تحریک انصاف کا دیرینہ موقف رہا ہے کہ انہوں نے صرف فوج سے مذاکرات کرنے ہیں، فارم 47 والی حکومت سے مذاکرات نہیں کرنے، پھر سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ اور 9مئی کے حوالے سے ان سے تفتیش کی خبریں سامنے آئیں تو پی ٹی آئی کی مذاکرات کے لئے بے تابی عیاں ہوئی۔ ان کا پہلا موقف تھا کہ مینڈیٹ کی واپسی کی جائے ،عمران خان سمیت ان کے بقول سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، ان شرائط پر مذاکرات کئے جائیں گے۔ اس پر حکومتی جواب یہ تھا کہ مشروط مذاکرات نہیں ہوسکتے اور قیدیوں کی رہائی یا سزا کا تعین عدالتوں نے کرنا ہے۔
اس کے بعدپی ٹی آئی یو ٹرن لیتے ہوئے نہ صرف مینڈیٹ کی واپسی کے مطالبے سے دستبردار ہوئی بلکہ مذاکرات کے لئے اپنی شرائط کو مطالبات کا نام دے دیا، مگر حکومت نے ان سے کئی دن ناک رگڑوائی اور بالآخر سپیکر کے ذریعے حکومت سے رابطے کا مشورہ دیا جس پر پی ٹی آئی کی جانب سے رابطہ کرنے کے بعد سے اب تک حکومتی اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کی دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کے مطابق مذاکرات میں ایک انچ کی بھی پیشرفت نہیں ہوسکی جس کی وجہ پی ٹی آئی کے ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ تحریری طور پر عمران خان اور دیگر قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کو این آر او مانگنے سے تعبیر کیا جائے گا اور اس پر حکومت پوائنٹ سکورنگ کرے گی۔
ان سب کے علاوہ عمران خان نے مذاکرات مکمل کرنے کے لئے 31 جنوری تک کی ڈیڈ لائن بھی دے رکھی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں؟ تو مجھ احقر کا قیاس یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے موجودہ مطالبات کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی ناممکن ہے کیونکہ 9 مئی کو سرکاری سطح پر یوم سیاہ قرار دیا جاچکا ہے اور بقول عارف علوی سٹیبلشمنٹ نے اندر سے کنڈی لگا رکھی ہے جو ابھی تک برقرار ہے تو ایسی صورت میں مذاکرات کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں؟
دوسری جانب فیض حمید سے 9 مئی کے حوالے سے بھی تفتیش جاری ہے اور فوج اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا جس کا واضح مطلب ہے کہ فوج عمران خان کو ہر صورت میں سزا دلانا چاہتی ہے اور اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹ رہی۔ یہ صورتحال بھی مذاکرات کی کامیابی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ مزید برآں سپریم کورٹ کے سینئر ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بھی بنتا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر سپریم کورٹ کے سینئر ججز ہیں اور ان کا ماضی اس پر گواہ ہے کہ ان کی حمایت کس کے ساتھ ہے۔
ان سب حالات کو سامنے رکھتے ہوئے صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے دن پی ٹی آئی کے لئے کسی خوشخبری کی نوید لانے کے بجائے مزید سختیاں آنے کی خبر دے رہے ہیں۔