ہولی ؛ رنگوں سے مزین محبت کا تہوار ـ آج ہولی ہے اور دنیا بھر میں برصغیر کے باشندے رنگوں سے کھیل رہے ہیں ـ ایسے میں آئیے ہولی پر مبنی چند خوب صورت فلمی گیتوں کو یاد کرتے ہیں ـ ۔
ہولی آئی رے کنہیا
ہدایت کار محبوب خان کی عظیم کلاسیک "مدر انڈیا" (1957) کے اس گیت کے موسیقار جناب نوشاد علی جب کہ نغمہ نگار شکیل بدایونی ہیں۔ ـ ہولی کے تہوار کی طرح یہ گیت بھی چنچل ہے۔ ـ اس گیت کی خاص بات یہ ہے کہ اسے لوک گیتوں کی طرح لکھا اور فلمایا گیا ہے۔ ـ
رنگ برسے بھیگے چُنر والی
فلم "سلسلہ" (1981) کا یہ گیت شاید ہولی پر بنے تمام گیتوں پر بھاری ہے۔ ـ اس میں جہاں ریکھا جی کا دلکش رقص دیکھنے کو ملتا ہے وہاں نغمہ سرا امیتابھ بچن بڑی بے حیائی سے ایک شادی شدہ عورت سے اپنے افیئر کا اعلان کر رہے ہیں۔

آج نہ چھوڑیں گے
کاکا راجیش کھنہ کا مست انداز اور آشا پاریکھ کے سنجیدہ تاثرات سے آراستہ یہ گیت بھی بے حد خوب صورت ہے۔ ـ فلم "کٹی پتنگ" (1970) کے اس گیت کو لتا جی اور کشور کمار کی آوازوں نے بلاشبہ امر کر دیا ہے۔ ـ
ہولی کے دن دل مل جاتے ہیں

خطرناک ڈاکو گبر سنگھ کی آمد سے بے خبر دیہی مرد و زن ہولی منا رہے ہیں۔ ـ ہیما مالینی دلکش انداز میں تھرک رہی ہیں۔ ـ جی بات ہو رہی ہے سدا بہار "شعلے" (1975) کی۔ ـ یہ گیت سننے کے ساتھ ساتھ ہیما مالینی کے غضب رقص کے باعث دیکھنے کے بھی قابل ہے۔ ـ
ارے جا رے نٹ کھٹ
ہدایت کار وی شانتا رام یقیناً اپنے دور سے بہت آگے تھے۔ ـ اس کا ایک ثبوت فلم "نورنگ" (1959) کا یہ گیت بھی ہے۔ ـ اس گیت کی موسیقی کو خالص ہندوستانی انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ ـ ہولی کی مناسبت سے کلاسیک چھیڑچھاڑ کا بھی بھرپور مزہ ملتا ہے۔ ـ جیسے جب لڑکی کہتی ہے "میں دوں گی تجھے گالی رے" تو لڑکا شرارت سے کہتا ہے "موہے میٹھی لگے توری گالی رے"۔
سوہنڑی سوہنڑی اکھیوں والی
میرے خیال سے رواں صدی میں شاید ہی اس سے بہتر کوئی ہولی کا نغمہ ہو۔ ـ فلم "محبتیں" (2000) کے اس گیت میں چھیڑ چھاڑ، رنگ، محبت، طنز اور دلکش رقص کا حسین امتزاج نظر آتا ہے ـ۔ ہدایت کار یش چوپڑا رنگوں کے استعمال میں ایک معیار کا درجہ رکھتے ہیں ۔ـ اس گیت میں بھی انہوں نے اپنے معیار کو برقرار رکھا ہے۔ ـ
ہولی کھیلے رگھویرا
فلم "باغبان" (2003) کے اس گیت میں امیتابھ بچن نے بھی ادت نارائن کی آواز کا ساتھ دیا ہے۔ ـ اس گیت کی یہی خوبی اسے خاص بناتی ہے ـ ۔اسے فیملی سونگ بھی کہا جاسکتا ہے کیوں کہ اس میں دادا، بیٹے، بہو اور پوتے پوتیاں سب رقص کناں ہیں۔ ـ
لائی ہے ہزاروں رنگ ہولی
مجروح سلطانپوری ایک ترقی پسند نغمہ نگار تھے۔ اس لئے ان کے نغموں میں سماج کے فرسودہ روایات پر گہری چوٹ بھی ملتی ہے۔ ـ فلم "پھول اور پتھر" (1966) کے اس ہولی گیت میں جہاں خوشی و شادمانی ملتی ہے وہاں بیوہ کا دکھ بھی نظر آتا ہے جس کو سماج ہولی کھیلنے اور رنگوں میں رنگنے سے منع کرتا ہے۔ ـ مجروح بیوہ کی جانب اشارہ کرتے کہتا ہے ،
تن کے رنگ کو سارا جگ جانے
من کے رنگ کو کوئی نہ پہچانے
انگ سے انگ لگانا
فلم "ڈر" (1993) کے اس گیت میں بھی ہدایت کار یش چوپڑا نے رنگوں کا بہترین استعمال کیا ہے۔ ـ ہولی خوشی کا تہوار ہے، اس گیت میں بھی خوشی اور رقص موجود ہے لیکن جو چیز اس گیت کو خاص بناتی ہے وہ شاہ رخ خان کا غصیلا چہرہ اور ان کا آمادہ فساد تاثر ہے۔ ـ شاہ رخ خان کے غصیلے تاثرات کو ہولی سے ملا کر ہدایت کار نے اس گیت کو زبردست معنویت بخشی ہے۔ ـ

لہو منہ لگ گیا
یہ گیت خالصتاً ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی اسٹائل میں فلمایا گیا ہے۔ ـ خوب صورت و دیدہ زیب سیٹ ڈیزائن، زرق برق کاسٹیوم اور تھوڑی سی "بے حیائی" ـ فلم "رام لیلا" (2013) کے اس گیت میں رنویر سنگھ اور دیپکا جی کو خاموشی کی زبان میں ہولی کے رنگوں کے ذریعے رومانس کرتے دکھایا گیا ہے۔ ـ کہنا پڑے گا اس گیت کو دیپکا کی اداؤں نے چار چاند لگا دیے ہیں۔ ـ
بدری کی دلہنیا
اس گیت کو سننے اور دیکھنے کے بعد شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہولی کے مقامی روایات اب مغربی انداز کے سامنے شکست کھا چکے ہیں۔ ـ یوں تو یہ ایک پاپولر ہولی سونگ ہے اور آج کی نوجوان نسل کو متاثر بھی کرتا ہے مگر اس میں موجود چیخ و پکار اور رنگوں سے بے اعتنائی پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ ـ فلم "بدری ناتھ کی دلہنیا" (2017) کے اس گیت میں صرف عالیہ بھٹ کی شوخی اور تیز رقص ہی سراہے جانے کے قابل ہیں ـ۔