موسم ٹھنڈا ہے مگر پاکستان میں سیاسی اور شادیوں کا ٹمپریچر عروج پر ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق یہ اموات کا سیزن ہے۔ بحر حال جہاں دو چار لوگ اکھٹے ہوئے، سیاسی تجزیہ نگاری کا اغاز ہونے لگتا ہے۔ بلکہ مجھے تو حامد میر، کامران خان اور سلیم صافی پر ترس آنے لگتا ہے کہ وہ ویسے ہی اتنی محنت اور خواری کرتے ہیں، یہاں ہر گھر، گلی، محلے میں ایسے ایسے سیاسی ماہرین آپ کو سننے کو ملیں گے کہ الاماں۔ کوئی کہتا ہے نواز شریف نے پاکستان کو ترقی کے اسمان پر پہنچا دیا اور عمران خان نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے، دوسری طرف سے جذباتی انداز میں پی ٹی آئی کا حمایتی نواز شریف کو برا بھلا کہتے ہوئے خان کے تعریفوں کے پل باندھ دیتا ہے، کوئی اے این پی کی انقلابی سیاست کا ذکر کرتا ہے تو کوئی پیپلز پارٹی کے روٹی کپڑا اور مکان کا نظریہ پیش کرتا ہے۔
اس بحث و مبحاحثے میں بعض اوقات بات بہت آگے نکل جاتی ہے، گالی گلوچ لڑائی جھگڑے سے لے کر مرنے مروانے تک حالات پہنچ جاتے ہیں۔
گذشتہ روز ایک دلخراش واقعہ بھی سننے کو ملا۔ پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھ بیر میں ایک باپ نے گھر پر پی ٹی آئی کا جھنڈا لگانے پر اپنے سگے بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ حالت ہے ہماری سیاست کی۔ دل خون کے آنسو روتا ہے، دنیا کی قومیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں اور ہم نے ابھی تک زمین پر رہنا نہیں سیکھا۔
سیاسی طور پر ہم اتنے ’’آزاد’’ ہیں کہ انتخابات میں ساٹھ فیصد سے زیادہ امیدوار آزاد کھڑے ہیں۔ ہماری اس سیاسی ’’ازادی’’ کے اثرات الیکشن کے نتائج، نئی حکومت اور آئندہ پانچ سال تک دیکھنے کو ملیں گے۔ انتخابات کے فوراً بعد ہر پارٹی اپنی عددی برتری کا مظاہرہ کرنے کے لئے ان ’’آزادوں’’ کی منڈی کے چکر لگائے گی اور جو جتنا زیادہ مال خریدے گا، اقتدار کا تاج اسی کے سر پر سجے گا۔ عوام بیچارے زندہ باد، مردہ باد کے نعروں میں بھول چکے ہیں کہ ان ’’آزادوں’’ کی غلامی کی قیمت ان کو چکانی ہو گی۔ مہنگائی، بے روزگاری، صحت، گیس، بجلی، تعلیم کے مسائل بڑھتے جائیں گے،
آٹھ فروری کے بعد اقتدار کی جنگ شروع ہو گی، یہ جنگ خبر نہیں کتنی طویل ہو گی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے، سابق فاٹا میں بسنے والے لوگوں کو آزاد قبائل کہا جاتا تھا، قبائل چیخ چیخ کر کہتے تھے کہ آزاد نہیں، غلام ہیں، ہمیں اس آزادی سے چھٹکارا دو، نہیں چاہیے ہمیں ایسی آزادی۔ آخرکار سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں انضمام کی صورت میں انہیں ایف سی آر جیسے ناسور سے آزادی ملی۔
عالمی سیاسی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قوموں کی ترقی میں زیادہ حصہ سیاسی شعور کا ہوتا ہے۔ دو یا تین سیاسی پارٹیاں ہی اپنے نظریات اور سیاسی سوچ کے بل بوتے پر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتی ہیں۔ ہماری سیاسی ناکامی کی بڑی وجوہات موروثی سیاست اور سیاسی جماعتوں میں غیر جمہوری کلچر ہے۔ جب تک ملکی سیاست میں یہ کمزوریاں رہیں گی یہ ’’آزاد’’ غلام سسٹم کو بلیک میل کرتے رہیں گے۔ اس حوالے سے آغا شورش کاشمیری مرحوم کا ایک مشہور شعر ہے:
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں