پاکستان تحریک انصاف نے راولپنڈی میں جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارٹی رہنماؤں کو احتجاج ختم کرنے اور کارکنوں کو پُرامن طور پر منتشر ہونے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلٰی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور راستوں کی بندش کی وجہ سے اپنے قافلے کے ہمراہ لیاقت باغ راولپنڈی نہ پہنچ سکے۔
اُنہوں نے برہان انٹرچینج حسن ابدال سے ہی پشاور واپس جانے کا اعلان کیا۔پنجاب پولیس کی جانب سے وزیراعلٰی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے قافلے کو برہان انٹرچینج پر روک دیا گیا تھا۔
برہان انٹرچینج پر پنجاب پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان تصادم بھی ہوا۔کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔
اس موقعے پر کارکنوں سے خطاب میں علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا کہ ہم یہاں سے واپس پشاور روانہ ہوں گے۔ واپسی پر کارکنوں کے لیے کھانے کا انتظام ہوگا۔ کارکن واپسی کا انتظام کرلیں۔
انہوں نے کہا کہ ’کارکنوں نے جن پولیس اہلکاروں کو پکڑا تھا ہم نے انہیں واپس کردیا ہے۔یہ حکومت ہمیں آئینی حق نہیں دیتی، ہمارے اوپر پہلے آنسو گیس کی شیلنگ اور پھر فائرنگ کی گئی۔
وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا حکم تھا کہ ہر صورت احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔راولپنڈی میں وقت ختم ہوگیا تو پھر ہم نے یہیں احتجاج کیا۔