عوامی نیشنل پارٹی نے منرلز اینڈ مائنز ایکٹ 2025 مسترد کر دیا

عوامی نیشنل پارٹی نے منرلز اینڈ مائنز ایکٹ 2025 مسترد کر دیا
جمعه 11 اپریل 2025 18:13

عوامی نیشنل پارٹی نے  منرلز اینڈ مائنز ایکٹ 2025 کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے باچا خان مرکز پشاور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز کیلئے 2017 کا ایک جامع قانون پہلے سے موجود ہے، نئے قانون کی ضرورت ہی نہیں

انہوں نے کہا کہ منرلز اینڈ مائنز ڈیپارٹمنٹ نے اس بل پر 73 اعتراضات جبکہ مائنز اینڈ منرلز ایسوسی ایشن نے 47 اعتراضات اٹھائے ہیں اورصوبائی حکومت کی جانب سے ان اعتراضات کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن یقین دہانی کے باوجود کسی بھی ترمیم کے بغیر تیار ڈرافت کو کابینہ سے منظور کرکے اسمبلی میں پیش کیا گیا

 انہوں نے کہا کہ حکومت کے اپنے اراکین بھی اسمبلی میں پیش ہونے والے بل سے بے خبر ہیں ۔صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے یہ والا بل اٹھارہویں آئینی ترمیم کے خلاف ہے۔اٹھارہویں آئینی ترمیم اور پاکستان ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں

انہوں نے کہا کہ صوبوں میں مایوسی ختم کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں نے ملکر اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کرائی تھی ،ماضی میں صوبائی خودمختاری سے انکار کی بدولت پاکستان دولخت ہوکر مشرقی پاکستان کھو چکا ہے۔آئینی طور پر قدرتی وسائل پر پہلا حق اور اختیار اس سرزمین پر بسنے والی اقوام کا ہے

ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی میں بھی ہمارے وسائل کو لوٹا گیا اور یہاں سے غیر آئینی طور پر لے جایا گیا، اب اس ایکٹ کی شکل میں اس عمل کیلئے آئینی جواز بنایا جارہا ہے،عوامی نیشنل پارٹی اس عمل پر کسی طور خاموش نہیں رہے گی

میاں افتخار نے سوال اٹھایا کہ 2013سے لیکر اب تک پختونخوا بالخصوص وزيرستان مائنز اور منرلز کی لیزز کس کو ملے ہیں؟،ان لیزز کی مد میں صوبے اور پختونخوا کے منرلز اور مائنز ڈیپارٹمنٹ کو کیا ملا ہے؟  عوامی نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ اس کی تمام تفصیلات سامنے لائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون سازی کیلئے وفاقی منرلز ڈویژن نے صوبوں کو کس حیثیت میں خط لکھا  ہے؟اس ایکٹ سے صوبائی حکومت خود ہی اپنے وسائل کو ایس آئی ایف سی اور وفاقی حکومت کے اختیار میں دے رہی ہے۔ایس آئی ایف سی ایک ایگزیکٹو ادارہ ہے جو قانون سازی کے بغیر قائم کیا گیا ہے۔اٹھارہویں ترمیم کے بعد معدنیات جیسے معاملات پر وفاق یا اس کے ماتحت کسی ادارے کی صوبے کو ہدایت دینا ناجائز، غیر آئینی اور وفاقی نظام کے منافی ہے۔

GREEN CITIZEN MEDIA