تیس ستمبر 2014 کو جب نریندر مودی نے براک اوباما سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی تو امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکہ اور انڈیا کے روابط اس صدی کے ’’ وضاحتی تعلقات‘‘ ہیں۔
‘This is a defining relationship of the century’
اسکے بعد جب ستمبر 2019 میں مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تو ان کی آمد سے پہلے ہی ٹرمپ اور مودی کی دوستی کے چرچے ہو رہے تھے۔ اس وقت بھارتی نژاد امریکنوں نے ہیوسٹن میں ’’ ہاؤدی مودی‘‘ شو کا اہتمام کیاجس میں دونوں رہنماؤں نے ہزاروں کے مجمعے سے خطاب کیا۔ اس جشن کے بعد فروری 2020 میں جب صدر ٹرمپ انڈیا گئے تو وہاں صوبہ گجرات کے سب سے بڑے شہراحمد آبادمیں دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ سٹیڈیم میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں نے ان کا استقبال کیا۔ اس اجتماع کو ’’ نمستے ٹرمپ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد جب صدر جو زف بائیڈن نے اپنے شہر Delaware میں اکیس ستمبر 2024 کو نریندر مودی سے اپنے گھر میں ملاقات کی تو اس میں جمہوریت‘ آزادی‘ ماحولیاتی تبدیلیوں اور تجارت پر بات چیت ہوئی، لیکن چند روز پہلے جمعرات کے دن جب نریندر مودی وائٹ ہاؤس پہنچے تو صدر ٹرمپ ان کے استقبال کے لیے اوول آفس کے پورچ میں نہ آئے۔ ایک امریکی خاتون نے دروازے کے باہر بھارتی وزیر اعظم سے مصافحہ کیا اور انہیں صدر ٹرمپ کے دفتر لے گئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے خلاف معمول باہر نہ آ کر اپنے مہمان کے استقبال نہ کرنے کو اس ملاقات کا Defining moment اس لیے نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بعد ازاں وہ اپنے مہمان سے بغلگیر ہوئے ۔ ایسے مواقع پر ہر امریکی صدر صرف مصافحہ کرنے پر اکتفا کرتا ہے۔ لیکن نریندر مودی چونکہ ہر امریکی صدر سے جپھی ڈالتا ہے اس لیے صدر ٹرمپ نے اس مرتبہ بھی اس کی یہ خواہش پوری کر دی۔
اس روز اس ملاقات میں کئی ایسے واقعات ہوئے جو سٹائل کے زمرے میں آتے ہیں۔ مثلاّّ انڈین صحافیوں نے جس نا تجربہ کاری اور بے احتیاطی سے سوالات پوچھے اس پر امریکی میڈیا نے خوب تنقید کی۔ ان بے ہنگم سوالات کی اصل وجہ Planted سوالات تھے جو ہندی میں پوچھے گیے اور جن کا غیر متعلق اور بے ربط ہونا ان کے Planted ہونے کی چغلی کھا رہا تھا۔ مثال کے طور پر طہور رانا کے بارے میں اچانک پوچھے گئے سوال کا اس وقت ہونے والی گفتگو سے کوئی تعلق نہ تھا مگر بھارتی وزارت خارجہ کیونکہ پاکستان کے خلاف بیان بازی کے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی اس لیے اس سوال کو پہلے ہندی میں پوچھا گیا اور جب صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آئی تو پھر کچھ دیر بعد اسی سوال کو انگریزی میں دہرا دیا گیا۔ اسی طرح ممبئی اور پٹھانکوٹ حملوں کے از کار رفتہ اور پرانے واقعات کو مشترکہ اعلامیے میں شامل کر کے بھارت نے ایک مرتبہ پھر اپنے بخل اور کوتاہ نظری کا ثبوت دیاہے۔
بھارتی حکومت کو یہ اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مغربی میڈیامیں ابھی تک کینیڈا کے شہر Surrey میں سکھ لیڈر ہردیپ سنکھ نجار کے قتل کی باز گشت باقی ہے۔اس بہیمانہ واردات کی کڑیاں کینیڈا میں انڈیا کے سفارت خانے اور خفیہ ایجنسی را سے ملے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ گذشتہ برس کیلی فورنیا میں سکھ لیڈر ستیندر پال سنگھ راجو پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ اس حملے کے بعد امریکہ انڈیا تعلقات میں کچھ عرصے کے لیے کشیدگی آ گئی تھی۔ بھارتی حکومت دنیا بھر میں ہونے والی اس رسوائی سے بچنے کے لیے پاکستان پر الزامات لگا کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی ناکام کوشش کرتی رہتی ہے۔ مودی حکومت کی ان ہرزہ سرائیوں کا بھرپور جواب دینا نہایت ضرروی ہے۔
جمعرات تیرہ فروری کو مودی ٹرمپ ملاقات میں اگر چہ کہ ’’ ہاؤدی مودی‘‘ اور ’’ نمستے ٹرمپ‘‘ جیسے جلسوں کا جوش و خروش نہ تھا اس کے باوجود یہ ایک نتیجہ خیز ملاقات تھی۔ دونوں سربراہوں نے ماضی کے خوشگوار لمحات کو یاد کیا مگر یہ ناسٹیلجیا باہمی ستائش کے چند جملوں تک ہی محدود رہا۔ زیادہ تر گفتگو دفاعی اور کاروباری معاملات پر ہوئی۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے دفاعی اور تجارتی معاملات میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ نریندر مودی F-35 سٹیلتھ فائٹر جیٹ خریدنا چاہتے تھے ۔ ان کی یہ خواہش پوری ہو گئی مگر اس سے متعلق معاہدے پر رواں سال کے آخر میں دستخط ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے بھارت کو ٹیرف میں چھوٹ دینے کی حامی نہ بھری اور یوں وہ اپنی اس پالیسی پر قائم رہے کہ جو ملک امریکی مصنوعات پر جتنا ٹیرف لگاتا ہے اسے اب اپنی برآمدات پر بھی اتنا ہی ٹیرف دینا پڑے گا۔
نریندر مودی کو صدر ٹرمپ کا یہ مطالبہ بھی ماننا پڑا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والا تجارتی عدم توازن ختم کرنے کے لیے بھارت امریکہ سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس خرید ے گا۔ ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق2023 میں دونوں ممالک کی کل تجارت 190.1 بلین ڈالر تھی اس میں اانڈیا کی برآمدات 120بلین ڈالرز سے کچھ زیادہ تھیں جبکہ امریکہ نے ستر ار ب ڈالرز کی مصنوعات انڈیا کو فروخت کی تھیں۔ اس تجارت میں انڈیا نے امریکی مصنوعات پر بھاری ٹیرف لگایا تھا ۔ اس کے جواب میں امریکہ نے فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوے انڈیا کی درآمدات پر بہت کم ٹیرف وصول کیا تھا۔ اب مساوی ٹیرف اور امریکی تیل اور گیس کی بھاری قیمتوں کی جو ادائیگی انڈیا کو کرنا پڑے گی اس پر بھارتی میڈیا میں ہونے والی شدید تنقید کو پڑھ کر ٹرمپ مودی ملاقات کی اصل کہانی سمجھ میں آتی ہے۔ بھارتی میڈیا کے گلے شکووں کو اگر درست مانا جائے تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مرتبہ نریندر مودی سے ہاتھ ہو گیا ہے۔ ’’ ہاؤدی مودی‘‘ بھی نہ ہوا اور بھاری بھرکم بل بھی حوالے کر دیے گیے۔