img

چہرے نہیں نظام کو بدلو

 

الیکشن ہو چکے ہیں، کوئی جیتا ہے اور کوئی ہارا گیا، بہت سے ایسے بھی ہیں جو ‘‘جیت’’ کے بھی ہار چکے اور بعض ‘‘ہار’’ کے بھی جیت چکے ہیں۔ الیکشن 2024 کی خاص بات یہ ہے کہ جیتنے والے بھی انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کر رہے اور ہارنے والے بھی سڑکوں پر ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ محمد نواز شریف کی پاکستان آمد پر تمام سیاسی پنڈت اس بات پر متفق تھے کہ اقتدار کا تاج انہی کے سر پر سجے گا تو کوئی یہ پیشگوئیاں بھی دیتے نہیں تھکتا تھا کہ وزیراعظم کی مسند پر بلاول بھٹو زرداری کو بھٹایا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ‘‘فیصلہ ہو چکا ہے’’ لیکن انتخابی نتائج نے سب کو حیران کر کے رکھ دیا۔

 پی ٹی آئی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ بمشکل کوئی سیٹ جیت پائے گی۔ آٹھ فروری کی شام کے بعد جب رزلٹ آنا شروع ہوئے تو سب پیشگوئیاں اور تجزیے الٹے ثابت ہوئے۔ پی ٹی آئی ملک کی بڑی جماعت کے طور پر سامنے آنے لگی۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف، ان کی فیملی اور پارٹی کی سینئر قیادت ‘‘وکٹری سپیچ‘‘ کی تیاری کر چکی تھی اور عوام کے ساتھ فتح کے جشن منانے نکل چکے تھے مگر حالات کی نزاکت اور نتائج توقعات کے برعکس پاکر ان کو اپنا ارادہ ترک کرنا پڑا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمران خان کے ووٹر نے خود بھی ووٹ ڈالا اور گھر کی خواتین اور بزرگوں کو بھی پولنگ سٹیشن تک پہنچایا۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کی قیادت مطمئن تھی اور انہوں نے انتخابی کمپین پر زیادہ توجہ نہیں دی جس کا اقرار پارٹی کے سنیئر رہنما خرم دستگیر خان ایک ٹی وی شو میں کرچکے ہیں۔ نواز شریف مانسہرہ میں تو ہار چکے لیکن مخالفین کے مطابق لاہور میں بھی انکی پوزیشن کچھ زیادہ مستحکم نہ تھی۔ انہی حالات کے نتیجے میں نو فروری کے شروع ہوتے ہی مبینہ طور پر نتائج کو روکنا پڑا۔

جن انتخابات کو آٹھ فروری کو شفاف قرار دیا جا چکا تھا اگلے ہی دن یعنی نو فروری کو انہی انتخابات کے نتائج کو مشکوک اور جعلی قرار دیا گیا۔ جس میں دلیل کے طور پر یہ موقف اپنایا گیا کہ پورے کے پی، اندرون سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے نتائج موصول ہو چکے تھے لیکن اسلام اباد، لاہور، کراچی، حیدرآباد اور دوسرے شہری حلقوں کے نتائج وقت پر نہ پہنچ سکے۔

انتخابات کے بعد حکومت بنانے کا وقت آ چکا ہے۔ مسلم لیگ کو سادہ اکثریت نہ ملنے کی وجہ سے میاں نواز شریف نے وزیراعظم کا عہدہ قبول نہ کرتے ہوئے میاں شہباز شریف کو نامزد کیا ہے اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے مریم نواز کے نام کا اعلان کیا ہے۔ اسی الیکشن کے دوران ایم کیو ایم نے پہلے ہی سے میڈیا پر قومی اسمبلی میں اپنی سترہ نشستوں پر کامیابی کا عندیہ دے دیا تھا جس پر پورا پاکستان حیران و پریشان تھا۔ دوسری جانب مرکز میں پی ٹی آئی اور جمعیت علما اسلام ف متحدہ اپوزیشن کے طور پر سامنے آئے کے لئے پر تولتے ہوئے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لئے پوری تیاری میں ہیں۔  

پورے انتخابی عمل، نتائج، آنے والی حکومت اور اپوزیشن کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یقینی طور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عوام کی زندگی میں بدلاؤ کے کتنے امکانات ہیں؟ آج عام آدمی اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ جب تک چہروں کی بجائے نظام نہیں بدلے گا، تبدیلی ناممکن ہے کیونکہ سب سسٹم کی خرابی ہے۔ 

نوٹ:گرین سٹیزن میڈیا تمام تحریریں مفاد عامہ اور نیت نیتی کے تحت شائع کرتا ہے تاہم ان تحریروں کا مواد لکھنے والے کی اپنی تحقیق، مشاہدے، معلومات اور نقطہ نظر کا غماز ہوتا ہے اور ادارے کا ان کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔
GREEN CITIZEN MEDIA