img

ٹرمپ کہ نامزدگی ۔ پاکستان کی مجبوری

حکومت پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نوبل امن ایوارڈ کے لئے نامزدگی کا مطالبہ ایک ایسے وقت کیا جب وہ از خود ایران اور اسرائیل جنگ میں نہ صرف فریق بنا ہوا ہے بلکہ وہ اسرائیل سے زیادہ اس جنگ کی ذمہ داری اور سرپرستی بھی قبول کر رہا ہے ۔

 حکومت پاکستان کے اس مطالبے سےچند روز قبل فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے دورہ امریکہ کے دوران صدر ٹرمپ کی خصوصی مہمان نوازی کا شرف بھی حاصل کیا ہے ۔ حکومت پاکستان کے سرکاری  عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2025 کی چار روزہ جنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرکے اپنے آپ کو امن کا داعی قرار دیا ہے۔ اسی بنیاد پر انہیں نوبل امن ایوارڈ کے لئے نامزدگی کا اہل سمجھا گیا ہے ۔

 حکومت پاکستان کے اس اعلان پر ابھی تک کسی بھی حلقے یا طبقے کی جانب سے ستائش تو نہیں دیکھی گئی ہے البتہ اس پر تنقید کا سلسلہ عالمی سطح پر جاری ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو ایران اسرائیل جنگ پر تو نام نہاد اسلامی امہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات ،عراق اور مصر  سمیت درجنوں اسلامی ممالک میں پہلے سے امریکی اڈے موجود ہیں۔  نائن الیون کے واقعے یا ڈرامے کے بعد امریکہ نے پاکستان کے جیکب آباد  سمیت کئی ایک شہروں میں اڈے قائم کئے تھے ۔ ان اڈوں کی بندش کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان تو سامنے نہیں آیا  تاہم ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب یا اتوار کو علی الصبح ایران کی تین نیوکلیئر تنصیبات پر ہونے والے امریکی حملوں میں پاکستان کی سرزمین استعمال نہیں ہوئی ہے ۔ ہم کہہ سکتے ہیں خاموشی بھی نیم رضامندی ہی ہوتی ہے ۔

 کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ انقلاب سے قبل شہنشاہ ایران امریکی اتحادیوں میں سرفہرست تھا مگر اس کی وفاداری سابقہ سوویت یونین کے خلاف امریکی عزائم کی تکمیل میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکی تھی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ شہنشاہ ایران کے خلاف انقلاب برپا کرنے والے ایران ہی کے جمہوریت پسند اور مترقی ذہنیت کے حامل سیاسی افراد تھے مگر انقلاب اس وقت ہائی جیک ہوا جب امریکی اتحادی ملک فرانس میں خودساختہ جلاوطنی گزارنے والے آیت اللہ امام خمینی کا تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر والہانہ استقبال کیا گیا اور یوں ایک روشن خیال اور ترقی پسند انقلاب کو مذہبی انتہا پسند اسلامی انقلاب میں تبدیل کیا گیا ۔ ظاہری طور ہر امام خمینی سے لیکر اب تک ایران امریکہ کا سخت مخالف رہا ہے مگر اندرونی طور پر ایران کے اس اسلامی مذہبی انقلاب سے امریکہ کو بہت بڑا فائدہ ملا  ۔ ایران کے افغانستان کی جنگ میں یا عراق ،مصر اور لیبیا کے خلاف  جارحیت میں کردار نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بہت بڑا فائدہ پہنچایا ہے ۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روز اوّل سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کسی مذہبی ،سیاسی ، علاقائی یا سفارتی معاملے پر نہیں ہے بلکہ سعودی عرب کے امریکہ کے ساتھ تعلقات اور قربت کی وجہ سے ہے ۔ عراق کے صدر شہید صدام حسین نے امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی  میں ایران اور پاکستان سمیت کئی ایک اسلامی ممالک سے بہت سے تعلقات وابستہ کیے تھے مگر یہ تمام امریکہ کے سامنے بے بس تھے اور اسی وجہ سے صدام حسین کے علاوہ لیبیا کے معمر قذافی ۔ مصر کے حسنی مبارک اور حال ہی میں شام کے بشار الاسد کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو اس سے قبل ایران کے شہنشاہ رضا شاہ کے ساتھ ہوا تھا ۔ بہر حال امریکی کتابوں اور فلسفوں میں کوئی بھی مستقل دوست یا دشمن نہیں رہتا مگر ایران کا اسلامی انقلاب اور حکومت بہت کچھ کرنے کے  ( افغانستان ، عراق ، لیبیا اور مصر کے خلاف امریکی جارحیت یا دراندازی میں خاموش تماشائی رہنے ) کے باوجود اب بھی امریکی مخالفین میں سرفہرست ہے۔ اس وقت ایران نہ صرف اپنی بقاء بلکہ امت مسلمہ کی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ اس جنگ میں ایران مکمل طور پر تنہائی کا شکار ہے مگر حکمرانوں کی بجائے نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ بہت سے مغربی ، یورپی اور مشرق بعید کے عوام ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان کے حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے وفادار مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی معنی خیز خاموشی بھی ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جارحیت کی توثیق کے سوا کچھ نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے سے قبل پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ میں ایران نے پاکستان کے موقف کی تائید کی تھی جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد پاکستان کی خاموشی نیم رضا مندی کے طور پر عالمی سطح پر موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔

امریکہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ روز اوّل سے اسرائیل کےموقف کی تائید کرتے رہے ہیں  اور ایران کو دھمکی پر دھمکی دے رہے ہیں۔  امریکہ کے ایران اسرائیل جنگ میں کودنے سے   محض  چند گھنٹے قبل پاکستان کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن نوبل انعام کے لئے نامزدگی کے مطالبے نے پاکستانی عوام بلکہ امریکہ سمیت پوری دنیا میں امن کے خواہاں عوام کو انگشت بدنداں کر دیا ہے ۔ حکومت پاکستان یا ریاست پاکستان نے  پہلی بار ایسا نہیں کیا ہے بلکہ ماضی میں بھی پاکستان نے ہر بین الاقوامی سطح کے واقعات پر امریکہ کا ساتھ دیا ہے ۔یہ پاکستان کے ریاستی اداروں کی کمزوری اور مجبوری نہیں بلکہ اس حکمت عملی کا حصہ ہے جو برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں سے ورثے میں ملی ہے ۔ اس وقت پاکستان کی سیاسی قوتیں اسی طرح بے بس ہیں جس طرح 70 کی دہائی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور 90 کی دہائی کے اواخر میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف تھے ۔ بہتر یہ ہوگا کہ میاں شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری خاموشی کا روزہ توڑ کر اقتدار کسی اور بلکہ ان افراد کے حوالے کردیں جو ایوب، یحییٰ خان  ،ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے طرح  کردار ادا کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو چکے ہیں۔

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA