میں نے جب پہلی بار یہ سنا کہ دنیا کے بہت سے ملک ایسے ہیں جن کے کئی شہر دیگر ممالک کے شہروں کے جڑواں یعنی ”ٹوئن سٹی“(TWIN CITY) ہیں تو مجھے بہت حیرانی ہوئی۔ جڑواں شہروں سے جڑواں بچوں کی طرف دھیان جاتا ہے جنہوں نے ایک ہی ماں کی کوکھ سے جنم لیا ہوتا ہے۔ جڑواں شہروں کے لئے ایسے کسی قدرتی کرشمے یا مماثلت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جڑواں شہروں کی اصطلاح کا آغاز دو امریکی شہروں مینیا پولس Minneapolis اور سینٹ پال کی نسبت سے ہوا۔ یہ دونوں شہر ایک دوسرے سے متصل ہیں اور اپنی ایک جیسی ثقافتی، تعلیمی اور سیاسی اقدار کی وجہ سے انہیں ’’ٹوئن سٹی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں شہر دریائے مسی سیپی Mississippiکے کناروں پر آباد ہیں۔
پاکستان کے دو شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کی طرح دنیا کے بہت سے ممالک کے اپنے ایک جیسے شہروں کو جڑواں شہر قرار دیا جاتا ہے لیکن کئی مختلف ممالک کے شہروں کو بھی آپس میں جڑواں شہروں کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ دو مختلف ممالک کے شہروں کو جڑواں قرار دینے کے لئے کسی قانون یا ضابطے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ عام طور پر دو شہروں کے میئر یا وہاں کے مکین اور بااثر لوگ ایک دوسرے سے ہم آہنگی اور خیرسگالی کے لئے یہ کام کرتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر کے 195ممالک کے 17ہزار سے زیادہ شہر ایسے ہیں جن کو جڑواں قرار دیا گیا ہے۔برطانوی دارالحکومت لندن 9بڑے شہروں کا ٹوئن سٹی ہے جن میں چین کے شہروں بیجنگ اور شنگھائی کے علاوہ برلن، بوگوٹا (کولمبیا)، کوالالمپور، ماسکو، نیویارک، سین ٹیاگو(چلّی) اور ٹوکیو شامل ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں ہمارے دوست شوکت بٹ (مرحوم) نے گلاسگو کو لاہور کا جڑواں شہر بنانے کے لئے بہت متحرک ہو کر کام کیا تھا۔ بٹ صاحب اُن دِنوں گلاسگو کے میئر تھے اور اسکاٹ لینڈ میں آباد پاکستانی کمیونٹی کی ہردلعزیز شخصیت تھے۔ بے مثال شاعر قتیل شفائی کے داماد شوکت بٹ کا آبائی تعلق چونکہ لاہور سے تھا، اس لئے وہ گلاسگو اور لاہور کو ٹوئن سٹی کا درجہ دلوانے پر بہت سرشار اور نازاں تھے۔ اللہ اُن کے درجات بلند کرے۔ ہر وقت اپنے لوگوں کی مدد اور شاعروں ادیبوں کی پذیرائی پر آمادہ رہنے والے شوکت بٹ مجھے اکثر یاد آتے ہیں۔ گلاسگو کے علاوہ بھی کئی برطانوی شہر پاکستان کے دیگر شہروں سے جڑواں قرار دیئے جا چکے ہیں جن میں گوجر خان کو ریڈچ اور راچڈیل کو ساہیوال کے ٹوئن سٹی کے درجے پر فائز کیا جا چکا ہے۔
ایسے اوورسیز پاکستانی جو وطن سے دوری کے باعث ہجرت کا کرب سہتے اور ناسٹیلجیا کی کیفیت سے گزرتے ہیں، اُن کے آبائی شہروں کا ایسے شہروں سے جڑواں قرار پانا، جہاں وہ رہتے ہیں، ایک خاص طرح کی خوشی کا باعث ہوتا ہے۔ پردیس میں رہنے والوں کے لئے ایسی خوشیاں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ صرف یہی نہیں، بہت سے پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن برطانیہ میں اپنے اسٹورز اور ریسٹورنٹس کے نام بھی اپنے شہروں اور علاقے کی نسبت سے رکھ لیتے ہیں۔ بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک پاکستانی تاجر نے لندن میں اپنے ریستوران کا نام اپنے گاؤں (چک) کے نام پر رکھ لیا تھا اور یہ ریستوران اس قدر مقبول ہوا کہ یہاں پاکستان اور انڈیا کی نامور شخصیات (سلیبریٹز) لذیذ اور دیسی کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے آتی تھیں۔
یونائیٹڈ کنگڈم میں بہت سی سڑکوں اور علاقوں کے نام بھی پاکستان اور انڈیا کے حوالے سے رکھے گئے ہیں۔ یہ نام کب اور کیونکر رکھے گئے، اس کی الگ سے ایک تاریخ ہے۔ مجھے یہ جان کر بہت حیرانی ہوئی کہ میں ساؤتھ ایسٹ لندن کے جس علاقے میں کام کرتا ہوں وہاں ایک سڑک کا نام ستلج روڈ ہے۔ اب لندن کے گوروں کو کیا معلوم کہ اس نام کا ایک دریا میرے شہر بہاول پور میں بہتا ہے جس سے میری بہت سی خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔ انگریزوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ملکہ وکٹوریہ کی نسبت سے میرے شہر میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال 1906ء سے قائم ہے۔ اس ہسپتال کی بنیاد 1876ء میں ایک سول ہاسپٹل کے طور پر رکھی گئی تھی۔ اسی طرح یہاں شہر کے وسط میں ایک شاندار اور وسیع ڈرنگ اسٹیڈیم بھی موجود ہے جو امیر آف بہاول پور نواب صادق عباسی پنجم کے دوسرے انگریز وزیر اعظم سرجان ڈرنگ (1948-1952ء) کے نام پر بنایا گیا تھا۔
نواب آف بہاول پور کے پہلے انگریز وزیراعظم سررچرڈ مارش کرافٹن (1942-1947ء) تھے۔ بہاول پور ریاست کی بنیاد 1748ء میں بہاول خان عباسی نے رکھی تھی۔ 22فروری 1833ء کو نواب آف بہاول پور سوئم نے سب سڈری الائنس (SUBSIDIARY ALLIANCE) کے تحت برطانوی حکومت سے ایک معاہدہ کیا جس کے بعد بہاول پور کو ایک شاہی ریاست یعنی پرنسلی اسٹیٹ (PRINCELY STATE) کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ نواب سر صادق محمد خان عباسی جن کی پیدائش 29ستمبر 1904ء کو قلعہ ڈیراور میں اور وفات 24مئی 1966ء کو لندن میں ہوئی، ریاست بہاول پور کے آخری فرمانروا تھے۔ نواب سر صادق عباسی ابھی ڈھائی برس کے تھے کہ ان کے والد بہاول خان عباسی پنجم یمن کے ساحلی شہر عدن میں دورانِ سفر انتقال کرگئے۔
سر صادق عباسی کا بچپن انگریز اور برطانوی حکومت کی نگرانی اور تربیت میں گزرا۔ وہ ایچی سن کالج میں زیرتعلیم رہے۔ عسکری ٹریننگ کی وجہ سے انہوں نے برطانوی فوجی افسر کے طور پر 1919ء کی تیسری افغان جنگ میں حصہ لیا جس کے بعد 1922ء میں انہیں سر کا خطاب بھی دیا گیا۔ نواب سر صادق عباسی رولز رائس کاروں کے شوقین تھے۔ انہیں لندن شہر بہت پسند تھا۔ انہوں نے متعدد بار برطانوی دارالحکومت کے دورے کئے اور اپنی زندگی کے بہت سے شب و روز یہاں گزارے۔ وہ انگریز طرزِ زندگی اور ڈسپلن سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے برطانیہ کی طرز پر ریاست بہاول پور کو فلاحی مملکت بنانے کے لئے بہت سے عملی اقدامات اُٹھائے۔ خاص طور پر عام لوگوں کی تعلیم اور صحت کے معاملات کو بہتر بنانے کے لئے ریاستی وسائل کو بروئے کار لانے کی ہرممکن کوشش کی۔ برطانوی حکومت اور شاہی خاندان سے اُن کے بہت سے خوشگوار اور پُروقار تعلقات تھے۔ اُن کی آخری بیگم لنڈا سیس (LINDA SYSCE) برطانوی شہری تھیں جن سے اُن کے تین بیٹے پیدا ہوئے جن کی پرورش برطانیہ میں ہوئی لیکن معلوم نہیں اب وہ کس حال میں ہیں۔
نواب آف بہاول پور سر صادق عباسی نے اپنے محلات اور ریاست میں برطانوی طرز پر بہت سی اشیا کو متعارف کروایا۔ مجسموں اور فوّاروں سے لے کر عمارتوں کے طرزِ تعمیر میں بھی اِن کی جھلک نظر آتی ہے۔ صادق گڑھ پیلس اور احمد پوری گیٹ کے باہر سرکلر روڈ کے راؤنڈ اباؤٹ پر نصب فوارے لندن کے بکنگھم پیلس کے باہر اور ٹریفالگر اسکوئر پر لگے فواروں سے مماثلت رکھتے ہیں جنہیں خصوصی طور پر برطانیہ سے بہاول پور امپورٹ کیا گیا تھا۔ لندن سے نواب صاحب کے لئے خریدی گئی رولز رائس اور دیگر قیمتی گاڑیاں ان کے علاوہ ہیں۔ نواب سر صادق عباسی کا لندن اور انگریزوں سے جو تعلق رہا ہے، اس نسبت سے بہاول پور اور لندن کو جڑواں شہر قرار دیا جانا چاہئے۔ لندن اور برطانیہ کے دیگر شہروں میں بہاول پور کے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ مل کر کوشش کریں کہ لندن اور بہاول پور کو جڑواں شہروں کا درجہ ملے۔