم نظر آرہا ہے۔ چین، روس، قطر، سعودی عرب اور ترکیہ سے بھی اسی قسم کی توقعات وابستہ کی گئی تھیں لیکن اب ہر ملک امریکا کی جانب دیکھتا ہے حالانکہ امریکا نے ایسا کوئی واضح اعلان نہیں کیا کہ خبردار جو ملک طالبان حکومت کو باقاعدہ تسلیم کرے گا اس کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چین دنیا کے باقی ممالک سے زیادہ پھرتی کا مظاہرہ کررہا ہے، اس وقت چین کا سفیر کابل میں اور افغانستان کا سفیر بیجنگ میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ چین کی اسی دلچسپی کی وجہ سے امریکا نے ایک بار پھر اس خطے کی جانب مڑ کر دیکھا ہے۔ امریکا کے دوبارہ یہاں مڑ کر دیکھنے کی ایک وجہ ایران اور پاکستان کے تعلقات کی حالیہ گرمجوشی بھی ہے۔ اب اگر امریکا نے اپنا ارادہ ظاہر کردیا ہے کہ اس کا طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تو کوئی دوسرا ملک کیسے یہ جرات کرسکتا ہے؟
امریکی رپورٹ میں طالبان حکومت کو تسلیم نہ کئے جانے کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں، اس کا مطلب یہی ہے کہ جب تک افغان طالبان اپنے ملک سے یہ مسائل ختم نہیں کریں گے تب تک وہ دنیا کے ساتھ نہیں چل سکتے اور دنیا ان کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا طالبان کی صفوں کے اندر بھی ان مسائل پر سنجیدگی کے ساتھ سوچا جارہا ہے؟ یا پھر یہ سمجھ لیا جائے کہ دنیا اور طالبان اپنی اپنی انا کی تسکین کرتے رہیں گے یا اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہیں گے اور افغانستان اسی طرح عالمی تنہائی کا شکار رہے گا؟