ایک تو خود وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نئے نئے ہیں دوسرا ان کا جذبہ بھی جوان ہے لیکن ان کی میڈیا ٹیم خاصی بوسیدہ نظر آرہی ہے۔ میڈیا مینجمنٹ کا مسئلہ تحریک انصاف کی کوئی بھی حکومت حل نہیں کرسکی۔ وہی پرانا گھسا پٹا طریقہ اور دوسری جانب علی امین گنڈاپور کا سٹائل ہے جو بدلنے کا نام نہیں لے رہا۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس میں جب میڈیا سے متعلق کوئی ایونٹ ہو تو عامل صحافیوں کے بجائے "کرسیوں" کو دعوت دی جاتی ہے۔ کرسیوں کی یہ مخصوص لسٹ رکھنے والے سرکاری بابو شاید جانتے ہی نہیں کہ کاپی پیسٹ والی پریس ریلیز سے ہٹ کر نئے نئے وزیر اعلیٰ کی میڈیا میں مثبت اپئیرینس کا کیا طریقہ ہونا چاہئے۔ جب کسی واقعے میں ہلاک دہشت گردوں کے لئے بھی وزیر اعلیٰ کی جانب سے رنج و غم کا اظہار کیا جانے لگے تو سمجھ لینا چاہئے کہ کاپی پیسٹ کا یہ پرانا بوسیدہ طریقہ کسی دن مروائے گا۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ڈیجیٹل میڈیا ٹیم کی کارکردگی کی وجہ سے نہ صرف پنجاب کے عوام کو تبدیلی دکھائی جارہی ہے بلکہ مخالفین بھی ڈیجیٹل میڈیا کے موثر استعمال پر حیران ہیں، اور پورے پاکستان میں بھی یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ پنجاب میں تیزی سے کام ہورہے ہیں۔ بیرسٹر سیف ایک تجربہ کار ترجمان ہیں، وہ اپنے تئیں کوشش کررہے ہیں کہ میڈیا میں تحریک انصاف کا بیانیہ آگے بڑھائیں مگر وہ صوبائی حکومت کے معاملات سے زیادہ پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور کے حوالے سے تاثر تو یہی تھا کہ وہ پریس کانفرنس وغیرہ میں ہر قسم کے سوال کا جواب دینا جانتے ہیں لیکن وہ انٹرویو دینے سے ابھی تک گریزاں ہیں۔ یہ پابندی انہوں نے خود لگائی ہے یا پھر ان کے مشیروں کا مشورہ ہے؟ ابھی تک یہ گتھی سلجھائی نہ جاسکی۔ ضروری تو نہیں کہ انٹرویو کے دوران بھی دبنگ انداز اختیار کرتے ہوئے تڑیاں شڑیاں لگائی جائیں، اور اس کے بیک فائر ہونے کا خدشہ ہو۔ سیاسی کیرئیر یا نجی زندگی کے حوالے سے بھی انٹرویوز ہوسکتے ہیں، مگر علی امین گنڈاپور کو میڈیا سے دور رکھا جارہا ہے۔ چند چینلز کی لائیو کوریج اور دو چار ٹکرز کو ہی میڈیا مینجمنٹ سمجھ لیا گیا ہے، صوبائی حکومت بھی اسی پر اکتفا کررہی ہے اور سرکاری بابو بھی مطمئن ہیں کہ بس چلتی کا نام گاڑی ہے۔ اب تک علی امین گنڈاپور کا جو تاثر میڈیا کے ذریعے سامنے آیا ہے وہ ایک وزیر اعلیٰ سے زیادہ مزاحمتی کردار کا تاثر ہے۔ ایسا کردار جس کو شاید عمران خان نے اسی لب و لہجے میں حکمرانی کرنے کے لئے منتخب کیا ہو۔
وفاق لاکھ مرتبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی کا ارتکاب کررہا ہو لیکن خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے جس انداز میں للکارا جاتا ہے اس کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے ساتھ کسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ کرے گی۔ پچھلے دنوں صوبائی کابینہ کا کور کمانڈر ہاؤس میں افطار ڈنر صوبائی حکومت کی جانب سے میڈیا میں مینج نہیں ہوسکا اور بجائے یہ کہ اس خبر کے ساتھ پیشگی طور پر کھیلا جاتا الٹا اس خبر کے ذریعے تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ کھیلا گیا اور اس کھلواڑ میں صوبائی حکومت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑ گئی۔
علی امین گنڈاپور کا انداز ملاحظہ کریں، اپنی تازہ ترین پریس کانفرنس میں فرماتے ہیں کہ میں تمام صوبوں میں ورکرز کنونشن اور جلسے کروں گا، اپنے مطالبات سامنے رکھوں گا، دیکھتا ہوں کون مجھے روکتا ہے۔ انہوں نے باجوڑ ضمنی الیکشن پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ضمنی الیکشن کے نتائج سے ثابت ہوا کہ صوبائی حکومت نے انتخابی عمل میں کوئی مداخلت نہیں کی، ہم بھی باجوڑ میں دو نمبری کرسکتے تھے مگر ہم نے نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مخالف آزاد امیدوار نے پارٹی کا جھنڈا استعمال کیا اور عمران خان کی تصویر استعمال کی مگر ہم نے اس کو نہیں روکا اور عوام کی رائے کا احترام کیا۔ علی امین گنڈاپور نے یہ نہیں بتایا کہ باجوڑ کے کارکنوں یا ووٹرز کے جذبات کو پیشگی طور پر کیوں نہیں سمجھا گیا؟ اسی ٹکٹ کے چکر میں ایک مخلص کارکن ریحان زیب جان سے چلا گیا لیکن تحریک انصاف کی قیادت نے اس کے باوجود باجوڑ کو ہاتھ سے جانے دیا، اب مضحکہ خیز انداز میں آزاد امیدوار مبارک زیب کی کامیابی کو بھی تحریک انصاف کی کامیابی تو سمجھا جارہا ہے لیکن پارٹی کے اندر عجیب و غریب فیصلوں پر لب کشائی کی جرات شاید کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ اسی طرح کا ایک فیصلہ صوبائی کابینہ میں مشال یوسفزئی نامی نووارد وکیل کی نامزدگی کا بھی تھا جس نے آتے ساتھ ہی تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کے لئے مسائل کے انبار کھڑے کرنا شروع کردئیے۔ یہ خاتون اس لئے بھی نہیں سنبھالی جاسکتی کیوں کہ اس کے پاس بشریٰ بی بی کی تگڑی سفارش ہے۔ یہ تو مشال یوسفزئی کی جانب سے قیمتی گاڑیوں کی ڈیمانڈ کا معاملہ تھا جو میڈیا میں اچھلا اور ابھی تک اس معاملے کے افٹرشاکس صوبائی حکومت کو سہنا پڑ رہے ہیں لیکن اس معاملے کی درست انداز میں وضاحت بھی سامنے نہ لائی جاسکی۔ الٹا ایک خاتون صحافی پر بے بنیاد الزامات لگا کر میڈیا کو اپنا مزید دشمن بنالیا گیا۔ اس حوالے سے صلح صفائی بھی ہوچکی ہے اور موقع غنیمت جان کر تعلقات پھیلانے والے اپنے مقصد میں بھی کامیاب ہوچکے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر صوبائی حکومت کے کچھ اچھے کام یعنی عوامی فلاح کے کام ہیں تو ان کی پروجیکشن کون کررہا ہے؟ صرف مذمتی بیانات اور تعزیتی بیانات سے کام چلایا جاتا رہے گا؟
اب تو وزیر اعلیٰ اور تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم سے ہی توقع لگائی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی مہارت کے جوہر دکھائیں اور بوسیدہ طریقوں کے بجائے نئے انداز میں صوبائی حکومت کے کارنامے اگر ہیں تو ان کو اجاگر کریں۔ یار محمد خان نیازی، عمر فاروق اور اکرام کھٹانہ نے یہ محاذ سنبھالا تو ٹھیک ورنہ باقی خیر خیریت ہے۔