img

عظمتِ پختون اور عظمتِ پختو

 

فروری کا مہینہ پختون قوم کی تاریخ میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس مہینے میں ایک شخصیت نے  جنم لیا جو پختونوں کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے ساری عمر جدوجہد کرتی رہی یعنی فخر افغان خان عبدالغفار خان معروف بہ باچا خان 6 فروری کو پیدا ہوئے۔

دوسری ہستی جن کا یوم وفات اسی ماہ میں ہے وہ ہستی باچاخان کے مشن کے لئے اس طرح جدوجہد کرتی رہی کہ اس سے عظیم باچاخان کے مشن کی تکمیل ممکن ہو ۔ اس ہستی نے تمام عمر عظمت پختو کے لئے کام کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج اس شخصیت کا نام اگر پختو ادب سے الگ کردیا جائے تو پختونوں کے پلے کچھ نہیں رہنا۔ اس ہستی کا نام قلندر مومند ہے۔ 4 فروری کو قلندر مومند کی برسی تھی۔

جب ذوالفقار بھٹی صاحب کی جانب سے ان دونوں شخصیات پر لکھنے کا حکم ملا تو اپنی کم علمی اور بے ادبی کا احساس شدت اختیار کر گیا کہ میں کیونکر ان شخصیات پر کچھ لکھنے کے قابل ہوں،پھر اللہ سے مدد مانگی اور یہ سطور لکھنے کے لئے کمر کس لی۔

باچاخان خطے کی تاریخ میں اس لئے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں کہ وہ ان چند سیاسی قائدین میں سرخیل کی حیثیت کے حامل ہیں جنہوں نے اپنے قول وفعل سے اپنے موقف کی سچائی کو ثابت کیا۔  وہ لوگ بھی آج ان کی سیاسی وفکری خدمات کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں جن کے سامنے اس عظیم شخصیت کی وہ تصویر پیش کی گئی جو نہ صرف باچاخان کے شایان شان نہیں بلکہ سراسر ظلم پر مبنی ہے۔

گذشتہ سال عظیم باچاخان کی برسی کی تقریب اسلام آباد میں منعقد کی گئی جس سے پختون اہل علم وقلم نے خطاب کرتے ہوئے اس عظیم قائد کو اپنے اپنے طریق پر خراج عقیدت پیش کیا مگر میرے نزدیک اس برسی تقریب کی اہم تقریر معروف صحافی  اعزاز سید اور عاصمہ شیرازی کی تھی۔

اعزاز سید کے بقول انہوں نے بچپن سے پڑھا تھا کہ جناح صاحب بڑے لیڈر تھے مگر جب انہوں نے آزاد تاریخ سے رجوع کیا تو ان پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ باچاخان صرف بڑے ہی نہیں بہت بڑے لیڈر تھے،اعزاز سید کی یہ بات سن کر میرے لیے اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل تھا کیونکہ جس صوبے سے اعزاز سید کا تعلق ہے وہاں باچاخان کو عام طور پر اچھے الفاظ سے یاد نہیں کیا جاتا۔

عاصمہ شیرازی نے اپنی تقریر میں باچاخان کے فلسفہ عدم تشدد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس فلسفہ کی ملک کو آج جتنی ضرورت ہے شاید ماضی میں اس قدر نہ تھی ۔ بعد ازاں یوٹیوب پر اپنے چینل سے نشر کئے گئے ولاگ میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ باچاخان کی جدوجہد کو نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نسل نو ان کے راستے پر چل سکے۔

باچاخان بابا سے متعلق اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ پڑھتے پڑھتے اور اس کو سمجھتے سمجھتے ہم جیسے کم علم وکم فہم لوگوں کی زندگیاں تمام ہو سکتی ہیں مگر ان کی سوچ وافکار کی وسعت سے باخبر ہونا بھی شاید کسی متلاشی حق کے حصہ میں آئے۔

گذشتہ صدی میں 3 شخصیات عدم تشدد کے فلسفے کی علمبردار تھیں،نیلسن مینڈیلا،مہاتما گاندھی اور  باچاخان۔ مینڈیلا اور گاندھی جن اقوام کو عدم تشدد کی تعلیم دیتے رہے ان کی تاریخ اس قوم سے قطعی مختلف ہے جس کو باچاخان عدم تشدد کی راہ پر لگانے کے لئے جدوجہد کرتے رہے ۔ باچا خان اس میں نہ صرف سرخرو رہے بلکہ مختلف ادوار کی سٹیبلش منٹس آڑے نہ آتیں تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ باچاخان اور گاندھی جی پر لکھنے والے نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ باچاخان کو سرحدی گاندھی کہنا درست نہیں مگر گاندھی کو ہندوستان کا باچاخان کہا جاسکتا ہے-

اب آتے ہی اس دوسری شخصیت کی جانب جس نے باچاخان بابا کے فلسفے کو اپنا نظریہ حیات بنایا اور ساری عمر اس کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور اس راہ میں کبھی پیٹھ نہیں دکھائی بلکہ باچاخان،ان کے فلسفے اور پختون قوم کی ذہنی وفکری آبیاری اپنے لہو جگر سے کی، جیسا کہ ان کا شعر ہے

گلستان می کا پہ وینو تازہ کیگی

ھر ازغے دے ھم زما پہ زڑھ کے مات شی

قلندرمومند کی ادبی خدمات پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے مگر آج ان کے بطور والد کردار پر کچھ لکھنے کی جسارت کرنا چاہوں گا۔

ہم بہن بھائی ان کو داجی کہہ کر بلاتے جیسا کہ اکثر پختون اپنے والد کو بلاتے ہیں ۔

بچپن ہی سے انہوں نے ہمیں کتاب سے ناطہ جوڑے رکھنے کا درس دیا اور کبھی بھی ان کا کوئی قول ایسا ہمیں دیکھنے کو نہیں ملا جو ان کے کسی فعل سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ ایک عرصہ ان کے سکھائے راستے پر چلتا رہا مگر معاشرے میں ان چیزوں کو عام نہ پاکر گمراہ ہونا ایک لازمی امر تھا۔  جب اردگرد پیسے والوں کی جے جے کار سے متاثر ہوا اور علم کو کتابوں تک محدود جانا تو داجی نے مجھے میرے بچپن کا ایک واقعہ سنا کر راہ راست کی جانب لانے کی کوشش کی۔ داجی نے کہا کہ ایک بار تم کسی پڑوسی کے گھر گئے جہاں وہ بجلی کے بورڈ میں پیچ کس سے پیچ کس رہا تھا تم نے اس سے پوچھا کہ آپ کیا کر رہے ہیں جس پر اس نے جواب دیا کہ کام کررہاہوں اور تم گھر آکر ہنستے رہے کہ وہ اسے بھی کام کہہ رہا تھا حالانکہ آپ نے تو ہمیں سکھایا ہے کہ صرف لکھنا پڑھنا ہی کام ہے۔

باچاخان کی طرح داجی بھی ہمیشہ سٹیبلشمنٹ کی آنکھ میں کھٹکتے رہے جن میں فوجی اور مذہبی دونوں قسم کی اشرافیہ شامل ہے مگر انہوں نے جس چیز کو بھی پرکھنے کے بعد حق جانا اس پر ڈٹے رہے۔ دنیا کی کوئی طاقت ان کو ان کے نظریات سے منحرف نہ کراسکی۔آج ان کی جنم بھومی پی ٹی وی کی ایک لابی سے ان کی تصویر اتارنے والے شاید اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ اس طرح وہ داجی کو اس مقام سے محروم کردیں گے جو ان کا مقدر ہے۔  اس امر کا فیصلہ تاریخ اور آئندہ نسلیں کریں گی کہ کون کس مقام کا حقدار ہے اور کس کو استحقاق کے باوجود اس کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA