جنوب ایشیا میں پشتونوں کے زیر تسلط علاقے ویسے تو عرصہ دراز سے بیرونی جارح قوتوں کی جارحیت و مداخلت کی پسندیدہ منازل رہے ہیں ۔ بہت سوں کو تو اس جارحیت میں کامیابی ملی بھی جبکہ کچھ کو اس جارحیت کا ایسا منہ توڑ جواب دیا گیا جس کی نظیر عالمی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے ۔
سب سے عبرتناک شکست برطانوی حکمرانوں کو ہوئی تھی اور اس شکست کا بدلہ لینے کے لئے ابھی تک برطانوی جاسوسی ادارے اور ان کے اتحادی کوشاں ہیں حتی کہ اس مقصد کے لئے نہ صرف بیسویں صدی کے پہلے چوتھائی حصے میں امن اور استحکام کےگہوارے افغانستان کو پچھلے چالیس سالوں میں تباہ و برباد کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا گیا ۔ اب بھی رہی سہی کسر افغانستان میں امریکی اتحادیوں کے شروع کردہ فساد و جہاد کی وراثت سے معرض وجود میں نمودار ہونے والی طالبانائزیشن سے پوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
توقع تھی کہ 2018 کی تاریخی آئینی ترمیم کے بعد آزاد قبائل اور علاقہ غیر کے نام پر پشتونوں کی کردار کشی کا سلسلہ رک جا ئے گا ۔ سابق سوویت یونین کے سوشلسٹ نظام سے بچنے کے لئے برٹش انڈیا اور افغانستان کے درمیان بفر زون کے نام پر قرار دیے گئے قبائلی القابات کے نعرے پر پشتونوں کا معاشی ، سیاسی ، سماجی اور انتظامی استحصال بھی ختم ہو جائیگا مگر ایسا نہ ہوا بلکہ اس آئینی ترمیم کے بعد دہشت گردی کو بہانہ بنا کر پاکستان کے ریاستی اداروں نے ضم شدہ اضلاع میں ایک ایسا کھیل شروع کر دیا ہے جس میں تمام لوگ اپنے بنیادی انسانی آئینی اور قانونی حقوق سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔
بہت کچھ کرنے کے باوجود جب ریاستی ادارے مذموم مقاصد کے حصول میں ناکام رہے تو اب موجودہ نام نہاد جمہوری حکومت کے ذریعے ایک اور ڈرامہ رچایا جا رہا ہے ۔ اس ڈرامے کے تحت چند روز قبل کسی وقت میں فوجی آمر پرویز مشرف کے آنکھوں کے تارے انجینئر امیر مقام کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ۔ اس کمیٹی کا مقصد قبائلی علاقوں میں روایتی جرگوں کی بحالی ہے ۔ اس کمیٹی میں شامل کسی بھی رکن کا تعلق ضم شدہ قبائلی اضلاع سے نہیں ہے بلکہ امیر مقام، گورنر فیصل کریم کنڈی ، بیرسٹر سیف اور سابق چیف سیکرٹری شکیل درانی کے علاوہ باقی تمام ممبران کا تعلق پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں سے ہے ۔ چند روز قبل اس کمیٹی کا اجلاس امیر مقام کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں قبائلی اضلاع میں مؤثر متبادل نظام انصاف کے فروغ پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں امیر مقام نے کہا کہ قبائلی عمائدین اور قانونی ماہرین کو اس مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جرگہ سسٹم کو آئینی و عدالتی ڈھانچے سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ یہ نظام شفافیت اور قانون کے دائرے میں مؤثر طور پر کام کر سکے، اجلا س میں ذیلی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا، اور فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوگا۔ تاہم مجوزہ ذیلی کمیٹی کی ترتیب و خدوخال کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
اس کمیٹی کی تشکیل اور پہلے اجلاس کے بعد اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ یہ کمیٹی کس کے ایماء پر اور کن مقاصد کے حصول کے لئے تشکیل دی گئی ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی سمیت بہت سی سیاسی جماعتوں نے ابھی تک اس کمیٹی کی تشکیل اور اغراض و مقاصد پر لب سی رکھے ہیں تاہم قوم پرست سیاسی نظریات کے حامل تجزیہ کار نور اسلام صافی نے اس بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے ۔ کہ" مقتدر حلقوں اور اعلی حکام کے نوٹس میں لانا چاہتے ہیں کہ عرصہ دراز سے خیبرپختونخوا کے ساتھ نوضم شدہ قبائلی اضلاع سابقہ فاٹا اور اس کے عوام کے نام پر کچھ جعل ساز ، مفاد پرست عناصراپنا نام، کام اور روزگار بڑھانے کی کوششیں کرتے آرہے ہیں جو کہ بہت بار کامیاب بھی ہوئے ہیں، حقیقت میں جن کا قبائل ، قبائلی وطن اور ان کو درپیش مسائل سے دور دور تک تعلق بھی نہیں ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ قبائلی اضلاع کو آج تک کچھ نہیں ملا ، اور قبائل کے نام پر جو بھی مراعات ، فنڈ ، عہدے ، سہولیات ملی ہیں ان سے ہمیشہ غیر متعلقہ اور اثر رسوخ والے افراد نے استفادہ کیا ہے۔ قبائل کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ امن ہے مگر امن کیلئے کوئی بھی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ۔ دوسرا تعلیم، پھر آپریشنوں کی وجہ سے تباہ حال سڑکیں اور آبادیاں ، صحت کے مسائل ، روزگار ، معدنیات و وسائل سے مالامال مگر جس پر بڑے بڑے مگرمچھ قابض، عام عوام دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں ۔ کہنے کا مقصد اگر درج بالا مسائل کو حل کرنے کیلئے کچھ نہیں کرسکتے تو ہمارے زخموں پر نمک پاشی نہ کریں ہمیں مزید اذیت میں مبتلا نہ کریں۔ جب قبائلی نوجوان دیکھتے ہیں کہ ان کے نام پر پنڈی، اسلام آباد ، پشاور حتی کہ باہر ممالک کے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر سودے اور بلیک میلنگ ہورہی ہواور ان کے حقوق کو غضب کیے جارہے ہوں ، ان کے نام اور علاقے کو استعمال کرکے جعل سازی ہورہی ہو، خدارا قبائلی اضلاع کو مزید تجربہ گاہ نہ بنائیں سوداگروں اور جعل سازوں سے قبائل کو دور رکھیں۔"
نور اسلام صافی کے اس بیان کے بعد تو اس خصوصی کمیٹی کے اغراض و مقاصد اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کی دی گئی محدود سیاسی، جمہوری، آئینی اور قانونی آزادی کو واپس لیا جائے اور یہاں پر حکومتی اقدامات یا اداروں کے فیصلوں کو بزور شمشیر نافذ کیا جائے ۔ دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں نہ صرف ضم شدہ قبائلی اضلاع بلکہ ملک بھر کے مترقی قوم پرست اور جمہوری ذہنیت کے حامل افراد کی متفقہ رائے یہ ہے کہ " دہشت گردی ان عالمی اداروں کے مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں مملکت خداداد پاکستان بھی ایک اہم اتحادی کے حیثیت سے شریک ہے۔" اس اتحاد کے سربراہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا اہم مقصد نہ صرف عالمی سطح پر دفاع،معیشت ،قدرتی وسائل اور صنعت پر تسلط قائم کرنا ہے بلکہ تمام تر اتحادی ممالک کے انتظامی اور سیاسی معاملات کو اپنے قابو میں رکھنا ہے ۔
ویسے تو 9/11 کے بعد دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان کی مقتدر ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے پہاڑوں میں موجود قدرتی وسائل پر قبضہ کر لیا ہے ۔ اس قبضے کو آئینی و قانونی بنانے کے لئے اب پورے ملک کے قدرتی و معدنی وسائل کے بارے میں ایک قانون منرلز اینڈ مائینز بل لایا جا رہا ہے ۔ ما سوائے نام نہاد حکمران جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی ملک بھر کی تمام تر سیاسی جماعتوں نے اس قانون کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے یا اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ اس مخالفت پر قابو پانے کے لئے اب مقتدر ریاستی ادارے ایک بار پھر شریف برادران کے کندھوں پر بندق رکھ کر اپنی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش میں ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ 26 مئی 2018 کی تاریخی آئینی ترمیم پر صحیح طریقے سے عمل در آمد نہ ہونے سے قبائلی عوام حیران و پریشان ہیں۔ سب سے بڑھ کر وفاقی حکومت، پنجاب اور سندھ نے قومی مالیاتی کمیشن سے ایک فیصد نہ دے کر قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے مقاصد کو سبوتاژ کرنے دیا ہے ۔ نہ صرف ضم شدہ قبائلی اضلاع بلکہ ملک بھر بالخصوص خیبر پختونخوا کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ امیر مقام کے سربراہی میں نام نہاد کمیٹی کے عزائم کو بھانپ لیں ۔ اس کمیٹی کا اجلاس یا گفت و شنید ۔ نشستاً خوردن اور برخاستن سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔ آخر میں انہیں مقتدر حلقوں کی جانب سے تحریر شدہ مسودہ ملے گا جسے ایوان سے حزب اختلاف اور حزب اقتدار بخوشی منظور کرنے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دینے پر مجبور ہوں گے ۔
نوٹ: گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔