img

مولانا خانزیب کی شہادت اور پشتون مزاحمت

الله پاک کرے کہ مولانا خانزیب کی شہادت پشتون قوم کے اتحاد اور اتفاق کی بنیاد بن جائے ۔ مگر دشمن بہت چالاک اور چالباز ہے وہ کسی بھی طور پر پشتون قوم کو متحد ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا کیونکہ اگر پشتون قوم متحد ہوگئی تو وہ کس طرح ماضی میں اپنے آباو اجداد کو  ملنے والی شکستوں کا انتقام لے گا ؟ وہ کس طرح پشتونوں کی دھرتی پر موجود قیمتی وسائل کو ہڑپ کرے گا؟

 دشمن ایک ہی ہے وہ تمام شکست خوردہ جارح اقوام کا نمائندہ بھی ہے سرپرست بھی ہے اور ان شکست خوردہ جارح قوتوں کا اتحاد قائم کرنے والا بھی ہے ۔ ہر ایک کو اس سے اختلاف کا حق ہے مگر پچھلی دو صدیوں سے اس کوشش میں ہے کہ پشتونوں کو ان کی دھرتی سے نقل مکانی پر مجبور کرے ۔ اگر دیکھا جائے تو آدھے سے زیادہ پشتون اس وقت اپنی دھرتی یعنی افغانستان چھوڑ کر دنیا بھر میں مہاجرین کی شکل میں سرگرداں ہیں ۔ اب افغانستان کسی بھی طور پر پشتونوں کی سرزمین نہیں رہا بلکہ زرخرید اجرتی عسکریت پسندوں کے تسلط میں ہے جو کسی بھی طور پر پشتونوں کے نمائندہ نہیں بلکہ جارح قوتوں کے اتحاد میں شامل اب سعودی اور پنجابیوں کے تابع ہیں جن کی کوشش ہے کہ پشتونوں کی دھرتی کو پشتونوں سے خالی کرکے ان سامراج امریکی، برطانوی اور یہودی سرمایہ کاروں کے حوالے کردے جو ان پنجابی ریاستی عہدیداروں کو امریکی آسٹریلوی اور یورپی ممالک میں سکونت اور سرمایہ کاری میں مدد فراہم کر رہے ہیں اور فراہم کرتے رہنے کے عہد و پیمان کر رہے ہیں۔

کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ حالیہ برسوں میں جارح قوتوں کی ایماء پر گھات لگا کر قتل کئے جانے والوں میں مولانا خانزیب سرفہرست ہیں۔ خانزیب ایک موثر اور مقبول ترین آواز تھے ۔ انہوں نے زندگی بھر کسی کی ذاتی اور انفرادی سطح پر تضحیک نہیں کی تھی ۔ وہ ابتداء ہی سے پشتونوں کی باعزت بقاء  کے لئے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ مولانا خانزیب پہلے شخص تھے جنہوں نے پختونخوا کے سرزمین  پر موجود دیدہ اور پوشیدہ قدرتی و معدنی وسائل کو کتابی شکل دیکر بکھرے اور تقسیم پشتونوں کو حقیقی معنوں میں متحد کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں اور مولانا خانزیب کا یہ عمل کسی بھی طور پر جارح دشمن قوتوں کو قابل قبول نہیں تھا ۔

 پشتونوں کی سرزمین پر موجود دیدہ اورپوشیدہ  قدرتی و معدنی وسائل پر مبنی کتابیں نہ صرف پشتونوں بلکہ عالمی سطح پر دانشوروں اور لکھاریوں کی پسندیدہ کتابوں میں سرفہرست تھیں ۔ انہی کتابوں اور مولانا خانزیب کی مدلل تقاریر سے دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کے مکروہ چہرے عالمی سطح پر بے نقاب ہونا شروع ہوگئے تھے۔ مولانا خانزیب سمیت کئی ایک دیگر باشعور سیاسی رہنماوں اور تجزیہ کاروں کی کاوشوں سے پختونخوا کے طول و عرض میں لوگ اب سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ وہ کسی بھی طور  نہیں چاہتے کہ وہ اپنی دھرتی پر محکوم فلسطینی عوام کی طرح بے بسی اور بے کسی کی تصویر بن جائیں  اور اپنے وسائل کو کسی بھی طرح امریکی ،برطانوی ،سعودی اور پنجابی جارح قوتوں میں شامل غاصب سامراجی عناصر کے حوالے کردیں ۔

مولانا خانزیب کو اس وقت معلوم جارح سامراج قوتوں کے ان اجرتی قاتلوں نے گولیاں مار کر شہید کر دیا جب وہ پشتونوں کی سرزمین  پر جاری امن ریلیوں کے سلسلے میں باجوڑ میں اتوار کے روز کی امن ریلی کے سلسلے میں ہونے والے جرگے میں شرکت کرنے جا رہے تھے ۔ دشمن کا خیال ہے کہ مولانا خانزیب کو شہید کرکے وہ دیگر پشتونوں کو ہراساں اور ڈرا دھمکا کربزور شمشیر خاموش کردیں گے مگر یہ ان کی خام خیالی ہے ۔

مولانا کی شہادت کے بعد لمحہ بہ لمحہ پشتون سیاسی و گروہی شناخت کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد و اتفاق کی طرف دوڑتے چلے جا رہے ہیں۔ امید ہے کہ اب پشتون کسی بھی طور پر جارح قوتوں کے سامنے خاموش تماشائی بننے کے لئے تیار نہیں۔ اب پشتونوں نے آزاد ہونے کا تہیہ کر رکھا ہے ۔ جارح قوتوں بالخصوص امریکی اتحاد میں شامل برطانوی، سعودی اور پنجابیوں کو چاہئے کہ وہ نوشتہ دیوار دیکھ کر اس خطے میں توسیع پسندی کے پالیسی پر نظرثانی کریں کیونکہ ایران اسرائیل اور پاکستان بھارت کے مابین حالیہ مختصر دورانیے کے ڈراموں کے بعد پشتونوں کے سڑکوں پر آنے کے بعد حالات انیسویں صدی کی دوسرے نصف اور بیسویں صدی کے پہلے نصف جیسے ہوں گے جہاں برطانوی جارح قوتوں کو راحت کی نیند نصیب نہیں ہوئی تھی ۔

 

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA