وطن عزیز میں ویسے تو سیاسی ومعاشی عدم استحکام کاسلسلہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے مگر پراجیکٹ عمران نے ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں اور سٹیبلشمنٹ کے جن جن کرداروں نے اس پراجیکٹ کو آگے بڑھایا ان میں سے صرف فیض حمید پر ہی سارا نزلہ گرایا جارہا ہےجبکہ عمران خان بھی سٹیبلشمنٹ کے لاڈلے نہیں رہے اور اب ان کے لئے ولن بن چکے ہیں۔
امر واقعہ یہ ہے کہ جب تک اس پراجیکٹ پر کام کا آغاز کرنے والے جنرل شجاع پاشا سے لے کر جنرل قمر جاوید باجوہ تک سب کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جائے گا تب تک ادارے کی ساکھ کی بحالی ممکن نہیں ،اس کے بغیر سیاسی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا
لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی بلی چڑھا کر اور عمران خان کو مختلف مقدمات میں سزا دلوا کر باقی کرداروں کو این آر او دینے سے فوج کی سیاست میں مداخلت کے تاثر کو زائل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی مداخلت بند ہوسکتی ہے۔
اگرچہ موجودہ سٹیبلشمنٹ ملک کو معاشی استحکام کی منزل تک پہنچانے کی حتی المقدور کوششوں میں مصروف ہے مگر حکومت اور اتحادیوں کے درمیان اعتماد کی کمی اور اڈیالہ میں مقید عمران خان کے ہر جھوٹے بیانئے کے توڑ میں اتحادیوں کی ناکامی کے باعث سیاسی استحکام کی منزل ابھی دور ہی لگتی ہے۔
عمران خان کا مکو ٹھپنے کے لئے بنائے گئے بیشترمقدمات اسلام ہائی کورٹ نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے ہیں اور ہر مقام پر عمران خان کوغیر معمولی انصاف اس ہائی کورٹ کی جانب سے دیا جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ یا القادر ٹرسٹ والے کیس کا فیصلہ مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہا ہے کیونکہ فیصلہ سازوں کو خدشہ لاحق ہے کہ اس کیس کا حشر بھی اسلام آباد ہائی کورٹ باقی کیسز کی مانند کردے گی-
دوسری جانب سپریم کورٹ کا آئینی بنچ بھی سویلینز کے ملٹری ٹرائل کا حامی نظر نہیں آرہا جس کے باعث 9 مئی کے تمام مقدمات کا مستقبل بھی خطرے سے دوچار ہے جبکہ فوج فیض حمید سے اس ضمن میں ابھی تفتیش کررہی ہے اور وہ عمران خان کو بھی اس کیس میں ملٹری ٹرائل کے ذریعے سزا دلوانے کی متمنی دکھائی دے رہی ہے۔
اس ساری صورتحال میں حکومت اور سٹیبلشمنٹ کے پاس صرف دو آپشنز باقی رہ جاتے ہیں اول یہ کہ آئینی ترمیم کے ذریعے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو تحفظ دیا جائے اور اس آپشن کی ناکامی کی صورت میں دوسرا اور آخری راستہ عمران خان کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے دوران قومی اسمبلی کی غیر آئینی تحلیل پر سنگین غداری کامقدمہ چلانے کا ہے جو اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے عمران خان،سابق صدر مملکت عارف علوی اور قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے اقدام کے خلاف آئین قرار دے رکھا ہے،مجھ احقر کی نظر میں یہ ایک اوپن اور شٹ کیس ہے جس میں محولہ بالا افراد کو سزا ہونے کے ٹھوس امکانات موجود ہیں۔
حکومت میں شامل اتحادیوں کی اس ضمن میں کیا رائے ہے اس سے متعلق ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا کیونکہ اتحادیوں کی جانب سے پچھلے 16 ماہ اور موجودہ 11 ماہ کی حکومت کے دوران اس معاملے پر کوئی لب کشائی نہیں کی گئی ،بعض مواقع پر مختلف سیاسی رہنماؤں نے عمران خان اور عارف علوی سمیت قاسم سوری کو آئین شکن تو گردانا ہے مگر سنگین غداری کا کیس چلانے کی بات ابھی تک سامنے نہیں آسکی۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ ایک نجی ٹی وی پر واضح الفاظ میں یہ بات کہنے والے واحد سیاسی رہنما ہیں کہ جب تک عمران خان زندہ ہیں تب تک سیاسی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ،ان کے اس بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حکومت اور سٹیبلشمنٹ میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ آخری پتے کے طور پر سنگین غداری کا کیس چلایا جائے اور یہ اسی صورت میں روبہ عمل ہوسکتا ہے کہ جب سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو آئینی تحفظ مل سکے یا آئینی بنچ اس ممکنہ آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے دے حالانکہ آئین میں واضح طور پر ایک شق یہ بھی موجود ہے کہ آئین کی کوئی بھی شق کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کی جاسکتی، مگر اس کے باوجود سندھ ہائی کورٹ نے 26 آئینی ترمیم کے خلاف درخواست کو سماعت کے لئے منظور کرلیا ہے اور ماضی میں 18ویں ترمیم کے خلاف بھی درخواست سنی جاچکی ہے۔
اعلیٰ عدلیہ کے اس رویئے کے باعث سنگین غداری کا کیس لازمی طور پر سامنے آنے کے ٹھوس امکانات ہیں۔ دوسرے یہ کہ ایک آرمی چیف کو سنگین غداری کے کیس میں سزا سنائی جاچکی ہے یہ اور بات ہے کہ اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاسکامگر ایک سابق وزیراعظم کو یہ سزا دے کر معاملے کو بیلنس کردیا جائے گا۔