img

عوامی نیشنل پارٹی کی شکست کے اسباب

 

فروری 2024 کے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کی شکست کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے یہ سلسلہ شروع ہے  تاہم مرحوم باچا خان سے لے کر ایمل ولی خان تک پختونوں کے قافلے کے اس سالار خاندان نے نہ صرف اس شکست کو تسلیم کیا بلکہ ہر موقع پر باچا خان کے عدم تشدد کے سیاسی فلسفے کے تحت پختونوں کے جائز سیاسی ، سماجی، معاشی اور آئینی حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد کو وقت کے ساتھ تیز سے تیز تر کرتے چلےآ رہےہیں۔

اب بھی آٹھ فروری 2024 کے بعد سے تقریباً یہی صورتحال بنتی جا رہی ہے۔ ایک طرف تحفظات اور اعتراضات کے باوجود جمہوری تسلسل کو آگے لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف پختونوں کو درپیش مسائل اور ان کے خلاف کی جانے والی سازشوں پر بآواز بلند بات بھی کی جا رہی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ فروری 2024 کے انتخابات کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کی تیاریاں دیگر سیاسی جماعتوں سے بہت زیادہ تھیں اور یوں دکھائی دے رہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں یہ جماعت موثر تعداد میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ انتخابی  مہم میں قائمقام مرکزی صدر امیر حیدر خان ہوتی ۔ ایمل ولی خان۔ میاں افتخار حسین اور سردار حسین بابک نے کلیدی کردار ادا کیے رکھا ۔ انتخابات سے قبل پشاور کے علاوہ دیگر علاقوں بالخصوص مردان ،چارسدہ اور صوابی ۔ ملاکنڈ کے بنیر ۔شانگلہ اور سوات کے بعض علاقوں۔ قبائلی اضلاع مہمند اور باجوڑ ۔ ہزارہ کے طور غر میں تو عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں کے حق میں رائے دہندگان مکمل طور پر متحد اور کامیابی پر متفق دکھائی دیتے تھے ۔مگر ایسا نہ ہوسکا ۔

انتخابی نتائج معروضی حالات اور تجزیہ کاروں کی توقعات کے برعکس رہے ۔ ایسا کیوں نہ ہوا؟  اس  کی کئی ایک نہیں بلکہ درجنوں وجوہات  ہیں۔ سب سے پہلی وجہ بلاضرورت سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک اعتماد کے بعد پی ڈی ایم حکومت کے ہر اقدام کی حمایت اور ستائش کرنا ۔ حتٰی کہ اس حکومت میں نہ تو عوامی نیشنل پارٹی کو کوئی وزارت دی گئی نہ کوئی اہم سرکاری عہدہ ۔ بلکہ سابق صدر آصف علی زرداری کی تجویز کو بھی مولانا فضل الرحمان نے اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر ہائی جیک کر دیا تھا ۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی کے نسبت اب عوامی نیشنل پارٹی میں ڈسپلن کا مسئلہ کچھ گھمبیر ہوتا جا رہا ھے ۔  خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں پارٹی کی صفوں میں بہت زیادہ اختلافات عین الیکشن کے وقت منظر عام پر آگئے۔  پارٹی کے نوجوان کارکنوں نے اہم اجلاسوں کے دوران پختون روایات کی ایسی پامالی کی جسکی ماضی میں نظیر نہیں ملتی ۔ کئی ایک اضلاع میں ٹکٹ نہ ملنے پر اہم عہدیدار اور رہنما ناراض ہوگئے ۔ بہت سے اہم عہدیداروں نے پارٹی سے مستعفی ہوکر ٹکٹ اور ممبر بننے کی خاطر دیگر پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی ۔ کئی ایک بشمول ایک سابق ممبر قومی اسمبلی اور وزارت  کے مزے اڑانے والے نے پارٹی کے نامزد امیدواروں کو شکست سے دوچار کرنے اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی کامیابی کیلئے پارٹی کی صفوں میں اختلافات پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ۔

ماضی کے برعکس اس بار رہنما اور عہدیدار نہیں بلکہ عام کارکن پاکستان تحریک انصاف کی پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے اچھی توقعات کے منتظر تھے مگر اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیاں بھی ہاتھی کے دانت کے طرح ہوتی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک کے عوام ظلم و ستم کے شکار لوگوں کے ساتھ ہمدردیاں رکھتے ہیں جس میں اس بار پختون کچھ حد سے زیادہ بڑھ گئے اور انہوں نے پچھلے نو سالوں کی ناقص کارکردگی اور لوٹ مار کی وارداتوں کو بھی نظر انداز کرکے قیدی نمبر 804 کی تصویر جس کسی نے لگائی اس کو ووٹ نہیں بلکہ ووٹوں سے  نوازا ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ انتخابات میں ریٹرننگ افسران اور ان کی پشت پر موجود یا ہدایات دینے والے پر اسرار عہدیداروں نے بھی اٹھ فروری کے انتخابات میں مجموعی طور پر اربوں روپے کی کمائی کی ہے اور اسی بنیاد پر تمام تر سیاسی جماعتیں اور ان کے عہدیدار نتائج پر ایک جیسے تحفظات اور اعتراضات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اب چونکہ انتخابات کے سرکاری اعلامیے جاری کر دیے گئے ہیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے طرح عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین احتجاجی دھرنے اور مظاہرے کر رہے ہیں مگر ساتھ ساتھ انہیں پارٹی کی تنظیم نو اور انتخابات میں ہونے والی شکست کے اسباب پر بھی غور کرنا چاہیے ۔ انتخابات سے چند ہفتے قبل صوابی کے سلیم خان ایڈووکیٹ کے سربراہی میں ایک مصالحتی جرگہ نے کئی ایک ناراض رہنماؤں اور عہدیداروں کو راضی کرکے پارٹی میں واپس لانے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ اب اس جرگہ کے پاس ناراض اراکین کو راضی کرنے اور دیگر سیاسی جماعتوں میں شامل ہونے والوں کو واپس لانے کیلئے بہت اہم نہیں بلکہ سنہرا موقع ہے ۔ ان مصالحتی کوششوں کو بار آور ثابت کرنے کیلئے سب سے پہلے پشاور اور سوات پر توجہ دینی چاہیے۔

اگر دیکھا جائے تو پشاور میں نہایت مخلص رہنماؤں نے ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض ہوکر دیگر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ماضی قریب میں ان لوگوں نے پارٹی اور پارٹی نے ان افراد کیلئے بہت کچھ کیا ہے۔ ان لوگوں کی ناراضی نے پارٹی کو تو ضرور نقصان پہنچایا ہے مگر ان ناراض افراد کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آیا ۔ البتہ ان افراد کی ناراضی اور عوامی نیشنل پارٹی سے علیحدگی اور پارٹی کے نامزد امیدواروں کے خلاف بغاوت یا کھڑے ہونے کو پی ڈی ایم میں شامل پاکستان مسلم لیگ ن۔ جمیعت علماء اسلام ف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے خوب استعمال کیا ہے ۔ یہ ناراض افراد آٹھ فروری کے انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کی شکست پر کسی بھی طور خوش نہیں ہوسکتے اور نہ اب یہ ان تین جماعتوں کے ساتھ وابستگی جاری رکھنے پر مطمئن ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا سلیم خان ایڈووکیٹ کی سربراہی میں قائم مصالحتی جرگہ کو مکمل اختیار دے کر ان ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کو فوری طور پر واپس لانا چاہیے ۔ چونکہ عوامی نیشنل پارٹی سے صرف پختونخوا نہیں بلکہ ملک بھر، افغانستان اور دنیا بھر میں بسنے والے پختونوں کی توقعات وابستہ ہیں لہذا پارٹی قائدین بالخصوص ولی باغ کو چاہیے کہ وہ ان توقعات کو پورا کرنے کیلئے تھنک ٹینک کو از سر نو تشکیل دے اورایک ایسی حکمت عملی وضع کرے جس سے نہ صرف ایوان کے اندر  بلکہ باہربھی پارٹی ایک موثر قوت کے طور پر سامنے آجائے۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA