اگر عثمان بزدار پولیس کی وردی پہن کر ایسی کسی تقریب میں جاتے، پولیس اہلکاروں سے گھل مل جاتے تو سوشل میڈیا پر کس قسم کا ردعمل آتا؟ اگر آج علی امین گنڈاپور یہی کام کرلیں تو وہ کیسے دکھائی دیں گے؟ کیا لمبے بالوں اور مونچھوں کے ساتھ وردی ان کے ساتھ خوبصورت لگے گی یا وہ وردی میں خوبصورت نظر آئیں گے؟ سوشل میڈیا پر مریم نواز کی پولیس وردی پہننے کی خبر پر تبصرے دیکھے تو یہی سوالات ذہن میں آئے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پنجاب پولیس کے یونیفارم میں ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہیں، جن پر سوشل میڈیا صارفین دلچسپ تبصرے کررہے ہیں۔مریم نواز کی پنجاب پولیس کے یونیفارم کی وڈیوز اور تصاویر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے آفیشل انسٹاگرام پر شیئر کی گئیں تھیں، جہاں سے انہیں دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی شیئر کیا گیا۔پولیس وردی پہنے مریم نواز کو لیڈیز پولیس اہلکاروں سے انتہائی خوشگوار موڈ میں ملتے اور انہیں سلامی دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مریم نواز سے ملتے ہوئے پولیس اہلکار بھی خوش دکھائی دیں۔ مریم نواز نے لاہور میں لیڈیز پولیس کانسٹیبلز کی ہونے والی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب بھی کیا۔ اس معاملے پر اتنا شور کیوں مچایا جارہا ہے؟ صرف اس لئے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ایک خاتون ہیں؟ یا صرف اس لئے کہ یہ خاتون مریم نواز ہیں؟
ان تصاویر پر پہلی نظر پڑتے ہی ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ مریم نواز کی میڈیا مینجمنٹ یا اپنی ذات کی پروجیکشن کے حوالے سے الزامات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو یہ پولیس فورس کی خواتین اہلکاروں کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کی ایک بہترین کوشش تھی۔ اور یہ چونکہ مریم نواز ہیں اس لئے مخصوص سیاسی سوچ کے حامل لوگوں کی جانب سے مریم نواز کے اس عمل پر منفی تبصرے کوئی اچھنبے کی بات ہے نا ہی یہ مریم نواز کے لئے کوئی پریشان کن معاملہ۔ ایسا بھی نہیں کہ مریم نواز نے صرف ذات کی تشہیر کے لئے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال شروع کر رکھا ہے، حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں کام بھی ہورہا ہے اور اسی میڈیا مینجمنٹ کے ذریعے یہ کام بھی پورے پاکستان تک پہنچ رہا ہے۔ مریم نواز کی میڈیا ٹیم کی پھرتیاں مخالف حلقوں خصوصاً تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے حلقوں میں ڈسکس کی جاتی ہیں، یقیناً اس میدان میں مریم نواز نے شروع دن سے مخالفین کو پریشان کر رکھا ہے، حالانکہ ان کے مخالفین کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مریم نواز اس وقت اپنے والد اور چچا کی جانشین ہیں اور وہی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں جو کبھی ان کے والد گرامی نواز شریف یا ان کے چچا شہباز شریف انجام دیا کرتے تھے۔ یہ مریم نواز کا حق ہے کہ وہ بطور وزیر اعلیٰ اپنے کام کی پروجیکشن اپنے انداز میں کریں۔ اب اگر اس کام کے دوران کسی کو مریم نواز کا چہرہ پسند نہیں ہے تو وہ اس کا اپنا مسئلہ ہے۔ اسی میڈیا مینجمنٹ کی وجہ ہے کہ ہفتے میں دو تین مرتبہ مریم نواز سوشل میڈیا پر ڈسکس ہوتی ہیں، اس کو کوئی امیج بلڈنگ کا نام دیتا ہے تو اس میں مضائقہ کیا ہے؟
پولیس وردی پہننا کونسا بڑا گناہ ہے؟ خبر ہے کہ پنجاب پولیس کی وردی پہننے پر وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف مقدمہ درج کرنےکی درخواست سیشن کورٹ لاہور میں دائر کی گئی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ مریم نواز نے پولیس آفیشل کی وردی پہنی، قانون کے مطابق کوئی بھی شخص ریاستی اداروں کی وردی نہیں پہن سکتا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کو مریم نواز کے خلاف درخواست دی گئی مگر کارروائی نہیں ہوئی۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت پولیس کی وردی پہننے پر مریم نواز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔
خیبر پختونخوا میں معروف کرکٹر عمر گل کو پولیس وردی پہنا کر اعزازی ڈی ایس پی بنایا جاچکا ہے، اسی طرح جان لیوا بیماریوں میں مبتلا بچوں کی آخری خواہش کے طور پر ان کو پولیس افسر کی وردی پہنا کر ان کی خواہش پوری کرنے کی خبریں بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ یہاں مسئلہ صرف وہی ایک ہے کہ اب کی بار وردی ایک خاتون نے پہنی ہے اور خاتون بھی کوئی اور نہیں مریم نواز ہیں۔ اگر پولیس وردی کو عزت دیکر وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک مثبت پیغام دیا ہے تو اس عمل کے اچھے پہلوؤں پر بات کی جاسکتی ہے ورنہ پنجاب پولیس کا امیج پورے پاکستان کو معلوم ہے۔ یہ وردی پہننا شاید مریم نواز کے لئے اس قدر فخر کی بات نہ ہو البتہ پنجاب پولیس کو شکر گزار ہونا چاہئے جس کی وردی مریم نواز نے پہنی ہے۔
سیاسی کارکن کسی بھی دور کے ہوں، وہ اسی وردی کے ستائے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی بات کی جائے تو پنجاب ہو یا پھر خیبرپختونخوا، ہر جگہ پولیس کے کردار سے اس جماعت کے کارکن نالاں رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں علی امین خان گنڈاپور کسی بھی صورت یہ افورڈ نہیں کرسکتے کہ وہ پولیس کی وردی زیب تن کریں۔ وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود وہ پولیس افسروں کا کچھ بگاڑ سکے اور نہ انتظامی افسروں کو اپنی جگہ سے ہلا سکے۔ اس سارے معاملے کو سیاسی عینک سے دیکھنے کے بجائے خواتین کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ پنجاب پولیس کی خواتین اہلکاروں نے مریم نواز کے مظاہرے سے کس قدر خوشی محسوس کی ہوگی یہ شاید الفاظ میں نہ بیان کیا جاسکے۔ کسی دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ کے پاس مریم نواز کے مقابلے میں وردی پہننے کے علاوہ کوئی دوسرا بہتر آپشن ہے تو وہ استعمال کرسکتا ہے، اس معاملے کو یہیں پر چھوڑ دینا چاہئے۔
کچھ زیادہ ہونے کے تمام خدشات ایک طرف رکھ کر آخر میں اتنا عرض ہے کہ مریم نواز کی تصویریں دیکھ کر یہ سمجھ نہیں آرہی کہ ان کے ساتھ پولیس کی وردی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی یا وہ وردی میں زیادہ خوبصورت لگ رہی تھیں؟